أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا   ؕۙ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا‌ ۞

ترجمہ:

جس دن جبریل اور تمام فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، اس سے کوئی بات نہیں کرسکے گا سوا اس کے جس کو رحمن نے اجازت دی اور اس نے صحیح بات کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن جبریل اور تمام فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، اس سے کوئی بات نہیں کرسکے گا، سو اس کے جس کو رحمن نے اجازت دی، اور اس نے صحیح بات کی۔ وہ دن برحق ہے، سو اب جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے۔ بیشک ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اسکے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا : اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔ ( النبا : ٠٤۔ ٨٣)

النبا : 38 میں ” روح “ کے مصداق میں اقوال مفسرین

النبا : 38 میں ” روح “ کا لفظ ہے، اس کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

ابو الحجاج مجاہدین حبر القرش المخزومی المتوفی ٤٠١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : روح اللہ کے امر میں سے ایک امر ہے اور اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بنو آدم کی صورتوں پر بنایا ہے اور آسمان سے جو بھی فرشتہ نازل ہوتا ہے، اس کے ساتھ ایک روح ہوتی ہے۔

( تفسیر مجاہد ص ٩١٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ٦٢٤١ ھ)

ابو الحسن مقاتل بن سلیمان البلخی المتوفی ٠٥١ ھ روایت کرتے ہیں :

اس روح کا چہرہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہے، اس کا نصف آگ ہے اور اس کا نصف برف ہے، وہ یہ دعا کرتا ہے کہ اے میرے رب ! جس طرح تو نے اس آگ اور اس برف میں الفت ڈال دی ہے، یہ آگ اس برف کو نہیں پگھلاتی اور نہ یہ برف اس آگ کو بجھاتی ہے، اسی طرح اپنے ایمان والے بندوں کے درمیان الفت ڈال دے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے اس روح کو اختیار کرلیا اور فرمایا : جس دن روح اور اس کے تمام فرشتے کھڑے ہوں گے۔

( تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٤٤٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ٤٢٤١ ھ)

امام ابو منصور محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

روح کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض نے کہا : اس سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں اور بعض نے کہا : اس سے مراد مسلمانوں کی روح ہے اور بعض نے کہا : اس سے مراد فرشتوں کے محافظ ہیں، وہ فرشتوں کو دیکھتے ہیں اور لوگ ان کو نہیں دیکھتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روح سے مراد وہ کتابیں ہوں جو آسمان سے نازل کی گئی ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ (النحل : ٢) وہ فرشتوں کو اپنے حکم کی وحی ( آسمانی کتاب) دے کر جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔

پھر یہ آسمانی کتابیں اس شخص سے مناقشہ کریں گی جس نے ان کے حق کو ضائع کردیا، یا جس نے ان کتابوں کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس شخص کے حق میں شفاعت کریں گی جس نے ان کا حق ادا کیا اور ان کے احکام پر عمل کیا اور بعض نے کہا : اس سے مراد وہ مخفی چیز ہے جس کی تفسیر نہیں کی جاسکتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (بنی اسرائیل : ٥٨ )

یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے : روح میرے رب کے امر سے ہے۔

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٠٥٤ ھ نے لکھا ہے : اس آیت میں روح کی تفسیر میں آٹھ قول ہیں :

(١) ابو صالح نے کہا : روح انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے اور انسان نہیں ہے اور وہ اللہ سبحانہ کا لشکر ہے۔

(٢) مقاتل بن حیان نے کہا : وہ ملائکہ میں سب سے اشرف ہے۔

(٣) ابن ابی نجیح نے کہا : وہ ملائکہ کے محافظ ہیں۔

(٤) حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : وہ تخلیق کے لحاظ سے سب سے عظیم فرشتہ ہے۔

(٥) سعید بن جبیر نے کہ : وہ حضرت جبر یل (علیہ السلام) ہیں۔

(٦) حسن بصری نے کہا : وہ بنو آدم کی ارواح ہیں، وہ صف باندھے کھڑی ہوں گی اور فرشتے بھی صف باندھے کھڑے ہوں گے۔

(٧) قتادہ نے کہا : وہ بنو آدم ہیں۔

(٨) زید بن اسلم نے کہا : اس سے مراد قرآن مجید ہے ( النکت والعیون ج ٦ ص ٠٩١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

مصنف کے نزدیک مختاریہ ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ قرآن مجید کی اکثر آیات میں روح سے مراد حضرت جبریل ہیں اور مزید قرینہ یہ ہے کہ ان کا فرشتوں کے ساتھ ذکر ہے۔

روح اور فرشتوں کے صحیح بات کہنے کی توجیہات

اس آیت میں فرمایا ہے : روح اور تمام فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روح اور سب فرشتے ایک صف میں کھڑے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب الگ الگ صفوں میں کھڑے ہوں۔

شرطیں یہ ہیں : (١) وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط (البقرہ : ٥٥٢) کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرے۔

دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اپنی شفاعت میں صحیح بات کہے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ جب وہ رحمن کی اجازت سے شفاعت کرے گا تو وہ لا محالہ صحیح بات کہے گا، پھر یہ شرط کیوں عائد کی ہے کہ وہ صحیح بات کہے ؟ اس اعتراض کے دو جواب ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ نے ان کو مطلقاً کلام کرنے کی اجازت دی، پھر وہ اپنے اجتہاد سے ایسا کلام کریں گے جو بالکل صواب اور صحیح ہو اور شفاعت میں اللہ تعالیٰ کی لگائی ہوئی حدود کے موافق ہو اور یہ ان کی انتہائی اطاعت اور عبادت کی دلیل ہے۔

(٢) اس سے مراد حضرت جبریل اور دیگر فرشتوں کی شفاعت نہیں ہے، بلکہ شفاعت کے دیگرمصادیق مراد ہیں، لیکن پہلا جواب راجح ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 38