اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 17
sulemansubhani نے Friday، 15 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۞
ترجمہ:
کہ آپ فرعون کے پاس جائیں بیشک اس نے سرکشی کی ہے.
النزعت : ۱۷ میں فرمایا : کہ آپ فرعون کے پاس جائیں بیشک اس نے سرکشی کی ہے۔
اس آیت میں ” طغی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بیان فرمایا ہے کہ اس نے کس چیز میں حد سے تجاوز کیا تھا، اس لیے مفسرین نے کہا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تکبر کیا اور کافر ہوگیا اور دوسرے مفسرین نے کہا : اس نے بنی اسرائیل کے مقابلہ میں حد سے تجاوز کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے خالق اور مخلوق دونوں کے معاملہ میں حد سے تجاوز کیا ہو، خالق کے معاملہ میں تجاوز یہ تھا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کو نہیں مانا اور لوگوں سے کہا : ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی۔ “ ( النزعت : ٤٢) ( تمہارا سب سے بڑا رب میں ہوں) اور مخلوق کے سامنے تکبر یہ تھا کہ اس نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا، ان سے بےگار کے کام لیتا تھا اور ان پر طرح طرح کے ظلم کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو ان کو تلقین کی کہ وہ ان سے کہیں :
النزعت : ۱۸ میں فرمایا : آپ اس سے کہیں کہ گناہوں سے پاک ہونے کے متعلق تیری کیا رائے ہے ؟۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 17