أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفۡسَ عَنِ الۡهَوٰىۙ ۞

ترجمہ:

اور رہا وہ جو اپنے ب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس امارہ کو اس کی خواہش سے روکا.

النزعت : 41 ۔ 40 میں فرمایا : اور رہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس امارہ کو اس کی خواہش سے روکا۔ پس بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔

خوف ِ خدا سے گناہ ترک کرنے والوں کی دو قسمیں

النزعت : 40 میں فرمایا : اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا، اس سے مراد یا تو مطلقاً میدان حشر میں کھڑا ہونا ہے یا اس سے مراد حساب کے لیے کھڑا ہونا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ معصیت کے جس حال میں کھڑا ہوا ہو وہ اس حال میں ڈر رہا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے کرنے سے منع فرمایا تھا اور میں اس کام کو کررہا ہوں، پھر اس نے اپنے آپ کو گناہ کی اس لذت حاصل کرنے اور شہوت کے تقاضے کو پورا کرنے سے روکا ہو اور اس کو آخرت کے عذاب کا خوف دامن گیر ہوا ہو اور جب اس پر یہ کیفیت عاری ہوگئی تو اس پر اپنی شہوت کے تقاضے کو ترک کرنا آسان ہوجائے گا اور آخرت کے لیے نیک کام کرنا سہل ہوجائے گا۔

جو لوگ آخرت کے خوف سے گناہ کو ترک کردیتے ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں : ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو ہمیشہ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں اور کبھی شہوت سے مغلوب ہو کر گناہ کی وادی میں نہیں اترتے اور بعض وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس کو آخرت کا عذاب یاد دلاتے ہیں اور اس کو اس اجر وثواب کی طرف راغب کرتے ہیں، جو اہل اطاعت کے لیے تیار کیا گیا ہے پھر گویا وہ آخرت کے عذاب اور ثواب کا مشاہدہ کرلیتے ہیں، پھر وہ آخرت کی لذتوں کو دنیا کی لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا سے زیادہ لذیذ ہیں اور دائمی ہیں، پھر اس پر آخرت کے لیے عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

اس آیت میں ’ ’ ھوی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : نفس کا اپنی شہوت اور لذت کو حاصل کرنے کی طرف مائل ہونا اور نفس کی فطرت میں شہوت اور لذت سے محبت ہے اور نفس کو اپنی شہوت کے حصول سے اسی طرح روکا جاسکتا ہے کہ وہ نفس کو ارتکاب معصیت پر عذاب سے ڈرائے اور ترک معصیت کے ثواب کی طرف اس کو راغب کرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 40