۱۲۹ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ  سمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ اَنَسًا قَالَ ذُكِرَ لِی اَنَّ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ . قَالَ اَلَا أَبَشِّرُ النَّاسَ ؟قَالَ لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا۔

  امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا: مجھ سے یہ ذکر کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملا کہ اس نے اللہ کے ساتھ بالکل شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا’ حضرت معاذ نے کہا: کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! مجھے خطرہ ہے کہ لوگ پھر اس پر اعتماد کرلیں گے۔

اس حدیث کی تخریج حدیث : ۱۲۸ کی مثل ہے اور اس کی باب کے عنوان سے مطابقت بھی واضح ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) مسدد بن مسرہد ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۲) معتمر بن سلیمان بن طرخان التیمی البصری یہ اپنے والد اور منصور وغیرہما سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ابن مہدی وغیرہ نے روایت کی ہے یہ ثقہ اور صدوق ہیں اور علم اور عمل میں اپنے والد کی مثل تھے یہ 106ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے تھے اور ۱۸۷ ھ میں فوت ہو گئے تھے ان سے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے احادیث کی روایت کی ہے

(۳) معتمر کے والد سلیمان تیمی یہ ہنومرہ میں گئے اور وہاں لوگوں سے تقدیر کے مسئلہ پر بحث کی انہوں نے ان کو نکال دیا پھر ان کو بنو تمیم نے قبول کر لیا اور یہ ان کے امام ہو گئے شعبہ نے کہا: میں نے سلیمان سے زیادہ صادق کسی کو نہیں پایا جب یہ نبی صلی علی کریم کی حدیث بیان کرتے تو ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا یہ بہت زیادہ عبادت گزار تھے عشاء کے وضو سے ساری رات نماز پڑھتے رہتے تھے یہ اور ان کا بیٹا ساری رات مساجد میں گشت کرتے رہتے تھے کبھی ایک مسجد میں نماز پڑھتے اور کبھی دوسری مسجد میں یہ ۱۴۳ھ میں فوت ہو گئے تھے ان کا میلان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا.

(۴) حضرت انس رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۱۵)

اس اعتراض کا جواب کہ کیا رسالت پر ایمان اور عمل کے بغیر بھی انسان جنت میں چلا جائے گا ؟

اس حدیث میں یہ ذکر ہے : جس نے اللہ کے ساتھ بالکل شرک نہیں کیا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اس میں صرف توحید کا ذکر ہے، رسالت کا ذکر نہیں ہے، حالانکہ رسالت پر ایمان کے بغیر توحید پر ایمان سے نفع نہیں ہوتا، اس لیے لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کا ذکر ضروری ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص کہے : جس نے وضو کر لیا’ اس کی نماز صحیح ہے یعنی جب کہ صحت نماز کی بقیہ شرائط بھی پوری کی جائیں اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو شخص توحید پر ایمان لایا اور باقی ان چیزوں پر ایمان لایا جن پر ایمان لانا واجب ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس حدیث میں اعمال کا ذکر نہیں ہے کیا بغیر عمل کے بھی مومن جنت میں چلا جائے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو وہ بغیر عمل کے بھی جنت میں ابتدا، چلا جائے گا اور اگر اللہ چاہے گا تو عمل نہ کرنے کی سزا کے بعد اس کو جنت میں داخل کر دے گا ۔