فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Friday، 1 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ ۞
ترجمہ:
پھر ان کی قسم جو ( نظام کائنات کی) تدبیر کرنے والے .
النزعت : ٥ میں فرمایا : پھر ان کی قسم جو ( نظام کائنات کی) تدبیر کرتے ہیں۔
” المدبرات “ کے مصداق میں اقوال مفسرین
امام الحسین بن مسعود الفرا البغوی المتوفی ٦١٥ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ’ ’ المدبرات امرا “ سے مراد فرشتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے چند امور ان کے سپرد کردیئے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے جس طرح ان کو حکم دیا ہے وہ اس کے مطابق عمل کرتے ہیں، عبد الرحمان بن سابط نے کہا : دنیا میں نظام عالم کی تدبیر چار فرشتے کرتے ہیں : حضرت جبریل، حضرت میکائیل، حضرت ملک الموت اور حضرت اسرافیل علیہم السلام۔
حضرت جبریل کے سپرد وحی لانا اور ہوائیں اور لشکر ہیں، حضرت میکائیل کے سپرد بارش اور زمین کی پیداوارکا نظام ہے اور حضرت ملک الموت کے سپرد روحوں کو قبض کرنا ہے اور حضرت اسرافیل کے سپرد صور پھونکنا ہے اور وہ بغیر کسی اہم امر کے زمین پر نازل نہیں ہوتے۔ ( معالم النزیل ج ٥ ص ٥٠٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٠٢٤١ ھ)
اولیاء اللہ کی ارواح کا ” المدبرات “ کا مصداق ہونا اور لوگوں کے کام آنا
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
” الناشطات “ سے مراد مؤمنین کی ارواح ہیں جو نہایت نرمی اور آسانی سے اپنے جسموں سے نکل جاتی ہیں، پھر وہ ارواح بشریہ جو تعلق جسمانی سے خالی ہوتی ہیں اور عالم بالا کے ساتھ اتصال کی مشتاق ہوتی ہیں جب وہ اجسام کی ظلمت سے نکل جاتی ہیں تو وہ عالم ملائکہ اور منازل قدس کی طرف مسرت اور شادمانی سے بہت سرعت کے ساتھ جاتی ہیں اور ان کے تیزی سے روانہ ہونے کو ” سابحات “ ( تیرنے والیاں) سے تعبیر فرمایا ہے، پھر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا سے متنفر ہونے میں اور عالم علوی کے ساتھ اتصال کی محبت میں ان ارواح کے درجات مختلف ہوتے ہیں، پس جن ارواح کے یہ احوال زیادہ کامل ہوتے ہیں ان کی عالم قدس کی طرف روانگی اتنی سرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور جن کے یہ احوال کم زور ہوتے ہیں ان کی روانگی اسی قدر آہستہ ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو ارواح ” سابقات “ ہوتی ہیں یعنی جو عالم قدس سے محبت کی وجہ سے بہت تیزی سے عالم قدس کی طرف سبقت کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان ہی ارواح کی قسم کھائی ہے یعنی ان ارواح شریفہ عالیہ میں جو قوت اور شرف ہے ان ہی کے آثار سے اس عالم کے احوال ظہور میں آتے ہوں، لہٰذا وہی ارواح شریفہ ’ ’ فالمدبرات امر “ کی مصداق ہیں، کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ انسان خواب میں اپنے استاذ کو دیکھتا ہے اور اس کو جو مشکل پیش آتی ہے اس کا اپنے استاذ سے ذکر کرتا ہے اور اس کا استاذ اس کو اس مشکل کے حل کی طرف رونمائی کرتا ہے اور کیا جالینوس نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایک مرتبہ سخت بیمار باپ کو دیکھتا ہے اور اس کا باپ اس کو کسی مدفون خزانے کی رہ نمائی کرتا ہے اور کیا جالینوس نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایک مرتبہ سخت بیمار ہوگیا اور اپنے علاج سے عاجز ہوگیا، اس نے کہا : میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا جس نے علاج کی کیفیت بتائی اور کیا ہوگیا اور اپنے علاج سے عاجز ہوگیا، اس نے کہا : میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا جس نے علاج کی کیفیت بتائی اور کیا امام غزالی نے یہ نہیں کہا کہ ارواح شریفہ ( یعنی نیک لوگوں کی روحیں) جب اپنے بدنوں سے جدا ہوجاتی ہیں، پھر اتفاق سے کوئی انسان ان کے پہلے جسم اور روح کے مشابہ ہوتا ہے تو یہ بعید نہیں ہے کہ اس نیک روح کا اس بدن کے ساتھ تعلق ہوا اور وہ نیک کاموں میں اس کی مدد کرے اور اس معاونت کا نام الہام ہے اور اس کی نظیر کفار اور فجار کی روحوں میں یہ ہے کہ وہ اپنے مناسب بدن میں برائی کو ڈالتی ہیں اور اس کو وسوسہ کہتے ہیں اور یہ تفسیر اگرچہ مفسرین سے منقول نہیں ہے لیکن لفظ اس کا بہت زیادہ احتمال رکھتا ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥٢٤١) ھ
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :
یہ کہنا جہالت ہے کہ اولیاء اللہ اپنی وفات کے بعد تصرف کرتے ہیں، مثلاً بیمار کو شفاء دیتے ہیں، ڈوبے ہوئے کو غرق سے نجات دیتے ہیں، دشمن کے خلاف مدد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ کام ان کے سپرد کردیئے ہیں، ہاں ! اس میں توقف نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اولیاء کی وفات کے بعد ان کو کرامت عطاء کرتا ہے، جیسا کہ ان کی وفات سے پہلے ان کو کرامت عطاء کی تھی ( پس ان کی دعا سے) اللہ تعالیٰ بیمار کو شفاء عطاء فرماتا ہے اور ڈوبنے والے کو غرق سے نجات دیتا ہے اور دشمن کے خلاف مدد فرماتا ہے اور بارش نازل فرماتا ہے اور ایسے ہی امور ان کی کرامت ہیں اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ظاہر فرماتا ہے جو صورت میں ان کے مشابہ ہوتا ہے، پھر وہ شخص اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی چیز کا سوال کرے جو گناہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت اور وجاہت کی وجہ سے اس کے سوال کو پورا فرما دیتا ہے اور اگر کوئی سوال کرنے والا کسی گناہ کا سوال کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے سوال کو پورا کر دے تو یہ اس سائل کے لیے مکر اور استدراج ہے۔ ( روح المعانی جز ٠٣ ص ٣٤، دارالفکر، بیروت، ٧١٤١ ھ)
علامہ اسماعیل حقی متوفی ٧٣١١ ھ لکھتے ہیں :
نیک روحیں بدن سے جدا ہونے کے بعد ” المدبرات “ کا مصداق ہیں (الیٰ قولہ) پس جب تدبیر کرنا روح کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس جہان میں تدبیر کرتی ہے، پس جب وہ روح بدن سے جدا ہونے کے بعد اس جہان سے برزخ کی طرف منتقل ہوجاتی ہے تو اس کی تدبیر اور تاثیر بہت زیادہ ہوجاتی ہے کیونکہ انسان کا جسم روح کے لیے حجاب ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب سورج کے لیے بادل حجاب نہ ہوں تو اس کی دھوپ بہت تیز اور سخت ہوتی ہے۔
( روح البیان ج ٠١ ص ٣٧٣، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٢٤١ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 5