کتاب العلم باب 52 حدیث نمبر 134
٥٣ – بَابُ مَنْ أَجَابَ السَّائِلَ باكْثَرَ مِمَّا سَالَهُ
جس نے سائل کے سوال سے زیادہ جواب دیئے
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں بھی سوال اور جواب تھے اور اس باب میں بھی سوال اور جواب کا ذکر ہے۔
١٣٤ – حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا سَالَهُ مَا يَلْبَسَّ الْمُحْرِمِ؟ فَقَالَ لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ولَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيْلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا ثوْباً مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانَ، فَإِنْ لَّمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخفینِ، وَلْيَقْطَعُهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ.
اطراف الحدیث :۳۶۶- ۱۵۴۲ – ۱۸۳۸ – ۱۸۴۲ – ۵۷۹۴ – ۵۸۰۳ – ۵۸۰۵-۵۸۰۶ – ۵۸۴۷ – ۵۸۵۲
صحیح مسلم:1177، الرقم المسلسل :2745، سنن ابوداؤد : ۱۸۲۴ سنن نسائی: ۲۶۶۹ – ۲۶۷۴ سنن ابن ماجه : ۲۹۲۹ – ۲۹۳۲، مسند الشافعی ج ۱ ص ۳۰۰ السنن الکبری للنسائی : 3649، مسند ابو یعلی :۵۸۰۵، صحیح ابن حبان : 3784، سنن بیہقی ج ۵ ص ۴۹ شرح السنتہ: 1976، مسند احمد ج ۲ ص ۶۳ طبع قدیم مسند احمد : ۵۳۰۸ – ج ۹ ص 225 مؤسسة الرسالة بيروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی از نافع از ابن عمر رضی الله عنہما از نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور از الزہری از سالم از ابن عمر از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ایک شخص نے آپ سے سوال کیا محرم کیا پہنے؟ آپ نے فرمایا: وہ قمیص نہ پہنے اور عمامہ نہ پہنے اور شلوار نہ پہنے اور نہ ٹوپی پہنے اور نہ ایسا کپڑا پہنے جس کو زعفران یا ورس سے رنگا ہوا ہو پس اگر اس کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور ان کو کاٹ لے حتی کہ وہ ٹخنوں کے نیچے ہوجائیں ( ورس سے مراد خوشبودار گھاس ہے)۔
باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: پس اگر اس کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے کیونکہ یہ جملہ اس کے سوال سے زائد ہے۔
اس حدیث کے چھ ر جال ہیں ان سب کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے آدم کا پورا نام آدم بن ابی ایاس ہے اور ابن ابی ذئب کا نام محمد بن عبد الرحمان مدنی ہے اور نافع حضرت ابن عمر کے آزاد کیے ہوئے غلام ہیں اور الزھری محمد بن مسلم بن شہاب ہیں اور سالم وہ حضرت عبداللہ بن عمر کے بیٹے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔
“الکعبین” کی تفسیر علامہ بدرالدین عینی سے
الكعبين ” کے متعلق علامہ بدر الدین محمود بن العینی المتوفی ۸۵۵ھ نے صحیح البخاری کی اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے:
یہ کعب “ کا تثنیہ ہے اور یہاں اس سے مراد وسط قدم کی وہ جگہ (ہڈی یا جوڑ) ہے جہاں جوتی کا تسمہ باندھتے ہیں نہ کہ وہ اُبھری ہوئی ہڈی جو پنڈلی کے جوڑ کی جگہ ہوتی ہے کیونکہ کعب” سے مراد وہ اُبھری ہوئی ہڈی وضو کے باب میں ہوتی ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۲ ص ٬۳۳۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
علامہ عینی کی تفسیر پر مصنف کا تبصرہ
پنڈلی کے جوڑ پر جو ابھری ہوئی ہڈی ہوتی ہے، اس کو عرف عام میں ٹخنہ کہتے ہیں علامہ عینی کا مطلب یہ ہے کہ حج میں” کعب “سے مراد ٹخنہ نہیں ہے بلکہ اس سے وسط قدم مراد ہے یعنی موزوں کو وسط قدم تک کاٹا جائے نہ کہ صرف ٹخنوں تک لیکن اس پر قوی اشکال یہ ہے کہ حدیث میں “کعبین ” کا لفظ ہے جو کہ تثنیہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے: دو ہڈیاں اور وسط قدم میں تو صرف ایک ہڈی ہے اس پر كعبین‘ کا لفظ صادق نہیں آئے گا کعبین “ کا لفظ تو صرف ٹخنوں پر صادق آئے گا جو ہر پیر میں دو ہوتے ہیں، اس پر دوسرا قوی اشکال یہ ہے کہ موزوں کو کعبین تک کاٹنے کا مقصد تو یہ ہے کہ جوتوں کی بجائے ان کٹے ہوئے موزوں کو پہن کر چلا جائے، اگر کعبین “ سے مراد ٹخنے لیے جائیں تو پھر ٹخنوں تک موزوں کو کاٹ کر ان کو جوتوں کی جگہ پہن کر چلا جا سکتا ہے، لیکن اگر کعبین“ سے مراد وسط قدم کی ہڈی لی جائے اور وہاں تک موزوں کو کاٹ دیا جائے تو ان کٹے ہوئے موزوں کو پہن کر چلا نہیں جا سکتا کیونکہ اب ان موزوں کے ٹھہر نے اور ٹکنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور محرم کی عجیب صورت حال ہو گی، اس کا آدھا پیر تو موزے کے اندر ہوگا اور آدھا پیر موزے سے باہر ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو اس مضحکہ خیز صورت حال پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔
علامہ ابن حجر کا کعب “ کی تفسیر میں ہشام کے قول کو کتب لغت سے رد کرنا
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ ھ اس حدیث (۱۵۴۲) کی شرح میں لکھتے ہیں :
امام محمد بن حسن اور فقہاء احناف میں سے ان کے متبعین نے کہا ہے کہ ” کعب” سے مراد یہاں وہ ہڈی ہے جو قدم کے وسط میں ہوتی ہے جس جگہ جوتی کا تسمہ باندھتے ہیں اس پر یہ اعتراض ہے کہ کعب ” کا یہ معنی اہل لغت کے نزدیک معروف نہیں ہے اور اس پر یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ امام محمد کا یہ قول ثابت نہیں ہے اور اس قول کو ان سے نقل کرنے کا سبب یہ ہے کہ ہشام بن عبیداللہ الرازی نے محرم کے مسئلہ میں ان سے یہ سنا کہ محرم کو جب جوتے نہ ملیں تو وہ اپنے موزوں کو کاٹ لے پھر امام محمد نے اپنے ہاتھ سے کاٹنے کی جگہ کی طرف اشارہ کیا اور اس کو ہشام نے وضو میں پیر دھونے کی طرف نقل کر دیا، اسی وجہ سے علامہ ابن بطال اور دوسرے ان علماء پر رد کیا گیا ہے، جنہوں نے امام ابوحنیفہ سے یہ نقل کیا ہے کہ کعب ” سے مراد وہ معین ہڈی ہے جو قدم کی پشت پر ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کعب کا یہ معنی امام محمد سے منقول ہے اور اگر بالفرض یہ نقل صحیح ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہو اور اصمعی نے امامیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کعب “ وہ گول ہڈی ہے جو پنڈلی کی ہڈی کے نیچے پنڈلی اور قدم کے جوڑ پر ہوتی ہے اور جمہور اہل لغت نے یہ کہا ہے کہ ہر قدم میں دو کعب ہوتے ہیں۔ (فتح الباری ج ۳ ص ۱۱۹ دار المعرفة بیروت ۱۴۲۲ھ )
حافظ ابن حجر کی تحقیق سے یہ واضح ہو گیا کہ کعب ” سے مراد وسط قدم کی ہڈی لینا امام ابوحنیفہ کا قول ہے نہ اس کو امام محمد بن حسن شیبانی نے کہیں لکھا ہے یہ صرف علامہ ابو الحسن مرغینانی متوفی ۵۹۳ ھ اور شارحین ” ہدایہ نے ہشام بن عبد اللہ الرازی کے قول سے مستنبط کیا ہے “ہدایہ” کی شرح میں علامہ عینی نے اس کے بالکل بر خلاف لکھا ہے جو انہوں نے بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں لکھا ہے ۔
علامہ عینی کا کعب“ کی تفسیر میں ہشام کے قول کو کتب لغت، قواعد نحو اور احادیث سے رد کرنا
علامہ مرغینانی صاحب ہدایہ نے ہدایہ میں لکھا: ” الكعب “ سے مراد وہ اُبھری ہوئی بلند ہڈی ہے۔
اس کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
الکعب “ وہ ہڈی ہے جو قدم کے جوڑ میں ہوتی ہے جو پنڈلی اور قدم کے ملنے کی جگہ پر بلند ہوتی ہے ( یعنی ٹخنے) اور الا صمعی نے ان لوگوں کے قول کا انکار کیا ہے، جنہوں نے کہا : یہ ہڈی قدم کی پشت پر ہوتی ہے انہوں نے جوہری سے یہ نقل کیا ہے کہ زجاج نے کہا ہے کہ “الکعبان “ دو بلند ہڈیاں ہیں، جو پنڈلی کے آخر میں قدم کے ساتھ ہوتی ہیں (یعنی ٹخنے ) اور ہڈیوں کا ہر جوڑ” کعب “ ہے مگر یہ دونوں” کعب‘ دائیں اور بائیں قدم میں ظاہر ہوتے ہیں، اس وجہ سے اس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ کہا جائے دو” کعب” وہ ہیں جن کی یہ اور یہ صفت ہے۔ (اصحاح للجوہری ج ۱ ص ۲۱۳ دار العلم الملایین، بیروت ۱۳۷۶ھ ) علامہ زبیدی متوفی ۱۲۰۵ھ نے اس عبارت پر یہ اضافہ کیا ہے کہ” کعب “ سے مراد وہ ہڈی لینا جو قدم کی پشت پر ہوتی ہے یہ شیعہ کا قول ہے اور اصمعی نے اس قول کا رد کیا ہے۔ (تاج العروس ج ۱ ص ۴۵۶ دار احیاء التراث العربی بیروت) علامہ ابن اثیر الجزری متوفی ۶۰۶ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (النہایہ ج ۲ ص ۱۵۴ دار الکتب العلمیہ بیروت (۱۳۱۸ھ ) علامہ طاہر پٹنی گجراتی متوفی ۹۸۶ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (مجمع بحار الانوار ج ۲ ص ۴۱۶، مکتبہ دارالایمان مدینه منوره 1415ھ)
علامہ عینی لکھتے ہیں : اور المختصر میں لکھا ہوا ہے: ہر پیر میں دو” کعب” ٹخنے ہوتے ہیں اور پنڈلی اور قدم کے ملنے کی جگہ پر دو طرفوں کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ (مختصر القدوری ص ۱۳۰ ادارۃ القرآن 1422ھ ) ابن جنی نے کہا: ابوکبیر کا قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ “الكعبين “ وہ بلند ہڈیاں ہیں، جو ہر پنڈلی کے نیچے اس کی کروٹوں میں ہوتی ہیں اور وہ معین ہڈی جو قدم کی پشت میں ہوتی ہے وہ کعب نہیں ہے اور الازہری نے ” التہذیب” میں ثعلب سے نقل کیا ہے کہ” الکعبان” دو بلند ہڈیاں ہیں انہوں نے کہا: یہ ابوعمرو بن العلاء اور الاصمعی کا قول ہے اور کتاب المنتہی اور جامع القراز میں مذکور ہے : ” الكعب “ وہ بلند ہڈی ہے جو پنڈلی اور قدم کے ملنے کی جگہ پر ہوتی ہے اور ہر پیر میں دو کعب ( ٹخنے ) ہوتے ہیں اور اس کی جمع کعوب “ اور ” کعاب“ ہے۔
امامیہ اور تمام وہ لوگ جو پیروں پر مسح کے قائل ہیں، انہوں نے کہا: یہ گول ہڈی ہے جیسی بکریوں اور گایوں کی ہڈی ہوتی ہے جو پنڈلی کے نیچے وہاں رکھی ہوئی ہے جہاں پنڈلی اور قدم کا جوڑ ہے جو تسمہ باندھنے کی جگہ ہے اور فخر الدین ابن الخطیب نے کہا: الاصعی نے” الکعب” میں امامیہ کے قول کو اختیار کیا ہے اور کہا: دو بلند طرفوں کو ”نجمان “ کہا جاتا ہے اور یہ نقل اس کے خلاف ہے کہ “کعب” وسط قدم کی ہڈی ہے اور اگر” کعب” وہ ہوتا جس کو انہوں نے ذکر کیا ہے تو ہر پیر میں ایک” کعب “ ہوتا ، پھر مناسب یہ تھا کہ یوں کہا جاتا کہ پیروں کو” کعاب” تک دھویا جائے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ انسان کی خلقت میں جو عضو واحد ہے اس کا تثنیہ جمع کے صیغہ سے آتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے:
فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا . (التحريم:۴)
پس بے شک تم دونوں کے دل راہ اعتدال سے کچھ ہٹ چکے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے” الی الکعبین” کی جگہ ” الى الكعاب” کیوں نہیں فرمایا اور” کعب “ سے قدم کے پشت کی ہڈی کو مراد لینا ایک مخفی چیز ہے، جس کو شارحین کے سوا کوئی نہیں جانتا اور ہم نے جو” کعبین ” کا معنی ذکر کیا ہے ( یعنی ٹخنے ) یہ معنی ہر ایک کو معلوم ہے اور مکلف کرنے کا مدار ظاہر معنی پر ہوتا ہے نہ کہ مخفی معنی پر نیز حضرت عثمان کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اپنے دائیں پیر کو “الكعبين ” تک دھویا پھر اسی طرح بائیں پیر کو دھویا ۔
(صحیح البخاری : ۱۵۹ صحیح مسلم : 226، ارقم المسلسل : ۵۲۷ سنن ابوداؤد:۱۰۶ سنن نسائی: ۸۴)
یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر پیر میں دو کعب ” ( ٹخنے ) ہیں اور اسی طرح یہ حدیث ہے:
حضرت النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اللہ کی قسم ! تم اپنی صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے خلاف کر دے گا ، حضرت نعمان نے کہا: میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے صاحب کے کندھے کے ساتھ چمٹاتا تھا اور اپنے گھٹنے کو اس کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ” کعب “ کو اس کے “کعب “ کے ساتھ ۔ (سنن ابوداؤد: ۶۶۲)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ ایک شخص اپنے “کعب “ کو اپنے صاحب کے “کعب “ کے ساتھ چمٹاتا تھا اگر” کعب‘ کا معنی وسط قدم کی ہڈی ہو تو پھر کوئی شخص اپنے” کعب” کو نماز میں اپنے صاحب کے “کعب “ کے ساتھ نہیں ملا سکتا یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب “کعب ” کا معنی ٹخنے ہو۔
درج ذیل حدیث میں بھی اس پر دلیل ہے کہ” کعب “ کا معنی وسط قدم کی ہڈی نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کا معنی ٹخنہ ہی ہو سکتا ہے۔
حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ کے اوپر سرخ جبہ تھا اور آپ فرمارہے تھے: اے لوگو! کہو لا الہ الا اللہ(اللہ کے سواکوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ) تم فلاح پالو گے اور ایک آدمی آپ کے پیچھے آپ کو پتھر مار رہا تھا اور آپ کی کونچوں (ایڑی کے اوپر کے پٹھوں) اور آپ کے “کعبین” ” ( ٹخنوں) سے خون بہ رہا تھا اور وہ آدمی یہ کہ رہا تھا: اے لوگو! اس کی بات نہ ماننا یہ بہت بڑا جھوٹا ہے میں نے پوچھا: یہ شخص کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ عبد المطلب کے بیٹے ہیں، پھر میں نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے جو ان کا پیچھا کر رہا ہے اور ان کو پتھر مار رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عبد العزى ابولہب ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 14 ص ۳۰۰ ادارة القرآن ۱۴۰۶ھ ، صحیح ابن حبان : ۶۵۶۲ مؤسسة الرسالة بیروت 1414ھ سنن دارقطنی : ۲۹۴۴ – ج ۳ ص ۴۴ دار المعرفه بیروت 1422ھ، المستدرک : ۴۲۱۹ – ج ۲ ص ۶۱۲ ذہبی نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، مکتبہ نزار مصطفی ۱۴۲۰ھ جمع الجوامع للسيوطی : ۱۱۴۵۱ سنن بیہقی ج ۱ ص ۷۶ )
علامہ عینی فرماتے ہیں: یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ “کعب” سے مراد وہ بلند ابھری ہوئی ہڈی ہے جو قدم کی جانب میں ہوتی ہے ،یعنی ٹخنہ، جب کوئی شخص کسی چلنے والے کو پیچھے سے پتھر مارے گا تو وہ اس کے وسط قدم کی پشت پر نہیں لگے گا، وہ اس کے ٹخنے پر ہی لگ سکتا ہے۔
صاحب ہدایہ نے کہا: ” کعب” کا یہی معنی صحیح ہے علامہ عینی فرماتے ہیں : صاحب ہدایہ نے اس قول کو صحیح کہہ کر ہشام بن عبداللہ رازی کی روایت سے احتراز کیا ہے کہ “کعب” قدم کی پشت پر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں تسمہ باندھا جاتا ہے فقہاء نے کہا ہے کہ ہشام کو امام محمد بن حسن رحمہ اللہ سے نقل کرنے میں سہو ہوا ہے کیونکہ امام محمد نے محرم کے مسئلہ میں یہ کہا ہے کہ اگر اس کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزوں کو کعبین ( ٹخنوں) کے نیچے سے کاٹ لے اور امام محمد نے اپنے ہاتھ سے کاٹنے کی جگہ کی طرف اشارہ کیا، پس ہشام نے اس قول کو ” باب طہارت” میں نقل کردیا۔
علامہ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں کہا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ ” کعب” وہ ہڈی ہے جو قدم کی پشت میں ابھری ہوئی ہوتی ہے اور اس پر اعتراض کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے جو کہا ہے اس کو اہل لغت نہیں پہچانتے، علامہ عینی فرماتے ہیں: یہ ابن حجر کی امام ابو حنیفہ کے مذہب سے جہالت ہے کیونکہ ابن حجر نے جو نقل کیا ہے وہ امام ابو حنیفہ کا قول نہیں ہے اور نہ امام ابوحنیفہ کے اصحاب میں سے کسی نے اس قول کو نقل کیا ہے، پس اس نے یہ کیسے کہہ دیا کہ امام ابو حنیفہ نے ایسے ایسے کہا ہے اور یہ ان کی ائمہ کے خلاف بہت بڑی جرات ہے۔ (البنایہ شرح الہدایہ ج ا ص ۷۱ – 69 مکتبہ حقانیہ ملتان، ۱۴۰۸ھ )
كعب “ کی تفسیر میں علامہ ابن حجر اور علامہ عینی کی عبارات پر مصنف کا محاکمہ
دراصل علامہ عینی خود بھول گئے کہ وہ” عمدۃ القاری شرح بخاری” میں کیا لکھ چکے ہیں، انہوں نے وہاں لکھا ہے کہ ” کعب” سے مراد وسط قدم کی وہ ہڈی ہے جس پر جوتی کا تسمہ باندھتے ہیں، نہ کہ وہ اُبھری ہوئی ہڈی جو پنڈلی کے جوڑ کی جگہ ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۳۵) اور علامہ عینی نے علامہ ابن حجر پر جو یہ عتاب کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ کعب وسط قدم کی ہڈی ہے اور یہ اہل لغت کے نزدیک ثابت نہیں، سو یہ بھی علامہ عینی کا بے جا عتاب ہے، علامہ ابن حجر نے کہا ہے کہ بعض فقہاء احناف نے اس طرح کہا ہے اور انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے نہ امام محمد کا ہم علامہ عینی کی طرف سے علامہ ابن حجر کی روح سے معذرت خواہ ہیں اور ہم اس پر شرمندہ ہیں کہ ہمارے بہت بڑے حنفی عالم نے علامہ ابن حجر کی شان میں نازیبا کلمات کہے جب کہ وہ ان کلمات کے مصداق نہیں ہیں اور جو کچھ علامہ عینی نے ان کے خلاف کہا وہ ان سے بری ہیں اللہ تعالی ان دونوں محققین پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور ان کے درجات بلند کرے، بے شک علامہ ابن حجر نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ” کعب” سے مراد وسط قدم کی ہڈی نہیں ہے بلکہ ٹخنے کی ہڈی ہے لیکن انہوں نے صرف اہل لغت کے مبہم اقوال سے استدلال کیا ہے، اس پر انہوں نے ایک بھی حدیث نہیں پیش کی جب کہ علامہ عینی نے اس پر متعدد کتب لغت کے حوالے دیئے ہیں، نحوی قواعد سے استدلال کیا ہے اور حضرت عثمان حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت طارق بن عبد اللہ محاربی رضی اللہ عنہم کی صحیح اور صریح احادیث سے استدلال کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ ابن حجر کی بہ نسبت علامہ عینی کی احادیث پر بہت گہری نظر ہے اور علم میں ان کا مرتبہ حافظ ابن حجر سے کہیں زیادہ ہے لیکن انسانی کمزوریوں سے کوئی بشر خالی نہیں ہے اور معاصرانہ تعصب بھی انسانی کمزوری ہے۔
علامہ زین الدین ابن نجیم اور علامہ شامی کا “کعب “ کی تفسیر میں ہشام کے قول کو رد کرنا
علامہ زین الدین ابن نجیم مصری متوفی ۹۷۰ھ نے علامہ عینی کی طرف سے لکھا ہے وہ لکھتے ہیں:
ہشام نے جو امام محمد سے روایت کی ہے کہ “کعب ” کا معنی وسط قدم کی پشت ہے، یہ ان کا سہو ہے، کیونکہ انسان کے جن اعضاء کا تثنیہ ( دو دو ) لکھنا ہو تو ان کو جمع کے صیغہ کے ساتھ لکھا جاتا ہے جیسے فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا . ” (التحریم: ۴) میں ہے یعنی تم دونوں کے دل قدرے کج ہوگئے اور اگر ہشام کی روایت صحیح ہوتی تو قرآن مجید میں “الى الكعبين‘ کی بجائے ” الى الكعاب “ ہوتا جیسے الى المرافق ” ہے۔ اسی طرح المبسوط میں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس روایت پر لغت اور سنت سے رد کیا جائے، رہی لغت تو صحاح میں یہ تصریح ہے کہ” کعب” ابھری ہوئی بلند ہڈی کو کہتے ہیں اور الاصمعی نے اس قول کو رد کر دیا ہے کہ ” کعب“ کا معنی وسط قدم کی پشت ہے انہوں نے کہا کہ ” کعب “ کلام عرب میں علو ( بلندی) سے ماخوذ ہے اس وجہ سے” کعبہ “ کہتے ہیں، کیونکہ وہ بلند ہے اور رہی سنت تو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! تم اپنی صفوں کو سیدھا رکھو، ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو ٹیڑھا کر دے گا حضرت نعمان بن بشیر نے کہا: میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے صاحب کے کندھے سے ملاتا اور اپنے ” کعب “ کو اپنے صاحب کے” کعب” سے ملاتا ( اور یہ اسی وقت ہوگا جب “کعب ” کا معنی ٹخنہ ہو نہ کہ وسط قدم کی پشت کی ہڈی ) ۔ (البحر الرائق ج ا ص 14 ۱۳ مکتبۃ الماجدیہ کوئٹہ )
علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں :
“الكعبین” قدم کی دونوں جانبوں میں دو اُبھری ہوئی ہڈیاں ہیں (یعنی ٹخنے ) پھر انہوں نے البحر الرائق“ کے دلائل کے حوالے سے ہشام کی اس روایت کا رد کیا ہے کہ ” الكعب” وسط قدم کی پشت کی ہڈی ہے۔
(ردالمختار ج ا ص ۱۹۰ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ)
“کعب “ کی تفسیر میں صحیح البخاری‘ کے دیو بندی شارحین کی لغزش
صحیح بخاری کے دیوبندی شارحین اس تحقیق پر مطلع نہیں ہوسکے اور انہوں نے زیر بحث حدیث البخاری: ۱۳۴ کی شرح میں لکھا ہے کہ ” کعب “ کا معنی وسط قدم کی پشت کی ہڈی ہے۔
سید احمد رضا بجنوری لکھتے ہیں:
اگر جوتے کو اوپر سے اس طرح چاروں طرف سے کاٹ دیا جائے کہ پاؤں کا اوپر کا حصہ اور بیچ کی ہڈی کھلی رہی تو وہ بھی جائز ہے۔ (انوار الباری ج 6 ص 312 اداره تالیفات اشرفیه ملتان )
اس عبارت میں دوسری غلطی یہ ہے کہ حدیث میں تو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹنے کا حکم ہے اور انہوں نے اس کی شرح میں جوتے کو چاروں طرف سے کاٹنے کولکھا ہے۔
شیخ تقی عثمانی لکھتے ہیں:
“کعبین “ سے وسط قدم کی ہڈی مراد ہے یعنی اس طرح کاٹ لیں کہ اس سے نیچے ہو جائیں۔
انعام الباری ج ۲ ص ۲۲۶ مکتبة الحراء کراچی )
’ کعب “ سے وسط قدم مراد لینے کی تاویل کا ابطال
بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ وضو کی بحث میں “کعب” سے مراد ٹخنہ ہے اور محرم کی بحث میں” کعب ” سے مراد وسط قدم کی ہڈی ہے سو یہ قول بالکل غلط ہے کیونکہ جب کتب لغت، نحوی قواعد اور احادیث سے ثابت ہو گیا کہ” کعب “ کا معنی ٹخنہ ہے تو اس کو محرم کی بحث میں وسط قدم کی ہڈی پر محمول کرنے کا کیا جواز ہے نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے متعلق ہی فرمایا ہے کہ وہ موزے کو کعبین کے نیچے سے کاٹ لے اور” کعبین ” تثنیہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے: دو کعب اور ہر پیر میں دو کعب ٹخنے ہی ہوتے ہیں، وسط قدم کی ہڈی تو ایک ہے، دو نہیں ہے، اس پر “کعبین ” کا اطلاق کیسے درست ہوگا ! دوسرے یہ کہ اگر موزے کو وسط قدم سے کاٹ دیا جائے تو آدھا پیر موزے کے اندر ہوگا اور آدھا پیر موزے سے باہر ہو گا اور آدھے پیر کا موزہ پہن کر نہ صرف یہ کہ چلنا بہت مشکل ہوگا بلکہ یہ صورت انتہائی مضحکہ خیز ہوگی اور حدیث رسول کو ایسے مضحکہ خیز معنی پر محمول کرنا جائز نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امام محمد” كعب “ کے اس معنی سے بری ہیں۔
امام محمد کی “المبسوط” میں ہشام کی عبارت کی تحقیق
ہم نے اس مسئلہ کی زیادہ تحقیق کے لیے امام محمد کی المبسوط ( کتاب الاصل) کا مطالعہ کیا، اس میں امام محمد کی یہ عبارت نہیں ہے جس کو فقہاء احناف نے نقل کیا ہے البتہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ۴۸۳ھ نے اس طرح لکھا ہے:
ہشام نے امام محمد رحمہ اللہ سے یہ نقل کیا ہے کہ جب محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ اپنے موزوں کو” کعبین “ کے نیچے سے کاٹ دے تاکہ وہ موزے جوتوں کے حکم میں ہوجائیں اور ہشام نے امام محمد کی طرف سے یہ تفسیر کی ہے کہ اس جگہ ” کعب “ سے مراد وہ جوڑ ہے جو وسط قدم میں تسمہ باندھنے کی جگہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے ہمارے متاخرین مشائخ نے کہا ہے کہ محرم کے ” المشك ” پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ” کعب” کو نہیں چھپاتا تو وہ جوتوں کے حکم میں ہے۔ (المبسوط ج4 ص ۱۳۹ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )
ہشام کی یہ تفسیر اس لیے غلط ہے کہ وسط قدم میں کوئی جوڑ نہیں ہے انسان کے قدم یا پیر کا عضو ایک سیدھا اور سپاٹ جسم ہے، اس میں کوئی جوڑ نہیں ہے جوڑ صرف پیر کی دونوں جانبوں میں ہے جہاں پنڈلی ختم ہوتی ہے اور اس کی دونوں جانبوں میں ٹخنے ہیں اور یہی “کعبین “ کا مصداق ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ شمس الائمہ سرخسی کا جو قدیم نسخہ ہمارے پاس ہے اس میں ہشام کی منقولہ عبارت نہیں ہے اس کی عبارت اس طرح ہے:
امام محمد نے کہا: محرم نہ قباء ( اچکن ) پہنے نہ قمیص نہ شلوار نہ ٹوپی کیونکہ حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ محرم نہ قباء پہنے نہ قمیص نہ شلوار اور نہ ٹوپی اور نہ موزے البتہ اگر اس کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزوں کو کعبین “ ( ٹخنوں ) کے نیچے سے کاٹ دے۔ (المبسوط ج ۲ ص ۷ دار المعرفہ بیروت ۱۳۹۸ھ )
محرم کے لیے چمڑے اور ریگزین کی چپل پہنے کا جواز
ہم اس مسئلہ کی گہرائی اور گیرائی میں اس لیے گئے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں نا واقف عوام میں یہ مسئلہ مشہور ہو گیا ہے کہ محرم کے لیے اسفنج یا ربڑ کی ایسی چپل پہننا ضروری ہے، جس میں پیر کی پوری پشت کھلی رہتی ہے اور چمڑے یا ریگزین کی ایسی چپل یا ایسا جوتا پہننا جائز نہیں ہے، جس میں پیر کی پشت ڈھکی ہوئی ہو خواہ ٹخنے کھلے ہوئے ہوں، جب کہ ایسی چپل یا ایسے جوتے پہننا بالکل جائز ہیں، جیسا کہ ہماری تفصیل اور تحقیق سے ظاہر ہو چکا ہے۔
ہم نے شرح صحیح مسلم : ۲۶۸۹ ج ۲ ص۲۴۶ میں بھی یہ مسلہ لکھا تھا، لیکن وہاں اختصار سے صرف چار سطریں لکھی تھیں جب کہ یہاں نعمۃ الباری میں اس مسئلہ کو بالکل ” الم نشرح کر دیا ہے۔ الحمد لله على ذلك.
اس اعتراض کا جواب کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ محرم کیا پہنے؟ تو آپ نے جواب میں وہ کپڑے ذکر کیے، جن کا پہننا ان کے لیے جائز نہیں
اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ محرم کیا پہنے ؟ تو آپ نے جواب میں ان کپڑوں کا ذکر فرمایا جن کا پہننا محرم کے لیے جائز نہیں ہے، بہ ظاہر جواب یہ ہونا چاہیے تھا کہ محرم فلاں فلاں کپڑے پہنے تو اس خلاف ظاہر جواب کی کیا توجیہ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس خلاف ظاہر جواب کے حسب ذیل فوائد اور حکمتیں ہیں:
(1) محرم کے لیے جن کپڑوں کا پہننا ناجائز ہے وہ منحصر اور منضبط ہیں اور جن کپڑوں کا پہننا اس کے لیے جائز ہے وہ غیر منضبط اور غیر منحصر ہیں۔
(۲) اصل اشیاء میں اباحت ہے محرم کے لیے جن کپڑوں کا پہننا ناجائز تھا ان کوآپ نے بتادیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے ماسوا کپڑوں کا پہننا جائز ہے۔
(۳) اگر بالفرض آپ یہ فرماتے کہ محرم فلاں فلاں کپڑے پہنے تو ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص مفہوم مخالف سے یہ سمجھ لیتا کہ غیرمحرم ان کپڑوں کے علاوہ کپڑوں کو نہیں پہن سکتا۔
(۴) آپ نے اس جواب سے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ دراصل سائل کو چاہیے تھا کہ وہ یہ پوچھتا کہ محرم کون سا لباس نہیں پہن سکتا اور اس کے لیے کون سا لباس پہننا حرام ہے کیونکہ حرام سے بچنا زیادہ اہم ہے باقی رہا جواز تو اس کا جاننا زیادہ اہم نہیں ہے، کیونکہ وہ قیاس سے بھی معلوم ہو سکتا ہے۔
(۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جزوی ملبوسات کو پہننے سے منع فرمایا ہے وہ اپنے ضمن میں کلیات کے حامل ہیں، مثلاً آپ نے قمیص اور شلوار کو پہننے سے منع فرمایا اس سے یہ کلیہ نکلتا ہے کہ محرم کے لیے سلا ہوا کوئی کپڑا پہننا جائز نہیں ہے، شلوار کے لفظ سے اس پر متنبہ فرمایا کہ شرم گاہ کو چھپانے کے لیے کوئی سلا ہوا کپڑا پہننا جائز نہیں، عمامہ اور ٹوپی کے لفظ سے اس پر متنبہ فرمایا کہ احرام میں سرکو ڈھانپنا جائز نہیں، خواہ سلے ہوئے کپڑے سے خواہ ان سلے کپڑے سے اور موزوں کے ذکر سے پیروں کو ڈھانپنے کی حدود کا ذکر فرمایا اور زعفران اور ورس کے ذکر سے یہ بتایا کہ محرم کے لیے کسی قسم کی خوشبو لگانا جائز نہیں اور آپ نے مذکر کے صیغے ذکر فرمائے اس میں یہ تنبیہ فرمائی کہ لباس کے یہ احکام خصوصا مردوں کے لیے ہیں، عورت کے لیے اپنے تمام جسم کو چھپانا جائز ہے خواہ لباس سلا ہوا ہو یا ان سلا البتہ اس کے لیے منہ کو ڈھانپنا حرام ہے۔
(6)، احرام میں آپ نے جس قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ محرم کو خوش نما لباس سے احتراز کرنا چاہیے اور سادہ لباس میں رہنا چاہیئے ممنوع کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے اور عبادت میں دل لگانا چاہیے اور کفن کے مشابہ لباس پہنے تاکہ اس کو موت اور آخرت کی یاد آتی رہے اور خوشبو سے منع کرنے کی حکمت یہ ہے تا کہ وہ دنیا کی زینت اور دنیا کی مرغوبات سے دور رہے۔
موزوں کو نیچے سے کاٹے بغیر پہننے میں مذاہب ائمہ
اس حدیث میں اس شخص کو موزے پہننے کی اجازت دی ہے، جس کو جوتے نہ ملیں، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے ائمہ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے اس کے برخلاف امام احمد کا یہ مسلک ہے کہ محرم ٹخنوں کے نیچے سے موزوں کو کاٹے بغیر بھی ان کو پہن سکتا ہے ان کا استدلال ان احادیث سے ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس محرم کو تہ بند نہ ملے وہ شلوار پہن لے اور جس کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے۔
(صحیح البخاری: ۱۷۴۰ صحیح مسلم : ۱۱۷۸ الرقم المسلسل : ۲۷۴۸ سنن ترمذی: ۸۳۴ سنن نسائی: ۲۶۷۱ سنن ابن ماجہ :۲۹۳۱)
اس سلسلہ میں دوسری حدیث یہ ہے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس شخص کو تہ بند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔ ( صحیح مسلم : ۱۱۷۹ الرقم المسلسل : ۲۷۵۱)
چونکہ ان احادیث میں موزوں کو کاٹنے کی شرط نہیں ہے اس لیے امام احمد نے کہا ہے کہ موزوں کو کاٹے بغیر بھی پہننا جائز ہے اور ان کے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کی جس حدیث میں موزوں کو کاٹنے کا حکم دیا ہے وہ ان احادیث سے منسوخ ہے اور ان کا زعم یہ ہے کہ موزوں کو کاٹنا مال کو ضائع کرنا ہے۔
امام مالک امام شافعی امام ابوحنیفہ اور جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹے بغیر ان کا پہننا جائز نہیں ہے اور حضرت ابن عباس اور حضرت جابر کی احادیث جو مطلق ہیں، ان کو ان احادیث پر محمول کرنا واجب ہے، جن میں موزوں کو کاٹنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ مطلق کو مقید پر محمول کردیا جاتا ہے اور ثقہ راوی کی حدیث میں جو الفاظ زائد ہوں ان کو قبول کرلیا جاتا ہے اور ان کا موزوں کے کاٹنے کو مال کا ضائع کرنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ کے حکم کی تعمیل میں جو کام کیا جائے، اس کو تضییع مال کہنا جائز نہیں ہے۔
امام مالک اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ جس نے ضرورت کی بناء پر موزے پہنے، اس پر فدیہ واجب نہیں ہے کیونکہ اگر اس پر فدیہ واجب ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتادیتے اور امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: اس پر فدیہ واجب ہے، جیسے اس محرم پر فدیہ واجب ہوتا ہے جو سر میں جوؤں کے عذر کی وجہ سے سر منڈائے ۔
حضرت جابر اور حضرت ابن عباس کی حدیثوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ جس کو تہ بند نہ ملے وہ شلوار پہن سکتا ہے امام شافعی اور جمہور کا یہی مسلک ہے البتہ امام مالک اس کو منع کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابن عمر کی حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے اور صحیح یہ ہے کہ عذر کی حالت میں محرم شلوار پہن سکتا ہے۔ (شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم ج ۵ ص ۳۱۷۲ – ۳۱۶۷ ملخصا مکتبہ نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ)
علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں: امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے کہ جس محرم کو تہ بند نہ ملے وہ شلوار پہن سکتا ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس شخص کو فدیہ دینا ہوگا ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۳۸)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۲۶۸۷ – ج ۳ ص 337 پر ہے اس کی شرح میں مذاہب اربعہ میں احرام کی کیفیت کا بیان ہے۔
کتاب العلم“ کا اختتام
صحیح البخاری : ۱۳۴ پر کتاب العلم ختم ہوگئی کتاب العلم میں ۱۰۲ احادیث اور ۱۸‘ متابعات اور تعلیقات وغیرہ ہیں اور اس میں ۱۶ مکرر احادیث ہیں اور ان میں ۱۶ احادیث ایسی ہیں، جن کو امام مسلم نے روایت نہیں کیا اور اس میں ۲۲ صحابہ کے آثار ہیں ۔
ابن رشد نے کہا ہے کہ امام بخاری نے کتاب العلم کو اس باب پر ختم کیا ہے : ” باب من اجاب السائل باكثر مما سئل عنه ، جس نے سائل کے سوال سے زیادہ جواب دیئے، اس میں یہ اشارہ ہے کہ امام بخاری خیر خواہی کے جذبہ اور نیت صحیحہ پر اعتماد کرتے ہوئے انتہا پر پہنچ گئے ہیں اور اس سے کچھ پہلے انہوں نے یہ باب ذکر کیا تھا : ” من خص بالعلم قوما دون قوم كراهية ان لا يفهموا” جس نے علم کی بات کسی ایک قوم کو بتائی، نہ کہ دوسروں کو ان کی ناسمجھی کو ناپسند کرتے ہوئے تو امام بخاری نے بھی ایسا کیا ہے اور بعض مقامات پر اس وجہ سے ان احادیث کو روایت نہیں کیا، جو ان کے نزدیک صحیح الاسناد تھیں ۔
(فتح الباری ج ا ص ۶۷۷ ملخصا دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
آج کے7 ربیع الثانی 1427ھ/ ۶ مئی ۲۰۰۶ ء به روز ہفتہ صحیح البخاری” کی “کتاب العلم ” کی شرح مکمل ہو گئی۔ الحمد لله حمدا كثيرا طيباً مباركا فيه كما يحب ربنا و يرضی۔ الہ العلمین صحیح البخاری کی باقی کتب کی شرح بھی مکمل فرما دے!
ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم 0 ربنا واجعلنا مسلمين لك وتب علينا انك انت التواب الرحيم