أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰـكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا ۖ  يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰهُ وَيَقُوۡلُ الۡـكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِىۡ كُنۡتُ تُرٰبًا  ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرادیا ہے، اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا : اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا  ؏

النبا : ٠٤ میں آدمی کے متعلق مفسرین کے اقوال

یعنی جس عذاب سے تم کو ڈرایا گیا ہے اس کا آنا بہت قریب ہے، اگرچہ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ اس کا آنا بہت دور ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اَتٰٓی اَمْرُ اللہ ِ فَـلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ ط (النحل : ١)

اللہ تعالیٰ کا ( قیامت کے متعلق) حکم آپہنچا ہے اب جلدی نہ مچائو

اس کے بعد فرمایا : اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے۔ اس آیت میں آج کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) اس سے مراد تمام مخلوق ہے خواہ مومن ہو یا کافر، ہاتھوں کے بھیجنے کی تخصیص اس لیے کی ہے کہ انسان کے اکثر اعمال کے ہاتھوں سے ہوتے ہیں اور قیامت کے دن اس کا صحیفہ اعمال بھی اس کے ہاتھوں میں دیا جائے گا، اگرچہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے جو نیک ید بد کام کیے ہیں، ان میں اس کے ہاتھوں کا دخل نہ ہو، جیسا کہ بارش کو رحمت کہا جاتا ہے، اگر جانی نفسہ بارش رحمت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے بارش نازل ہوتی ہے۔

(٢) عطاء نے کہا : آدمی سے مراد اس آیت میں کافر ہے، کیونکہ مومن جس طرح اپنے ہاتھوں کے بھیجے ہوئے کاموں کو دیکھے گا، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے عفو اور اس کی رحمت کی طرف دیکھے گا اور رہا کافر تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا اور کسی چیز کو نہیں دیکھے گا تو وہ صرف اپنے ہاتھوں سے بھیجے ہوئے گناہوں کو دیکھے گا۔

(٣) حسن اور قتادہ نے کہا : اس آیت میں آدمی سے مراد مومن ہے کیونکہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کافر کہے گا۔ اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا، پس جب اس آیت کے دوسرے حصہ میں کافر مراد ہے تو ضروری ہوا کہ پہلے حصہ میں مومن مراد ہو، نیز اس لیے کہ جب مومن نے اپنے ہاتھوں سے نیک کام بھی بھیجے اور برے کام بھی تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف بھی ہوگا اور اس کی رحمت اور مغفرت کی امید بھی ہوگی، پس وہ منتظر ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، کافر تو اس کو یقین ہوگا کہ اس کو عذاب ہوگا، اس کو نہ کوئی تجسس ہوگا نہ انتظار۔

کافر کے قول ” کاش ! میں مٹی ہوجاتا “ کے متعلق روایات

کافر قیامت کے دن زندہ کیے جاناے سے پہلے مٹی تھا، اب جب وہ اپنا انجام دیکھ لے گا تو کہے گا : کاش ! وہ اسی طرح مٹی ہوجاتا اور اب اس کو عذاب نہ دیا جاتا، جیسا کہ ان آیات میں ہے : قیامت کے دن کافر کہے گا :

یٰـلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ ۔ (الحاقہ : ٧٢) کاش کہ موت ہی میرا کام تمام کردیتی۔

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُط وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللہ حَدِیْثًا۔ (النسائ : ٢٤ )

جس دن کفار اور رسول کی نافرمانی کرنے والے یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! انہیں زمین کے ساتھ ہموار کردیا جاتا اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔

امام ثعلبی متوفی ٧٢٤ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں اور اس کو امام الحسن بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٦١٥ ھ اور علامہ قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ نے بھی ان سے نقل کیا ہے :۔

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : قیامت کے دن روئے زمین کو پھیلا دیا جائے گا اور تمام جانوروں، حیوانوں اور حشرات الارض کو اکٹھا کیا جائے گا، پھر جانوروں سے قصاص لیا جائے گا، حتیٰ کہ اگر سینگھ والی بکری نے بغیر سینگھ والی بکری کے سینگھ مارا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، پھر جب ان کے قصاص سے فراغت ہوجائے گی تو پھر ان سے کہا جائے گا : اب تم مٹی ہو جائو، یہ منظر دیکھ کر کافر کہے گا : کاش ! میں بھی مٹی ہوجاتا۔

مقاتل نے کہا : اللہ تعالیٰ و حشی جانوروں کو، حشرات الارض کو اور پرندوں کو جمع فرمائے گا اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا، حتیٰ کہ بغیر سینگھ کی بکری کا سینگھ والی بکری سے قصاص لیاجائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : میں نے تم کو پیدا کیا اور تم کو بنو آدم کے لیے مسخر کیا اور تم اپنی پوری زندگی ان کی اطاعت کرتے رہے، اب تم اپنے پہلے حال کی طرف لوٹ جائو اور مٹی ہو جائو، پس جب کافر ان کی طرف دیکھے گا جو مٹی ہوگئے تو تمنا کرے گا اور یہ کہے گا : کاش ! میں دنیا میں خنزیر کی صورت میں ہوتا اور آج مٹی ہوجاتا۔

ابو الزناد عبد اللہ بن ذکوان بیان کرتے ہیں : جب اللہ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمادے گا اور اہل جنت کو جنت میں جانے کا حکم دے گا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا حکم دے گا تو اس وقت سب جانوروں سے اور مؤمنین جنات سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جائو، پھر وہ سب مٹی ہوجائیں گے، اس وقت کافر کہے گا : کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔

ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں کافر سے مراد ابلیس ہے کیونکہ اس نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مذمت کی تھی کہ ان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور اس پر فخر کیا تھا کہ اس کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے، پس جب وہ قیامت کے دن یہ دیکھے گا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں سے مؤمنوں کو کس قدر ثواب عطاء کیا جا رہا ہے اور وہ کس قدر سختی اور عذاب میں ہے تو ابلیس کہے گا : کاش ! میں مٹی ہوتا۔ ( الکشف والبیان ج ٠١ ص ١٢١۔ ٠٢١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٢٢٤١ ھ، معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٠٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٠٢٤١ ھ الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٤٦١۔ ٣٦١ )

سورۃ النبا کا اختتام

الحمد رب العلمین ! آج ٤ رب ٦٢٤١ ھ/٠١ اگست ٥٠٠٢ ء، بہ روز بدھ بعد نماز عصر سورة النبا کی تفسیر مکمل ہوگئی، الٰہ العلمین جس طرح آپ نے محض اپنے کرم سے سورة النبا کی تفسیر مکمل کرا دی، قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں، اپنی رحمت سے شرح صحیح مسلم کو اور اس تفسیر تبیان القرآن کو قیامت تک باقی، مقبول اور فیض آفریں رکھیں اور میری اور میرے والدین اور اس کتاب کے ناشر اور قارئین کی محض اپنے کرم سے مغفرت فرما دیں، دارین کی سختیوں سے مامون رکھیں اور دارین کی خوشیاں اور کامرانیاں عطاء فرمائیں۔

والحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد سید المرسلین خاتم النبین شفیع المذنبین واعلیٰ آلہٖ و اصحابہ وازواجہ وامتہ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 40