أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا مَنۡ طَغٰىۙ ۞

ترجمہ:

سو جس نے سرکشی کی۔

النزعت :39 ۔ 37 میں فرمایا : سو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بیشک دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔

قوت نظریہ اور قوت ِ عملیہ کا کمال اور فساد

انسان کو دو قوتیں ہیں : قوت ِ نظریہ اور قوت ِ عملیہ، قوت ِ نظریہ کا کمال یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت ہو اور وہ اس کی توحید کی تصدیق کرے اور یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اس پر غالب ہے، پھر وہ اپنے آپ کو حقیر جانے کا اور انکسار اور تواضع کرے گا، پھر وہ سرکشی اور تکبیر نہیں کرے گا اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کرے گا اور اس کی توحید کی تصدیق نہیں کرے گا تو پھر وہ سرکشی اور تکبر کرے گا، اور قوت ِ عملیہ کا کمال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام فرامین پر عمل کرے اور دنیا کے عیش و عشرت پر آخرت کو ترجیح دے اور قوت عملیہ کا فساد یہ ہے کہ انسان دنیا کے لہو و لعب اور عیش و عشرت میں مستغرق ہو اور آخرت کو فراموش کر دے، پس النزعت : 37 میں قوت ِ نظریہ کے فساد کا ذکر ہے کیونکہ جب قوت ِ نظریہ فاسد ہوجاتی ہے تو انسان سرکشی کرتا ہے اور النزعت :38 میں قوت ِ عملیہ کے فساد کا ذکر ہے کیونکہ جب قوت ِ عملیہ فاسد ہوجاتی ہے تو انسان دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 37