أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِى الۡحَـافِرَةِ ؕ‏ ۞

ترجمہ:

وہ کہتے ہیں : کیا ہم ضرور مرنے کے بعد زندگی کی طرف لوٹائے جائیں گے ؟

اس کے بعد فرمایا : وہ کہتے ہیں : کیا ہم ضرور مرنے کے بعد زندگی کی طرف لوٹائے جائیں گے ؟۔ (النزعت : ٠١)

” حافرۃ “ کا معنی

اس آیت میں ” حافرۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : پہلی حالت الٹے پائوں ” حافرۃ “ ” حفر “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : زمین کھودنا ” حافرۃ “ کا لفظ الٹے پائوں لوٹنے اور پہلی حالت پر پلٹنے کے لیے ضرب المثل ہوگیا ہے، انسان جس راستہ آیا، الٹے پائوں اسی راستہ پر پلٹا تو چلنے کی وجہ سے قدموں کے نشانات سے جو زمین کھدی، اس نسبت سے وہ حالت ” حافرۃ “ کہلائی اور بعض کا قول ہے کہ ” حافرۃ “ اس زمین کو کہتے ہیں جس میں ان کی قبریں کھدی ہوتی ہیں اور ” حافرۃ “۔ بہ معنی ” محفورۃ “ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ” حافرۃ “ اس وجہ سے ہے کہ وہ ” حوافر “ کا مستقر ہے یعنی کھروں اور سموں کے ٹکنے کی جگہ ہے۔

اس آیت میں اس کا معنی ہے : پہلی حالت پر پلٹنے کی جگہ، گویا مشرکین یہ کہتے تھے کہ آیا ہم مرنے کے بعد پھر پہلی زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے ؟

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 10