کتاب العلم باب 52 حدیث نمبر 133
٥٢- بَابُ ذِكْرِ الْعِلْمِ وَالْفُتْيَا فِي الْمَسْجِدِ
علم اور فتویٰ کا مسجد میں ذکر کرنا
فتویٰ کا معنی ہے: کسی پیش آمدہ مسئلہ کا شرعی جواب، جو عموما مستند فقہاء سے حاصل کیا جاتا ہے، باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خروج مذی کے متعلق سوال کیا تھا اور اس باب کی حدیث میں ہے: ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے احرام کے متعلق سوال کیا، یعنی دونوں بابوں میں ایک امر دینی کے متعلق سوال کا ذکر ہے۔
۱۳۳ – حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ بنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مِنْ اَيْنَ تَأمُرُنَا أَنْ نَهِل؟فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذى الْحُلَيْفَةِ ، وَيُهِلَّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الجحفتہ، وَيُهِلَّ اَهْلْ نَجْدٍ مِنْ قَرْن وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيُهِلَّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ لَمْ أَفْقَهُ هَذِهِ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
اطراف الحدیث : ۱۵۲۲ – ۱۵۲۵ – ۱۵۲۷ – ۱۵۲۸ – ۷۳۴۴
صحیح مسلم :۱۱۸۱ الرقم المسلسل : ۲۷۵۷ سنن ابوداؤد : ۱۷۳۷ سنن نسائی: ۲۶۵۸، سنن ابن ماجہ : ۲۹۱۴ سنن ترمذی : 831، سنن بیہقی ج ۵ ص ۲۶ مسند ابوحنیفہ: ۲۲۴ صحیح ابن حبان : 3761، مسند احمد ج ۳ ص ۲ طبع قدیم مسند احمد : ۴۴۵۵ – ج ۸ ص ۲۳ مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں نافع نے حدیث بیان کی، جو حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما کے آزاد شدہ غلام ہیں از حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضي الله عنہما کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: یارسول اللہ ! آپ ہمیں کس جگہ سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں،پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور اہل شام جحفہ سے احرام باندھیں اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں اور حضرت عمر نے کہا: لوگوں کا یہ زعم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اہل یمن، یلملم سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر یہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو نہیں سمجھا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج میں احرام باندھنے کا مسئلہ معلوم کیا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) قتیبہ بن سعید۔
(۲) لیث بن سعد ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۳) نافع بن سرجس ایک قول یہ ہے کہ یہ مغرب کے رہنے والے تھے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ نیشاپور کے رہنے والے تھے تیسرا قول ہے: یہ کابل کے رہنے والے تھے حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان کو بعض غزوات میں حاصل کیا تھا، اور عمر بن عبد العزیز نے ان کو مصر بھیج دیا تھا تا کہ یہ سنت کا علم حاصل کریں۔ یہ 117ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے ۔
(۴) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۲۸۔ ۳۲۷)
اهلال“ کا معنی اور مواقیت کا جغرافیائی مواضع وقوع
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں:
اس حدیث میں بھی “نھل” کا لفظ ہے یہ اھلال“ سے بنا ہے اس کا معنی ہے: احرام باندھ کر بلند آواز سے تلبیہ کہنا۔ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد بلند آواز سے روتا ہے تو اس کو استھل “ کہتے ہیں۔
” ذو الحلیفہ علامہ نووی نے کہا: یہ مدینہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے قاضی عیاض نے کہا: یہ مدینہ سے سات میل کے فاصلہ پر ہے ابن حزم نے کہا: یہ مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر ہے اور مکہ سے ۱۹۸ میل کے فاصلہ پر ہے۔ (مدینہ سے چھ یا سات میل پر ایک گاؤں ہے جہاں سے اہل مدینہ احرام باندھتے ہیں۔ معجم البلدان ص ۱۱۹)
الجحفة “یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے جو شام کی جانب ہے۔ یہ مکہ سے چھ یا سات مراحل پر واقع ہے یہ سمندر کے قریب ایک شہر ہے۔ (مدینہ اور مکہ کی راہ پر چوتھی منزل پر ایک گاؤں ہے ) یہ اہل شام اور مصر کی میقات ہے۔( معجم البلدان أردوا ص ۹۴)
اهل نجد نجد کا معنی ہے: زمین کا جو حصہ زمین کے اوپر ہو اس کو نجد‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پتھریلی زمین ہے اور یہاں جانا بہت صعوبت کا باعث ہے نجد حجاز اور شام کے درمیان ایک جگہ ہے۔ ( عرب کا وسطی علاقہ اس کا مرکزی شہر ریاض ہے اس کی حدود بدلتی رہتی ہیں، اب اس کے مشرق میں بحرین ہے مغرب میں حجاز ہے شمال میں عراق اور جنوب میں صحراء ہے۔ معجم البلدان اردوص ۳۳۹)
قرن یہ گول اور چکنا پہاڑ ہے جو شخص نجد کے راستہ سے آئے اس کا میقات قرن المنازل ہے یہ مکہ سے مشرق کی طرف ہے یہاں سے مکہ ۷۲ میل ہے۔ (یہ مکہ سے اکیاون میل اور طائف سے چھتیس میل دور ہے۔ معجم البلدان اُردوص ۲۷۲)
یلملم “ یہ تہامہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے اور مکہ سے دو مرحلوں کے فاصلہ پر ہے ابن حزم نے کہا: یہ مکہ کے جنوب میں ہے اور اس سے مکہ ۳۰ میل ہے البکری نے کہا: اس کی وادیاں سمندر میں گرتی ہیں یہ یمن کے راستہ میں ہے اور یہ تہامہ کے بڑے راستہ میں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص۳۳۰-328 ملخصاً)
یلملم ” مکہ کے جنوب میں دو شب کی مسافت پر اہل یمن کی میقات جہاں حضرت معاذ بن جبل کی مسجد بھی ہے یا طائف کے قریب ایک پہاڑ ۔ ( معجم البلدان اُردوس ۳۶۴)
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۶۹۹ – ج ۳ ص ۲۷۹ ۲۷۸ پر ہے اس کی شرح میں حسب ذیل عنوانات ہیں:
میقات کا لغوی اور شرعی معنی
میقات سے گزرنے میں مذاہب اربعہ
(۳) احناف کا موقف
(۴) احرام کا فلسفہ۔