أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جَزَآءً مِّنۡ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا ۞

ترجمہ:

آپ کے رب کی طرف سے جزا ہوگی نہایت کافی عطاء ہوگی۔

النبا : 36 میں فرمایا : آپ کے رب کی طرف سے جزا ہوگی نہایت کافی عطاء ہوگی۔

جزا اور عطا میں بہ ظاہر تعارض کے جوابات

اس آیت میں جزاء اور عطا کے دو لفظ ہیں، جزا کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤمنوں نے دنیا میں جو نیک اعمال کیے تھے، اس کی وجہ سے وہ اس اجر وثواب کے مستحق ہیں اور عطا کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے استحقاق کے بغیر محض اپنے فضل و کرم سے ان کو اجر وثواب عطا فرما رہا ہے اور یہ تناقض ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ بندے جو اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں وہ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ وہ اس وجہ سے اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اجر وثواب کا وعدہ فرما لیا اور اللہ تعالیٰ کریم ہے، وہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔

اور اس آیت میں ” حساب “ کا لفظ ہے ” حساب “ کے دو معنی ہیں، ایک معنی ہے : کفایت، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جو اجر وثواب عطاء فرمائے گا وہ ان کو کافی ہوگا اور حساب کا دوسرا معنی ہے : گنتی کرنا، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو گنتی کے موافق اجر وثواب عطا فرمائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جزاء کے تین درجات بیان فرمائے ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا دس گنا اجر عطاء فرمائے گا (٢) اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا سات سو گنا اجر عطاء فرمائے گا (٣) اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا غیر متناہی اجر عطاء فرمائے گا، اور ان تین درجات کا ذکر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات میں ہے :

(١) مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا (الانعام : ٠٦١ )

جو شخص ایک نیکی لائے گا اس کو اس کی دس مثل اجر ملے گا۔

(٢) مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ (البقرہ : ١٦٢ )

جو لوگ اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی مثل ہے جو سات خوشے اگائے کہ ہر خوشے میں سو دانے ہیں۔

اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ ۔ (الزمر : ٠١) صرف صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 36