وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰٮهَا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 30
sulemansubhani نے Saturday، 16 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰٮهَا ۞
ترجمہ:
اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔
النزعت : 30 میں فرمایا : اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔
” دحٰھا “ کا معنی اور زمین کو آسمان سے پہلے پیدا کرنے کی تحقیق
اس آیت میں ” دحٰھا “ کا لفظ ہے ” دحی “ ” دحو “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کو ہم وار کردیا، بچھا دیا، یا پھیلا دیا اس آیت سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے آسمان کو بنایا، اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا، دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا، اس کے بعد آسمان کو بنایا، وہ آیت یہ ہے :
ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ (البقرہ : ٩٢)
وہی ( اللہ ہے) جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا۔
اس تعارض کے حسب ذیل جوابات ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ نے پہلے زمین کا مادہ پیدا کیا یا نفس زمین کو پیدا کیا، پھر آسمانوں کو پیدا فرمایا اور آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد پھر زمین کو پھیلایا اور اس کو موجودہ شکل دی۔ البقرہ : ٩٢ میں نفس زمین کو پیدا کرنے کا ذکر ہے اور النزعت : ٠٣ میں زمین کو پھیلانے اور اس کو موجودہ شکل دینے کا ذکر ہے۔
(٢) اس آیت سے مراد صرف زمین کو پھیلانا نہیں ہے بلکہ زمین کو قابل کاشت بنانا ہے کیونکہ اس کے بعد والی آیت میں فرمایا ہے : اور اس زمین سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔ ( النزعت : 31) کیونکہ زمین میں کھیتی باڑی اور روئیدگی کی صلاحیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آسمان سے بارشیں ہوں اور زمین میں دریا اور چشمے بھی اسی وقت وجوہ میں آتے ہیں، جب آسمان سے پانی برسے، اس لیے پہلے آسمانوں کو پیدا کرنے کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد زمین کو قابل کاشت بنانے کا اور البقرہ : ٩٢ میں نفس زمین کو پیدا کرنے کا ذکر ہے۔
(٣) ” بعد ذالک “ کا معنی حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ یعنی آسمانوں کے بنانے کے ساتھ زمین کو پھیلا دیا، جیسے فرمایا ہے :” عُتُلٍّم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ “ القلم : 13) یعنی ولید بن مغیرہ ان عیوب کے ساتھ بےنسب بھی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 30