کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 3 حدیث نمبر 136
٣- بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ
وضوء کی فضیلت اور آثار وضوء سے جن مسلمانوں کے چہرے اور ہاتھ پیر سفید اور چمک دار ہوں گے
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ وضوء کرنے کی وجہ سے وضوء کرنے والے مسلمانوں کو دوسروں پر فضیلت دی جائے گی اور اس باب کی پہلے باب سے مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں یہ بتایا تھا کہ وضوء کے بغیر نماز جائز نہیں ہے اور اس باب میں وضوء کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
١٣٦ – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعیم الْمُجْمِرِ قَالَ رَقِيْتُ مَعَ أَبِى هُرَيْرَةً عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ فَتَوَضَّاً فَقَالَ إنّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرا مُحَجَّلِيْنَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوْءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنكُمْ اَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ . (صحیح مسلم : 246، الرقم السلسل : ۵۶۸ سنن این ماجه: 4282، سنن نسائی: ۱۵۰ مسند ابو وانہ ج 1 ص 243، صحیح ابن خزیمہ: ۱۰۶ مسند احمد ج ۲ ص ۳۳۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۸۴۱۳۔ ج ۱۴ ص ۱۳۶ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی، از خالد از سعيد بن ابي ھلال از نعیم المحجر، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا، حضرت ابوہریرہ نے وضوء کیا پھر کہا: بے شک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک میری امت کو وضوء کے آثار کی وجہ سے قیامت کے دن ” غر محجل ” (جن کے چہرے اور ہاتھ پیر سفید اور روشن ہوں) کہہ کر پکارا جائے گا، پس تم میں سے جو شخص اپنی سفیدی کو طول دینا چاہے سو وہ ایسا کرے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں بھی آثار وضوء سے غر محجل ہونے کا ذکر ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) یحیی بن بکیر
(۲) لیث بن سعد مصری ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۳) خالد بن یزید البریری، فقیہ مفتی تابعی ہیں ثقہ ہیں 139ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۴) سعید بن ابی ھلال اللیثی، یہ مصر میں پیدا ہوئے اور مدینہ میں پرورش پائی پھر ہشام کی خلافت میں دوبارہ مصر لوٹ آئے اور ۱۳۵ھ میں فوت ہو گئے
(۵) نعیم بن عبد اللہ المخجمر، یہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ان کے بیٹے محمد اور امام مالک روایت کرتے ہیں، امام ابو حاتم اور دوسروں نے ان کی توثیق کی ہے یہ بیس سال حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں رہے ہیں، المخجمر ان کے والد کی صفت ہے اس کا معنی ہے: لوبان کی دھونی دینے والا، یہ مسجد میں لوبان کو سلگا کر اس کی خوشبو پھیلاتے تھے صحابہ میں بھی نعیم بن عبداللہ النمام نام کے لوگ تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۷۴)
غر محجل “ کا معنی
اس حدیث میں” غر محجل “ کا لفظ ہے ۔ غزہ اس گھوڑے کو کہتے ہیں، جس کا ماتھا سفید ہو اور ”محجل‘اس گھوڑے کو کہتے ہیں، جس کے تین پیر سفید ہوں، قیامت کے دن وضوء کرنے والے مسلمانوں کے آثار وضوء سے ان کے چہرے اور ان کے ہاتھ پیر سفید ہوں گے۔
امت دعوت اور امت اجابت
اس میں آپ نے فرمایا ہے: میری امت غرمحجل ہوگی’ آپ کی امت کی دوقسمیں ہیں: امت دعوت اور امت اجابت امت اجابت وہ لوگ ہیں جو آپ پر ایمان لائے اور امت دعوت وہ لوگ جن کو آپ نے اسلام کی دعوت دی اور وہ آپ پر ایمان نہیں لائے، یہاں امت اجابت کی فضیلت مراد ہے۔
آثار وضوء سے چہرے ہاتھوں اور پاؤں کا سفید ہونا اس امت کی خصوصیت ہے
علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال البکری المالکی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
ابومحمد اصیلی نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ وضوء کرنا آپ کی امت کی خصوصیت ہے دوسری امتیں وضوء نہیں کرتی تھیں ۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۱۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
مصنف کے نزدیک آپ کی امت کی خصوصیت آثار وضوء سے غرمحجل ہونا ہے، وضو کرنا آپ کی امت کی خصوصیت نہیں ہے کیونکہ پہلی امتیں بھی وضوء کرتی تھیں:
حضرت سارہ کو جب ایک کافر بادشاہ نے گرفتار کر لیا اور وہ بُری نیت سے ان کی طرف کھڑا ہوا تو انہوں نے کھڑے ہو کر وضوکیا اور نماز پڑھی اور یہ دعا کی: اے اللہ ! بے شک میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے علاوہ اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے سو تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر، پھر اس کافر کا پیر زمین میں دھنس گیا۔
(صحیح البخاری: ۲۲۱۷ صحیح مسلم ۷۱ ۲۳ مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۳)
بنی اسرائیل کا ایک عابد تھا جریج’ اس کو اس کی ماں نے نماز میں آواز دی وہ سوچنے لگا: ایک طرف ماں بلا رہی ہے دوسری طرف نماز ہے وہ نماز میں مشغول رہا۔ ماں نے تین دفعہ آواز دی وہ نہیں گیا تو ماں نے اس کو بددعا دی: اے اللہ ! یہ اس وقت تک نہ مرے جب تک کہ فاحشہ عورت کے فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائے ایک چرواہی نے جریج کو دعوت گناہ دی اس نے انکار کیا’ اس نے کسی چرواہے سے اپنی خواہش پوری کرلی اور اس کے ہاں ناجائز بچہ پیدا ہو گیا اور اس نے جریج پر اس کا الزام لگا دیا لوگوں نے جریج کو مارا اور اس کا گرجا منہدم کردیا جریج نے وضوء کیا اور نماز پڑھی، پھر اس نوزائیدہ بچے سے کہا : اے لڑکے ! تیرا باپ کون ہے؟ اس نو مولود بچے نے کہا: میرا باپ چرواہا ہے۔ (صحیح البخاری : ۲۴۸۲ صحیح مسلم :۲۵۵۰)
ہاتھوں کو کہنیوں سے اوپر اور پیروں کوٹخنوں سے اوپر دھونے کی ممانعت پر علامہ ابن بطال ۔۔۔۔ اور قاضی عیاض کے دلائل
اس حدیث میں ہے: پس تم میں سے جو شخص اپنی سفیدی کو طول دینا چاہئے وہ ایسا کرے۔
علامہ ابن بطال مالکی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
حضرت ابو ہریرہ نے حدیث کے اس جملہ کی یہ تاویل کی ہے کہ وضوء کی حد سے زیادہ وضوء کرنا چاہیے پس وہ آدھی پنڈلیوں تک وضوء کرتے تھے اور آدھے بازو تک وضوء کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میری سفیدی طویل ہوجائے اور اس فعل میں حضرت ابو ہریرہ کی کسی نے موافقت نہیں کی اور تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ وضوء میں اللہ اور رسول کی معین کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضیلت کے حصول میں تمام لوگوں پر سبقت کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ رغبت کرنے والے تھے اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے آپ نے بھی وضوء کی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔
اور حضرت ابو ہریرہ کے خلاف اس آیت میں دلیل ہے:
وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ. (الطلاق:1)
اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اپنے دادا سے یہ روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وضوء کے متعلق سوال کیا تو آپ نے پانی کا برتن منگایا اور تین تین مرتبہ وضوء کیا اور فرمایا: اسی طرح وضوء کرنا چاہیے جس نے اس سے زیادہ بار وضوء کیا اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ (سنن ابوداؤد : ۱۳۵ سنن نسائی: ۱۴۰ سنن ابن ماجه : ۴۲۲ مسند احمد ج ۲ ص ۱۸۰ )
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے : تم میں سے جو شخص طاقت رکھتا ہو وہ اپنی سفیدی کو لمبا کرے، اس کا محمل یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص ہر نماز کے لیے دائما وضوء کر سکتا ہو تو وہ ایسا کرے کیونکہ اس سے غرہ لمبا ہوتا ہے یعنی اس کا نور قوی ہوتا ہے اور اس کی رونق دگنی چوگنی ہوتی ہے پس غرہ قیامت کے دن چہرے کے نور سے کنایہ ہے اور طول اور دوام کا معنی متقارب ہے۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۱۶ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ )
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی الندلسی متوفی ۵۴۴ھ نے بھی وضوء کو لمبا کرنے کی ممانعت پر یہی دلائل دیئے ہیں۔
اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص ۴۴ دار الوفاء بیروت 1419ھ )
علامہ ابن بطال اور قاضی عیاض کے دلائل پر علامہ نووی شافعی اور علامہ عینی کا تبصرہ
علامه یحیی بن شرف نووی شافعی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں:
علامہ ابن بطال مالکی اور قاضی عیاض مالکی نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ کہنیوں اور ٹخنوں سے اوپر دھونا مستحب نہیں ہے، سو ان کا یہ دعوی باطل ہے اور ان کا یہ دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے جب کہ یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے اور یہی ہمارا مذہب ہے اور ہمارے نزدیک اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور اگر کوئی مخالف اس کی مخالفت کرے تو اس کو ان دلائل سے رد کردیا جائے گا اور علامہ ابن بطال اور قاضی عیاض نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ” جس نے تین دفعہ سے زیادہ دھویا یا کم دھویا تو اس نے بُرا کام کیا اور ظلم کیا” ان کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سے مراد عدد میں زیادتی اور کمی ہے یعنی تین بار سے زیادہ دھوئے یا تین بار سے کم دھوئے ۔ (شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم ج ۲ ص ۱۱۸۷ مکتب نزار مصطفی، مکه مکرمه 1417ھ)
علامہ بدرالدین عینی حنفی علامہ ابن بطال پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ فعل حضرت ابن عمر رضی اللہ سے بھی ثابت ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کو کیسے پہنچا نیں گے، جس کو آپ نے نہیں دیکھا؟ فرمایا: وہ وضوء کے آثار سے غرمحجل ہوں گے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:۴۰)
پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ وضوء کو کتنی مقدار تک لمبا کرنا مستحب ہے، پس کہا گیا ہے کہ ہاتھوں کو کندھوں تک دھوئے اور پیروں کو گھٹنوں تک دھوئے ایک قول ہے: نصف بازو اور نصف پنڈلی تک دھوئے، اور ایک قول اس سے اوپر تک ہے۔ اسی طرح علامہ ابن بطال کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ سفیدی کو لمبا کرنے کا معنی اس پر دوام کرنا ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۲ ص 379 دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
علامہ ابن بطال اور قاضی عیاض کے دلائل پر مصنف کا تبصرہ
علامہ نووی اور علامہ عینی نے علامہ ابن بطال کی اس دلیل کا جواب نہیں دیا کہ قرآن مجید میں ہے:
وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَقَدْ ظَلَم نَفْسَهُ. (الطلاق:1)
اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا’ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
یعنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو اور دوران عدت اس کو گھر سے نہ نکالے اگر اس نے بیوی کو زمانہ حیض میں طلاق دی یا اس طہر میں طلاق دی جس میں جماع کر چکا تھا یا دوران عدت اس کو گھر سے نکال دیا تو اس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا یا اس نے تین طلاقیں دینے کے بعد بھی بیوی کو اپنے اوپر حلال سمجھا، پھر بھی اس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اور اپنی جان پر ظلم کیا۔
سورہ طلاق کی یہ آیت کہنیوں اور ٹخنوں سے اوپر ہاتھوں اور پیروں کے دھونے پر صادق نہیں آتی کیونکہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ ہاتھوں کو دھونے کے لیے کہنیاں حد ہیں اس کے اوپر نہ دھونا اور پیروں کو دھونے کے لیے ٹخنے حد ہیں ان کے اوپر نہ دھونا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں اور ٹخنوں کے اوپر دھونے کی ترغیب دی ہے کہ ” پس تم میں سے جو شخص اپنی سفیدی کو طول دینا چاہے وہ ایسا کرے۔
نیز علامہ ابن بطال نے زیر بحث حدیث کا یہ محمل بتایا ہے کہ ” تم میں سے جو شخص ہر نماز کے لیے دائما وضوء کر سکتا ہو تو وہ ایسا کرے، ظاہر ہے، یہ منتخب حکم ہے اور اس محمل کی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ جو شخص ہر نماز کے لیے وضوء کرسکتا ہو تو افضل ہے، ورنہ اس کے بغیر بھی درست ہے حالانکہ وضوء کے بغیر تو نماز جائز ہی نہیں ہے۔
حدیث مذکور کے دیگر مسائل اور فوائد
(1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضوء کرنے والوں کو قیامت کے دن یہ عزت اور کرامت حاصل ہوگی کہ ان کے چہرے اور ہاتھ پیر سفید اور روشن ہوں گے۔
(۲) قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اس علامت سے پہچان لیں گے اور جس حدیث میں یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن مرتدین کو بھی اصیحابی ( میرے صحابی ) فرمائیں گے اس میں تاویل کرنا واجب ہے کہ آپ بےتوجہی سے ایسا فرمائیں گے یا آپ کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ میرے صحابی ہیں، جن کے چہرے کالے ہیں اور جن کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں ہے! یعنی یہ میرے صحابی نہیں ہو سکتے اور یہ استفہام انکاری ہے۔
(۳) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چہرے ہاتھوں اور پیروں کی سفیدی کو لمبا کرنے کے لیے ان کی حدود سے کس قدر زیادہ دھونا مستحب ہے۔
(۴) اس حدیث کی اس پر قطعی دلالت ہے کہ پیروں کو دھونا فرض ہے اور ان پر مسح کرنا کافی نہیں ہے۔
(۵) اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آخرت میں ہونے والے مغیبات پر مطلع فرمایا ہے۔
(6) اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت کو قیامت کے دن ان خصوصی نعمتوں سے نوازے گا جو کسی اور امت کو عطا نہیں فرمائیں۔
(۷) اس حدیث میں اس کا بیان ہے کہ مسجد کی چھت پر وضوء کرنا جائز ہے، بعض علماء نے اس کو مکروہ تنزیہی کہا ہے اور بعض نے اس کو بلا کراہت جائز کہا ہے تاہم مسجد کو تھوک اور ناک کی رطوبت سے منزہ رکھنا چاہیے اور اگر مسجد میں وضوء کرنا پڑے تو وضوء کے غسالہ کے لیے ایک برتن رکھنا چاہیے۔
(۸) بعض علماء نے اس حدیث کے پیش نظر کہا ہے کہ وضوء کرنا اس امت کی خصوصیت ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ احادیث صحیحہ میں حضرت سارہ اور بنی اسرائیل کے عابد جریج کے وضوء کرنے کا بھی ذکر ہے، جیسا کہ اس سے پہلے ہم باحوالہ بیان کر چکے ہیں، علامہ ابن بطال نے اس کے خلاف درج ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۱۶)
از زید عمی از معاویہ بن قره از حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگا کر اس سے ایک ایک بار وضوء کیا، پھر فرمایا: یہ وہ وضوء ہے، جس کے بغیر اللہ تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا پھر پانی منگا کر دو دو بار وضوء کیا، پھر فرمایا: یہ وہ وضوء ہے جس پر دگنا اجر ملے گا، پھر کچھ دیر کے بعد پانی منگایا اور تین تین بار وضوء کیا، پھر فرمایا: یہ میرا وضوء ہے اور مجھ سے پہلے نبیوں کا وضوء ہے۔ (سنن ابن ماجہ : ۴۲۰، سنن ابوداؤد الطیالسی : ۱۸۱ سنن دار قطنی : ۲۵۳ ، سنن بیہقی ج ا ص ۸۰ المستدرک ج ۱ ص ۵۰ مسند ج ۲ ص ۹۸)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ سے پہلے نبی بھی وضوء کرتے تھے اس لیے وضوء کرنا آپ کی امت کی خصوصیت نہیں ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے، علامہ بوصیری نے کہا ہے کہ یہ حدیث زید عمی سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کا بیٹا کذاب ہے اور معاویہ بن قرہ کی حضرت عمر سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ ( زوائد ابن ماجہ ج ا ص ۱۷۱)
امام ابن ابی حاتم نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، جس کو عبد الرحیم بن زید العمی نے اپنے والد سے انہوں نے معاویہ بن قرہ سے انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے، جس میں مذکور ہے کہ آپ نے ایک ایک بار وضوء کر کے فرمایا الحدیث ۔ میرے والد نے کہا: عبدالرحیم بن زید متروک الحدیث ہے زید العمی ضعیف الحدیث ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت صحیح نہیں ہے، امام ابو زرعہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک اس کی سند واہی (ضعیف) ہے اور معاویہ بن قره حضرت ابن عمر سے نہیں ملے ۔ ( علل دار قطنی ج ا ص ۴۵)
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۸۷- ج ۱ ص ۸۹۶ پر ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
غرہ اور تحجیل میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ
غرہ اور تحجیل میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ
غرہ اور تحجیل میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ
غرہ اور تحجیل میں فقہاء احناف کا نظریہ
حوض سے دور کیے جانے والوں کی تعیین میں مختلف اقوال
بعض مرتدین کو حوض پر اصیحابی کہنے کی وجہ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کے جوابات
مستقبل کے یقینی امور کے متعلق ان شاء اللہ کہنے کا بیان
بعد میں آنے والے امتیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کی تحقیق
عوام کے سامنے شرعی رخصتوں پر عمل کرنے سے پرہیز کیا جائے۔