وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Friday، 1 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۞
ترجمہ:
ان ( فرشتوں) کی قسم جو ( جسم میں) ڈوب کر نہایت سختی ہے ( کافر کی) روح کھینچتے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ( فرشتوں) کی قسم جو ( جسم میں) ڈوب کر نہایت سختی سے ( کافر کی) روح کھینچتے ہیں۔ اور ان کی قسم جو نہایت نرمی سے (مؤمن کی جان کے) بند کھولتے ہیں۔ اور ان کی قسم جو ( زمین اور آسمان کے درمیان) تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر ان کی قسم جو پوری قوت سے آگے بڑھتے ہیں۔ پھر ان کی قسم جو ( نظام کائنات کی) تدبیر کرنے والے ہیں۔ ( تم کو ضرور مرنے کے بعد زندہ کیا جائے گا۔ ) ( النزعت : ٥۔ ١)
کافر کی روح کھینچنے کی کیفیت اور کافر کی روح کا سختی کے ساتھ جسم سے نکالنا
النزعت : میں ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو بنو آدم کے جسموں سے ان کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور جب وہ کفار کے جسموں سے ان کی روحوں کو نکالتے ہیں تو ان کے جسموں میں ڈوب کر نہایت سختی سے ان کی روحوں کو کھینچتے ہیں، جیسے کوئی کانٹوں والی شاخ کیچڑ اور گارے میں پھنسی ہو تو اس کو سختی سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔
جب کوئی پرندہ کسی پنجرہ میں بند ہو اور اس کے چاروں طرف خون خوار بلیاں اس کو نوچنے کے لیے تیار ہوں تو وہ اس پنجرہ میں وبکار ہوتا ہے کیونکہ اس کو پتاہ ہوتا ہے کہ وہ اسی وقت تک محفوظ ہے جب تک اس پنجرہ میں ہے، اگر کوئی پنجرہ کی کھڑکی کھول کے اس کو نکالے تو وہ پنجرہ میں ہی سکڑا بیٹھا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کو سختی سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔
امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم ثعلبی متوفی ٧٢٤ ھ لکھتے ہیں اور امام الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٦١٥ ھ اور دوسرے مفسرین نے بھی اس کو نقل کیا ہے :
حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ملک الموت کافر کی روح کو ہر بال، ہر ناخن اور قدموں کو جڑوں کے نیچے سے کھینچتا ہے اور اس کو اس کے جسم میں باربار لوٹا کر نکالتا ہے اور مقاتل نے کہا : ملک الموت اور اس کے مددگار فرشتے کفار کی روحوں کو اس طرح سختی سے کھینچتے ہیں، جیسے لوہے کی سیخ میں بہت کانٹے ہوں اور ان میں گیلا اون پھنسا ہوا ہو تو اس کو سختی سے کھینچ کر نکالا جائے پھر اس کی جان ایسے نکلتی ہے جیسے پانی میں ڈوبا ہوا شخص نکلتا ہے۔
( الکشف والخفاء ج ٠١ ص ٢٣١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٢٣٤١ ھ، معالم التنزیل ج ٥ ص ٤٠٢، دارحیاء التراث العربی، بیروت، ٠٢٤١ ھ)
امام عبد الرحمن بن محمد رازی ابن ابی حاتم متوفی ٧٢٣ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یہ کفار کی روحیں ہیں جن کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے، پھر آگ میں غرق کردیا جاتا ہے۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٠١١٩١، الدر المنثور ج ٨ ص ٠٧٣)
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠١٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم کھائی ہے اور کھینچنے والوں کو کسی کے ساتھ خاص نہیں کیا، اس لیے یہ عام ہے خواہ فرشتہ ہو یا موت یا ستارہ ہو یا کمان ہو۔ ( جامع البیان جز ٠٣ ص ٦٣، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)
میں کہتا ہوں کہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس (رض) نے یہ فرمایا ہے کہ النزعت سے مراد وہ فرشتے ہیں جو سختی سے کافر کی روح کو اس کے جسم سے کھینچتے ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ٩٢ ص ٥٦١) اور ظاہر ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام کی یہ تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع پر محمول ہے، کیونکہ یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کو اپنی عقل اور قیاس سے متعین کیا جاسکے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 1