اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰٮهَا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 31
sulemansubhani نے Saturday، 16 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰٮهَا ۞
ترجمہ:
اس زمین سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا.
النزعت : 31 میں فرمایا : اور اس زمین سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔
” مرعاھا “ کا معنی ہے اور زمین کے منافع اور فوائد
اس آیت میں فرمایا ہے : زمین سے اس کا پانی نکالا، اس سے مراد ہے : زمین کے چشموں سے پھوٹ کر نکلنے والا پانی ، اور اس میں ” مرعاھا “ کا لفظ ہے ” المرعیٰ “ کا معنی ہے : جاندار کی حفاظت کرنا اور اس کو باقی رکھنا، حفاظت کی تین صورتیں ہیں : (١) خوراک کے ذریعہ (٢) دشمنوں سے بچانا (٣) مناسب انتظام سے حق دار کو اس کا حق دلانا۔ ” راعی “ چرواہے کو بھی کہتے ہیں اور حاکم اور نگران کو بھی راعی کہتے ہیں، اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے :
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے ہر شخص راعی (محافظ) ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت ( ماتحت افراد) کے متعلق سوال کیا جاے گا، امام ( ملک کا سربراہ) راعی ہے اور اس سے اس کی رعیت ( عوام) کے متعلق سوال ہوگا، مراد اپنے گھر میں راعی ہے اور اس سے اس کی رعیت ( گھر والوں) کے متعلق سوال ہوگا، عورت اپنے خاوند کے گھر میں راعیہ ہے اور اس سے اس کی رعیت ( گھر کے مال و متاع) کے متعلق سوال کیا جائے گا، خادم اپنے مالک کے مال کا راعی ہے اور اس سے اس کی رعیت ( مالک کے مال) کے متعلق سوال کیا جائے، اور مرد اپنے باپ کا مال کا راعی ہے اور اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا اور تم میں سے ہر شخص ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت ( اس کے زیر انتظام لوگوں) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩٨، سنن ترمذی رقم الحدیث، ٥٠٧، مسند احمد ج ٨)
اس آیت کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ نے زمین سے انسانوں اور ان کے جانوروں نکالی، سبزہ اور غلہ پیدا کیا، طرح طرح کے پھل پیدا کیے، جڑی بوٹیاں پیدا کیں، جن سے انسان علاج کرتے ہیں، روئی پیدا کی جس سے لباس بنایا جاتا ہے درخت پیدا کیے جن سے فرنیچر اور دوسری ضرورت کی چیزیں بنائی جاتی ہیں، زمین میں معدنیات رکھے، جن میں لوہا ہے جس سے مشینیں اور اسلحہ بنایا جاتا ہے، تانبا اور پیتل سے جن سے برتن بنائے جاتے ہیں، سونا اور چاندی ہے جن سے زیورات بنائے جاتے ہیں، تیل اور قدرتی گیس ہے، جن سے ایندھن حاصل کیا جاتا ہے، دریا پیدا کیے، جن سے کاشت کاری کے لیے پانی حاصل کیا جاتا ہے اور بجلی بنائی جاتی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 31