کتاب العلم باب 48 حدیث نمبر 126
٤٨- بَاب مَنْ تَرَكَ بَعْضَ الْاخْتِيَارِ مَخَافَةَ أَنْ يَقْصُرَ فَهُمُ بَعْضِ النَّاسِ عَنْهُ فَيَقَعُوا فِي أَشَدَّ مِنْهُ
جس نے بعض اختیاری چیزوں کو اس خوف سے ترک کردیا کہ بعض لوگوں کی عقلیں اس کو سمجھنے سے قاصر ہوں گی تو وہ کسی بڑے شر میں مبتلا ہو جائیں گے
باب سابق میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ کبھی عالم کسی حکمت کی وجہ سے کسی سوال کا جواب نہیں دیتا اور اس باب میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ کبھی عالم کسی اختیاری چیز کو کسی حکمت کی وجہ سے ترک کر دیتا ہے جیسے کعبہ کی از سر نوتعمیر کرنا جائز تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمت کی وجہ سے اس کو ترک کر دیا کہ بض نو مسلم جو زمانہ کفر کے قریب ہیں، ان کے دلوں میں یہ چیز ناگوار ہوگی، سو دونوں بابوں میں قدر مشترک حکمت ہے، یعنی باب سابق میں حکمت کی وجہ سے جواب ترک کرنے کا ذکر ہے اور اس باب میں حکمت کی وجہ سے ایک اختیاری کام کو ترک کرنے کا ذکر ہے۔
١٢٦ – حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَتْ عَائِشَةُ تُسِرُّ إِلَيْكَ كَثِيرًا، فَمَا حَدَّثَتِكَ فِی الْكَعْبَةِ؟ قُلْتُ قَالَتْ لِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْ لَا قَوْمُكِ حَدِيثُ عَهْدُهُمْ . قَالَ ابن الزُّبَيْرِ بِكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَین بابٌ يَدْخُلُ النَّاسُ وَبَابٌ يَخْرُجُونَ فَفَعَلَهُ ابن الزبير . اطراف الحديث : ۱۵۸۳ – ۱۵۸۴ – ۱۵۸۵-۱۵۸۶ – ۳۳۶۸۔4484-7243۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبیداللہ بن موسیٰ نے حدیث بیان کی از اسرائیل از ابی اسحاق از اسود، انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بہت راز کی باتیں بتاتی تھیں تو کعبہ کے بارے میں انہوں نے تم کو کیا بتایا ہے؟ حضرت عائشہ نے یہ بتایا کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم دور جاہلیت کے قریب نہ ہوتی ، حضرت ابن الزبیر نے کہا: (یعنی) دور کفر کے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے از سر نو تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بنا دیتا’ ایک دروازے سے لوگ کعبہ میں داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکلتے ، پھر حضرت ابن الزبیر نے کعبہ کو اسی طرح بنا دیا۔
(صحیح مسلم : ۱۳۳۳ سنن نسائی:۲۹۰۰ مسند الشافعی ج1 ص 248 کتاب الام ج ۲ ص ۱۵۰ سنن الكبرى للنسائی : 3883 مسند ابو یعلی : ۴۳۶۳ صحیح ابن خزیمہ ۲۷۲۶ صحیح ابن حبان : 3815 سنن بیہقی ج ۵ ص 77 معرفة السنن والآثار: 9917 شرح السنة: ۱۹۰۳ مصنف عبد الرزاق: ۸۹۴۱ ‘مسند احمد ج 6 ص ۷ ۱۷ طبع قدیم مسند احمد : ۲۵۴۴۰ – ج ۴۲ ص 274 مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس وجہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو منہدم کرنے کا ارادہ اس وجہ سے ترک کردیا کہ قریش کعبہ کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے تو اگر آپ یہ اختیاری کام کرلیتے تو ان کے بدظن ہونے کا اندیشہ تھا اس وجہ سے آپ نے اس کام کو ترک کر دیا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے چھ رجال میں ان میں سے اسرائیل اور اسود کے سوا باقی سب کا تعارف ہو چکا ہے ان دونوں کا تعارف درج ذیل ہے:
(1) اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق السبیعی الہمدانی الکوفی، امام احمد نے کہا: یہ شیخ ثقہ ہے، اور وہ ان کے حافظہ پر تعجب کرتے تھے انہوں نے اپنے دادا ابو اسحاق سے احادیث کا سماع کیا یہ ۱۰۰ ھ میں پیدا ہوئے اور 160 ھ میں فوت ہو گئے
(۲) اسود بن یزید بن قیس النخعی، یہ ابراہیم کے ماموں ہیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا لیکن آپ کی زیارت نہیں کی یہ ۷۵ ھ میں کوفہ میں فوت ہوگئے تھے انہوں نے اسی (۸۰) حج اور عمرے کیئے یہ ہر روز ۷۰۰ رکعات نماز پڑھتے تھے ان سے بہت بڑی جماعت نے احادیث کی روایت کی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۰۵)
حطیم کے باہر سے طواف کرنا اتفاقی ہے اور حطیم کے اندر سے طواف کرنا اختلافی ہے
امام مازری نے کہا ہے کہ قریش قواعد ابراہیم پر مکمل بیت اللہ نہ بنا سکے اور یہ اس کی دلیل ہے کہ حطیم بیت اللہ کا جز ہے اور امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جس نے حطیم کے اندر سے طواف کیا، گویا اس نے طواف نہیں کیا اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک وہ طواف دہرائے گا اور اگر وہ اپنے شہر چلا گیا ہے تو اس پر قربانی لازم ہے۔
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ۵۴۴ ھ لکھتے ہیں:
صحیح مسلم کی اس حدیث اور دیگر احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حطیم بیت اللہ کا جز ہے اور تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ طواف حطیم کے باہر سے کریں، اختلاف اس میں ہے کہ اگر کسی نے حطیم کے اندر سے طواف کرلیا تو یہ اس کے لیے کافی ہوگا یا نہیں جمہور کا قول یہ ہے کہ اس کے لیے یہ طواف کافی نہیں ہوگا اور امام ابوحنیفہ کا اس میں اختلاف ہے۔
اگر صحیح کام کرنے سے ضرر کا اندیشہ ہو تو اس کو ترک کر دیا جائے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خواہش کے باوجود کعبہ کی ازسر نو تعمیر نہیں کی اور حطیم کو کعبہ میں داخل نہیں کیا اور اس کے دو دروازے نہیں بنائے ۔ اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ جب کوئی کام کرنا صحیح ہو لیکن اس کام کے کرنے سے زیادہ ضرر کا اندیشہ ہو تو اس کام کو ترک کردینا چاہیے اور لوگوں کو متنفر کرنے سے احتراز کرنا چاہیئے، خلیفہ ہارون رشید نے امام مالک سے ذکر کیا کہ وہ دوبارہ کعبہ کو منہدم کر کے اس طرح بنانا چاہتا ہے جس طرح حضرت ابن الزبیر نے بنایا تھا کیونکہ حضرت ابن الزبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کے مطابق کعبہ کو بنادیا تھا، جس کو حجاج بن یوسف نے منہدم کرکے دوبارہ قریش کی تعمیر کے مطابق بنادیا تھا، جب ہارون رشید نے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو امام مالک نے اس سے کہا: اے امیر المؤمنین! میں آپ کو قسم دیتا ہوں، آپ ایسا نہ کریں ورنہ ہر بادشاہ اپنی نام آوری کے لیے کعبہ کو منہدم کر کے از سرنو بناتا رہے گا اور لوگوں کے دلوں سے کعبہ کی ہیبت نکل جائے گی۔
اکمال المعلم بفوائد مسلم ج 4 ص ۴۲۸ – ۴۲۷ دار الوفاءه بیروت 1419ھ )
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۳۱۳۶ – ج ۳ ص ۵۹۲ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
فائدہ کے مقابلہ میں نقصان سے بچنا زیادہ اہم ہے
تعمیر کعبہ کی تفصیل وار تاریخ
یزید کے دور حکومت میں کعبہ کو جلانے کا پس منظر و پیش منظر
بیعت یزید کے سلسلہ میں حضرت حسین کا موقف
بیعت یزید کے سلسلہ میں جمہور صحابہ کا موقف
واقعہ حرہ کی تفصیلات
مسلم بن عقبہ صحابی نہیں تھے
مسلم بن عقبہ کی عبرت ناک موت
واقعۂ حرہ کی وجہ سے یزید پر لعنت کی بحث
(0) مصنف کا موقف
یزیدی فوجوں کے خانہ کعبہ کو جلانے کی وجہ سے یزید کی تکفیر
حضرت حسین کو شہید کرنے کی وجہ سے یزید پر لعنت کی بحث
(۳) شہادت حسین پر حافظ ابن کثیر کا تبصرہ
(۵) یزید پر لعنت کے سلسلہ
میں امام غزالی کی رائے
(19) علامہ زبیدی کی رائے
(2) علامہ حلبی کی رائے اور مصنف کا مؤقف
) یزید کے کفریہ اشعار کی تحقیق
جہاد مدینہ قیصر کی بشارت میں یزید کے دخول کی تحقیق
(۲) حدیث مدینہ قیصر کی تحقیق (
۴۱) حضرت حسین اور یزید کے بارے میں شیخ
ابن تیمیہ کے نظریات
( لعن یزید کے بارے میں ابن جوزی کا نظریہ
(۳) لعن یزید کے بارے میں محدث دہلوی کا نظریہ
(۴۴ یزید کے
متعلق حافظ ابن کثیر کی رائے 10
لعن یزید کے بارے میں علامہ ابن حجر کی کی رائے
لعن یزید کے بارے میں اعلیٰ حضرت کی رائے
یزید کی تکفیر اور اس پر لعنت کے سلسلہ میں مصنف کا موقف ۔
یہ بحث شرح صحیح مسلم ج ۳ ص ۶۳۸ – ۵۹۲ پر مذکور ہے۔