٤٧ – بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ﴿وَمَا أُوتِيتُمُ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ (الاسراء:۸۵)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ” اور تم کو جو بھی علم دیا گیا ہے وہ کم ہے “ (بنی اسرائیل : ۸۵)

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں بھی عالم سے سوال کا ذکر تھا اور اس باب میں بھی عالم سے سوال کا ذکر ہے، لیکن باب سابق میں عالم کے جواب کا ذکر تھا اور اس باب میں عالم نے سوال کا جواب نہیں دیا، کیونکہ اس جواب کی سائل کو اپنے کسی عمل میں ضرورت نہیں تھی اور جواب نہ دینے میں آپ کی نبوت کی تصدیق تھی اس کی تفصیل یہ ہے:

اس باب کے عنوان میں آیت کا ایک حصہ ذکر کیا گیا ہے پوری آیت اس طرح ہے:

وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلا ( بنی اسرائیل : ۸۵)

اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور تم کو جو بھی علم دیا گیا ہے وہ تھوڑا ہے

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی حنفی متوفی ۳۳۳ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

یہودیوں نے آپ سے اس معروف روح کے متعلق سوال کیا تھا، جس کے سبب سے بدن میں حیات ہوتی ہے لیکن آپ نے اس کا جواب نہیں دیا اور روح کے علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف مفوض کر دیا ۔ ( تاویلات اہل السنتہ ج ۷ ص ۱۰۵ دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ۳۱۰ھ اس کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں تھا آپ کے پاس ایک لاٹھی تھی، جس سے آپ ٹیک لگاتے تھے آپ کے پاس سے یہودیوں کا ایک گروہ گزرا ان میں سے بعض نے کہا: ان سے روح کے متعلق سوال کرو اور بعض نے کہا: ان سے سوال نہ کرو آپ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، انہوں نے آپ سے روح کے متعلق سوال کیا، میں نے جان لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبّى وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ( بنی اسرائیل : ۸۵)۔

(جامع البیان جز ۱۵ ص ۱۷۸ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ)

١٢٥ – حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا الْاَعْمَش سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خِرَبِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّا علَى عَسِيْبٍ مَّعَهُ ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِّنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلْوَهُ عَنِ الرُّوْحِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تسْأَلُوهُ لَا يَجِيءُ فِيْهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالَ  بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أبا القاسم مَا الرُّوْحُ؟ فَسَكَتَ ، فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقُمْتُ فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ فَقَالَ وَيَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلا)( بنی اسرائیل : ۸۵) قَالَ الْأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرَاء تِنَا.

اطراف الحدیث :۴۷۲۱-۷۲۹۷-۷۴۵۶ – ۷۴۶۲ )

صحیح مسلم : 2794سنن ترمذی :3141 السنن الکبری للنسائی: ۱۱۲۹۹ مسند ابویعلی : ۵۳۹۰ صحیح ابن حبان : ۹۸ المعجم الصغير: ۳-۱ مسند احمد ج1 ص ۸۹ ۳ طبع قدیم مسند احمد : ۳۶۸۸- ج 6 ص 214 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت )

 امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں قیس بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الواحد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش سلیمان نے حدیث بیان کی از ابراہیم از علقمه از حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں جار ہا تھا اور آپ جس لاٹھی پر ٹیک لگاتے تھے وہ آپ کے ساتھ تھی، آپ یہود کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ان سے روح کے متعلق سوال کرو ان میں سے بعض نے کہا: سوال نہ کرو، یہ کوئی ایسا جواب نہ دیں جس کو تم نا پسند کرو دوسروں نے کہا: ہم ان سے ضرور سوال کریں گے، پھر ان میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یا ابا القاسم ! روح کی کیا حقیقت ہے؟ پس آپ خاموش رہے میں نے (دل میں ) کہا : آپ کی طرف وحی کی جارہی ہے پس میں کھڑا ہو گیا جب آپ سے نزول وحی کی کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے پڑھا اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور تم کو جو بھی علم دیا گیا ہے وہ تھوڑا ہے (بنی اسرائیل : ۸۵)۔

الاعمش نے کہا: ہماری قراءت میں اسی طرح ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں بھی اس آیت کا ذکر ہے، جس کا عنوان میں ذکر کیا گیا ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) قیس بن حفص بن القعقاع الداری ابومحمد البصری ان سے احمد بن سعید الدارمی ابوزرعہ اور ابو حاتم نے روایت کی ہے یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ ہیں، احمد بن عبد اللہ نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے یہ ۲۲۷ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) عبدالواحد بن زیاد البصری.

(۳) سلیمان بن مہران الاعمش الکوفی .

(۴) ابراہیم بن یزید النخعی.

(۵) علقمہ بن قیس النخعی.

(۶) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۰۰)

آیات قرآنیہ میں رُوح کے اطلاقات

قرآن مجید میں روح کا اطلاق کئی معانی پر کیا گیا ہے روح کا اطلاق حضرت جبریل پر ہے:

نزل بِهِ الرُّوْمُ الْأَمِينُ (الشعراء: ۱۹۳)

قرآن کو روح امین (حضرت جبریل ) نے نازل کیا ۔

روح کا اطلاق قرآن مجید پر ہے:

وَكَذلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا .

اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ پر قرآن مجید کو نازل کیا ہے ( الشوری:52)

روح کا اطلاق بنو آدم یا ان کی ارواح پر ہے

يَوْمَ يَقُومُ الرُّوْسُ وَالْمَلَئِكَةُ صَفًّا (النبا: ۳۸)

جس دن ملائکہ اور بنو آدم صف بہ صف کھڑے ہوں گے۔

)جماع البیان جزء 30 ص 31 دار احیاء التراث العربی بیروت )

روح کے مباحث میں شارحین بخاری کی تقاریر

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ یہود نے آپ سے اس روح کی حقیقت کے متعلق سوال کیا تھا جو جان داروں میں ہوتی ہے ایک قول  ہے کہ ان کا سوال حضرت جبریل کے متعلق تھا، دوسرا قول ہے کہ ان کا سوال حضرت عیسی کے متعلق تھا، تیسرا قول ہے : ان کا سوال قرآن مجید کے متعلق تھا چوتھا قول ہے: ان کا سوال عظیم روحانی مخلوق کے متعلق تھا، اس کے متعلق اور بھی اقوال ہیں، اس کی تفصیل ان شاءالله كتاب التفسیر میں آئے گی اور وہاں پر ہم یہ اشارہ کریں گے کہ روح حیوانی میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس کی حقیقت ان چیزوں میں سے ہے جن کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کر لیا ہے۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۶۷۱ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

علامہ ابو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

المہلب نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ بعض چیزوں کے علم پر اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مطلع فرمایا ہے نہ کسی اور کو، اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ اپنی مخلوق کا روح کے علم سے امتحان لے پھر ان کو اس پر واقف کرے کہ وہ روح کے علم سے عاجز ہیں حتی کہ وہ عاجز ہو کر روح کے علم کو اللہ کی طرف لوٹا دیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَآءَ.

اور وہ اللہ کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ (البقرہ:255)

اور روح کا علم ان چیزوں میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس کے علم پر مطلع کرنا نہیں چاہا۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۱۹۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ)

علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ ھ لکھتے ہیں:

روح کے علم کے ساتھ اللہ تعالیٰ منفرد ہے، اس نے اس علم کی کسی کو خبر نہیں دی۔ لوگوں نے روح کی ماہیت کے بارہ میں بہت زیادہ کلام کیا ہے حالانکہ قرآن نے اس کی خبر نہیں دی اور رسول سے اس کے متعلق سوال کیا گیا مگر انہوں نے اس کو نہیں بیان کیا اور مجھے فلاسفہ پر اتنا تعجب نہیں ہے جتنا علماء اسلام پر تعجب ہے جب ان کو علم ہے کہ قرآن نے روح کی حقیقت نہیں بتائی اور نہ رسول نے

جن سے روح کے متعلق سوال کیا گیا تھا، اس کے باوجود بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ روح جسم ہے اور بعض کہتے ہیں کہ روح ایک چیز ہے اور نفس دوسری چیز ہے انہوں نے ان اقوال کو فلاسفہ اور اطباء کے کلام سے اخذ کیا ہے اور روح تو اللہ عزوجل کے امر میں سے ایک امر ہے روح کا علم صرف اس کے تصرفات سے ہوتا ہے جیسے اللہ کے وجود پر صرف اس کے افعال سے استدلال کیا جاتا ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ” رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى . (البقره: ۲۶۰) اے رب ! تو مجھے دکھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا، پس جب زندہ کرنے کا ادراک حضرت ابراہیم کی قدرت میں نہیں تھا تو اللہ سبحانہ نے ان کو چند مردے دکھائے جن کو زندہ کر دیا گیا۔ (کشف المشکل ج ا ص ۱۲۵ – ۱۲۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

علامہ شہاب الدین احمد القسطلانی المتوفی ۹۱۱ ھ لکھتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روح کی ماہیت نہیں بتائی، کیونکہ اس کی ماہیت کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کر لیا ہے اور اس لیے کہ اس کے بیان نہ کرنے میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق ہے اور اکثر متقدمین اور متاخرین علماء اور حکماء کا روح کی تعریف میں اختلاف ہے اور جس تعریف پر عام متکلمین کا اعتماد ہے وہ یہ ہے کہ روح ایک جسم لطیف ہے جس کا بدن میں اس طرح حلول ہوتا ہے، جس طرح پانی کا گلاب کے پھول میں حلول ہوتا ہے اور اشعری سے یہ منقول ہے کہ انسان کے جسم میں جو سانس داخل اور خارج ہورہا ہے وہ روح ہے۔ (ارشاد الساری ج ۱ ص 386 دار الفکر بیروت 1421ھ )

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

بنو آدم کی روح کے متعلق امام اشعری نے کہا ہے کہ وہ سانس ہے دوسری تعریف یہ ہے کہ وہ ایک جسم ہے جو اجسام ظاہرہ اور اعضاء ظاہرہ کا شریک ہے تیسری تعریف یہ ہے کہ روح جسم لطیف ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ عادت جاری کی ہے کہ اس کے بغیر حیات نہیں ہوتی ، بعض علماء نے خون کو روح کہا ہے اور روح میں ستر (۷۰) اقوال ہیں۔

اس میں بھی اختلاف ہے کہ روح اور نفس ایک چیز ہیں یا الگ الگ ہیں زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں متغائر ہیں اور نفس انسانیہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے آپ سے تعبیر کرتا ہے امام غزالی نے کہا: نفس مجردہ ہے نہ وہ جسم ہے نہ جسمانی ہے اور امام غزالی نے کہا کہ روح ایسا جوہر ہے جو قائم بنفسہ ہے اور غیر متحیز ہے نہ وہ جسم میں داخل ہے اور نہ جسم سے خارج ہے نہ اس سے متصل ہے اور نہ منفصل ہے۔

اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روح کے علم کو مخلوق سے مبہم رکھا ہے اور اس کو اپنے ساتھ خاص کر لیا ہے، حتی کہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی روح کا علم نہیں تھا، میں کہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب ہیں اور تمام مخلوق کے سردار ہیں، سو آپ کا منصب اس سے بہت بلند ہے کہ آپ کو روح کا علم نہ ہو اور آپ کو روح کا علم کیسے نہیں ہو گا جب آپ کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان ذکر فرمایا ہے:

وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَليكَ عَظِيمًا ( النساء: ١١٣)

آپ جو کچھ نہیں جانتے تھے اللہ نے آپ کو اس کا علم دے دیا اور یہ آپ پر اللہ کا فضل عظیم ہے

اور اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں دلیل نہیں ہے کہ روح کو جانا نہیں جا سکتا اور نہ اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روح کا علم نہیں تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص 304 دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

تبیان القرآن ج ۶ ص ۷۹۳ – ۷۸۶ بنی اسرائیل : ۸۵ میں ہم نے روح پر بہت طویل بحث کی ہے اور اس کے حسب ذیل عنوانات ہیں:

روح کا لغوی اور اصطلاحی معنی

روح کی موت کی تحقیق

جسم کی موت کے بعد روح کا مستقر

روح کا حادث اور مخلوق ہونا

نفس اور روح ایک چیز ہیں یا الگ الگ

نفس امارہ نفس لوامہ اور نفس مطمعنہ کی تعریفات

عالم خلق اور عالم امر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روح کا علم تھا یا نہیں ۔

باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : 6932 پر ہے اور اس کی شرح ص ۶۱۷ ۔ ۶۱۳ پر ہے اور شرح کے عنوانات حسب ذیل ہیں:

روح کی بحث

یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کون سی روح کے متعلق سوال کیا تھا

روح کی تعریف

روح کی حقیقت مخفی رکھنے کی حکمت

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روح کا علم دیئے جانے کے متعلق اکابر علماء اسلام کی تصریحات ۔