وَ اَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَاَخۡرَجَ ضُحٰٮهَا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 29
sulemansubhani نے Saturday، 16 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ اَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَاَخۡرَجَ ضُحٰٮهَا ۞
ترجمہ:
اس کی رات تاریک کردی اور اس کا دن روشن کردیا.
النزعت : 29 میں فرمایا : اس کی رات تاریک کردی اور اس کا دن روشن کردیا۔
” اغطش “ کا معنی
اس آیت میں ” اغطش “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : رات کا تاریک ہونا، یا رات کو تاریک کرنا، اس کا مادہ ” غطش “ ہے، اس کا معنی ہے : کمزور نظر یا دھندلی نظر والا ” تغاطش “ کا معنی ہے : جان بوجھ کر اندھا یا غافل بننا۔
( المفرادت ج ٢ ص ٩٦، بیروت، مختار الصحاح، ص ٢٨٢، بیروت)
اور اس آیت میں ” ضحی “ کا لفظ ہے ” ضحی “ٔ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں جیسے ہمارے ہاں دن کے دس گیارہ بجے کا وقت ہوتا ہے، اس آیت میں اس سے مراد وہ دن ہے اور دن کو ” ضحی “ سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ اس وقت میں خوب دھوپ نکل آتی ہے اور دن مکمل طور پر روشن ہوجاتا ہے۔
اس آیت میں ” لیلھا وضحاھا “ کی ضمیریں آسمان کی طرف لوٹ رہی ہیں یعنی آسمان کی رات تاریک کردی اور آسمان کے دن کو روشن کردیا کیونکہ رات اور دن کا وجوہ سورج کے طلوع اور غروب سے ہوتا ہے اور سورج کا تعلق آسمان ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 29