فَاِذَا هُمۡ بِالسَّاهِرَةِ ؕ – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 14
sulemansubhani نے Sunday، 10 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا هُمۡ بِالسَّاهِرَةِ ؕ ۞
ترجمہ:
پھر وہ اچانک ( حشر کے) کھلے میدان میں ہوں گے۔
النزعت : 14 میں فرمایا : پھر وہ اچانک ( حشر کے) کھلے ہوئے میدان میں ہوں گے۔
” ساھرۃ “ کا معنی
اس آیت میں ” ساھرۃ “ کا لفظ ہے، ” ساھرۃ “ کا معنی ہے : میدان ” سھر “ کا معنی : نیند اڑ جانا بھی ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال روئے زمین کے متعلق ہوتا ہے۔
امام رازی فرماتے ہیں : ” ساھرۃ “ سفید ہم وار زمین کو کہتے ہیں، اس نام سے اس کو موسوم کرنے کی دو وجہیں ہیں : (١) اس پر چلنے والے خوف سے سوتا نہیں (٢) اس زمین میں سراب رواں ہوتا ہے، عربوں کا محاورہ ہے :” عین ساھرۃ “ ( جاری چشمہ) اور میرے نزدیک اس کی تیسری وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس زمین پر چلنے والے کی خوف سے نیند اڑجاتی ہے، تو جس زمین پر حشر برپا ہوگا، وہاں کا فربہت زیادہ خوف زدہ ہوں گے، علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ” ساھرۃ “ یہی دنیا کی زمین ہوگی یا آخرت کی زمین ہوگی کیونکہ دوسرے صور میں پھونکنے سے جو مہیب آواز پیدا ہوگی جس کو اس سے پہلی آیت میں ” زجرۃ “ (جھڑکی) فرمایا ہے، اس وقت لوگ جوق در جوق آخرت کی زمین میں منتقل ہوں گے۔
( تفسیر کبیر ج ١١ ص ٧٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 14