فَاِنَّ الۡجَحِيۡمَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 39
sulemansubhani نے Sunday، 17 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِنَّ الۡجَحِيۡمَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ ۞
ترجمہ:
تو بیشک دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔
النزعت : 39 میں فرمایا : تو بیشک دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔
دوزخ کی صفات کے متعلق احادیث
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری ( دنیا کی) آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٢٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٤٨٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٨٥٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث، ٨١٣٤، مسند احمد ج ٢ ص ٣١٣، سنن دارمی رقم الحدیث : ٧٤٨٢)
حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک دوزخ والوں میں سب سے کم عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو آگ کی دو جوتیاں اور دو تسمے پہنائے جائیں گے، اس سے اس کا دماغ اس طرح کھول رہا ہوگا، جس طرح چولہے پر رکھی ہوئی دیگچی کھولتی ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٦٥٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٠٦٢، سنن دارمی رقم الحدیث : ٨٤٨٢، مسند احمد ج ٣ ص ٨٧)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ کی آگ کو ایک ہزار سال تک دہکایا گیا حتیٰ کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر ایک ہزار سال تک دہکایا گیا حتی ٰکہ وہ سفید ہوگئی، پھر ایک ہزار سال تک دہکایا گیا حتیٰ کہ وہ سیاہ ہوگئی، پس وہ سیاہ اندھیری ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٠٩٥٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٠٢٥٤ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ میں صرف شقی داخل ہوگا، آپ سے سوال کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! شقی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس نے اللہ کے لیے کوئی اطاعت نہیں کی اور اس کی کسی معصیت کو ترک نہیں کیا۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٩٢٤، مسند احمد ج ٢ ص ٩٤٣ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبریل سے فرمایا : جائو جنت کو دیکھو، حضرت جبریل نے جنت کو دیکھا اور نعمتوں کو دیکھا جو اہل جنت کے لیے بنائی ہیں، پھر آ کر کہا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! جو شخص بھی جنت کے متعلق سنے گا وہ اس میں داخل ہوگا، پھر جنت کو مشقت والی چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا، پھر فرمایا : اے جبریل ! اب جا کر جنت کو دیکھو، حضرت جبریل گئے اور انہوں نے جا کر جنت کو دیکھا، پھر آ کر کہا اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے خدشہ ہے کہ اب اس میں کوئی بھی نہیں داخل ہوگا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا کیا تو فرمایا : اے جبریل ! جائو دوزخ کو دیکھو، حضرت جبریل گئے اور دوزخ کو دیکھا، پھر آ کر کہا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! جو بھی دوزخ کے متعلق سنے گا وہ اس میں داخل نہیں ہوگا، پھر دوزخ کو شہوات سے ڈھانپ دیا گیا، پھر فرمایا : اے جبریل گئے اور دوزخ کو دیکھا، پھر کہا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے خدشہ ہے کہ کوئی شخص بھی اس میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٤٧٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٠٦٥٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٢٧٦، مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٣)
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 39