فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 25
sulemansubhani نے Friday، 15 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ۞
ترجمہ:
پس اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب کی گرفت میں لے لیا.
النزعت : ۲۶۔ ۲۵ میں فرمایا : پس اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ بیشک اس میں ڈرنے والے کے لیے ضرور عبرت ہے۔
” اخرۃ “ اور ” اولیٰ “ کی متعدد تفاسیر
اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ نے اس کو اخرۃ “ اور ” اولیٰ “ کے عذاب کی گرفت میں لے لیا، مجاہد، شعبی، سعید بن جبیر اور مقاتل نے کہا :’ ’ اخرۃ “ اور ’ ’ اولیٰ “ سے مراد فرعون کے دو دعوے ہیں، جو حسب ذیل ہیں :
مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰـہٍ غَیْرِیْ ج (القصص : ٨٣) مجھے اپنے سوا تمہارے اور کسی معبود کا علم نہیں ہے۔
اس دعویٰ کے چالس سال بعد اس نے یہ دعویٰ کیا :
اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی۔ (النازعات : ٤٢) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔
یعنی فرعون کے ان دو دعوئوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مقصود اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ جب فرعون نے پہلا دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فوراً اس کو گرفت میں نہیں لیا بلکہ اس کو چالیس سال تک مہلت دی اور جب اس نے چالیس سال تک رجوع نہیں کیا بلکہ اس سے بڑھ کر دعویٰ کیا تو پھر اس کو اپنے عبرت ناک عذاب کی گرفت میں لے لیا۔
حسن اور قتادہ نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ ” اخرۃ “ اور ’ ’ اولیٰ “ کا معنی یہ ہے کہ اسے آخرت اور دنیا کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا، دنیا میں اس کو سمندر میں غرق کردیا اور آخرت میں اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
قفال نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ فرعون کے دو جرم تھے، اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، سو اس کو ان دو وجہوں سے عذاب ہوگا اور ” اٰخرۃ “ اور ” اولیٰ “ کا معنی یہ ہے کہ اسے آخرت اور دنیا کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا، دنیا میں اس کو سمندر میں غرق کردیا اور آخرت میں اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
قفال نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ فرعون کے دو جرم تھے، اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، سو اس کو ان دو وجہوں سے عذاب ہوگا اور ” اٰخرۃ “ اور ” اولیٰ “ سے یہی مراد ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 25