رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا الرَّحۡمٰنِ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 37
sulemansubhani نے Friday، 1 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا الرَّحۡمٰنِ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا ۞
ترجمہ:
جو آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کا رب ہے، نہایت رحم فرمانے والا ہے اس سے ( بغیر اجازت) بات کرنے کا کسی کو اختیار نہ ہوگا.
النبا : ۳۷ میں فرمایا : جو آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کا رب ہے، نہایت رحم فرمانے والا ہے، اس سے ( بغیر اجازت) بات کرنے کا کسی کو اختیار نہ ہوگا۔
بلا اذن شفاعت کرنے کی تحقیق
اس آیت میں جو فرمایا ہے : اس سے بات کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہوگا، اس کی تین تفسیریں ہیں :
(١) عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ سے خطاب نہیں کرسکیں گے، رہے مؤمنین تو وہ گناہ گار مسلمانوں کی شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔
(٢) قاضی نے کہا : اس سے مراد مؤمنین ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ مؤمنین کسی معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے خطاب نہیں کرسکیں گے، کیونکہ جب یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا تو ثابت ہوا کہ وہ کفار کو جو عذاب پہنچائے گا وہ اس کا عدل ہے، اور مؤمنین کو جو ثواب عطاء فرمائے گا وہ بھی اس کا عدل ہے اور وہ کسی کے حق میں کمی نہیں کرے گا۔ امام رازی فرماتے ہیں : یہ قول بھی پہلے قول کی بہ نسبت زیادہ حق کے قریب ہے کیونکہ اس سے پہلے اس آیت میں مؤمنین کا ذکر ہے، مشرکین کا ذکر نہیں ہے۔
مصنف کے نزدیک یہ دوسری تفسیر صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سے تو یہ لازم آئے گا کہ مؤمنین کسی کی شفاعت نہیں کرسکتے حالانکہ دلائل سے ثابت ہے کہ صالحین مؤمنین گناہ گار مسلمانوں کی شفاعت کریں گے اور اس آیت کا محمل یہ ہے کہ کوئی مومن اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا۔
(٣) اس سے مراد تمام آسمان اور زمین والے ہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی اللہ تعالیٰ سے کلام اور خطاب کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور جو شفاعت کی جائیں گی وہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی اجازت سے کی جائیں گی اور ان کا اس آیت سے کوئی تعق نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ملکیت کی نفی کی ہے اور کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے یا خطاب کرنے کا مالک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور احسان سے جس کو شفاعت کرنے کا موقع عطا فرمائے گا اور وہ اس شفاعت کا مالک نہیں ہوگا، البتہ ماذ ون ہوگا۔
باقی رہا یہ کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے خطاب کرنے کا مالک نہیں ہے ؟ اس کا حسب ذیل دلائل ہیں :
(١) اللہ کے ماسوا ہر چیز اللہ کی مملوک ہے اور مملوک اپنے مالک سے کلام کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
(٢) اگر یہ کہا جائے کہ مملوک اپنے مالک سے کلام کرنے کا مستحق ہے اور اس کا اللہ پر حق ہے تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 37