وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 38
sulemansubhani نے Sunday، 17 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۞
ترجمہ:
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی.
دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے کی مذمت میں احادیث
النزعت : 38 میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے کی مذمت ہے اور اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا کو حلال طرقہ سے سوال سے بچتے ہوئے طلب کیا، اور اپنے اہل و عیال کی کفالت اور اپنے پڑوسی پر شفت کرنے کے لیے حاصل کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح ہوگا اور جس نے دنیا کو حرام طریقہ سے طلب کیا تاکہ وہ مال دار ہو اور لوگوں پر فخر کرے اور ان کو اپنی شان دکھائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا۔ ( شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٧٣٠١، حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٥١٢)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) کوئی گھر نہ ہو اور اس کا مال ہے جس کا ( آخرت میں) کوئی مال نہ ہو اور دنیا کو وہی شخص جمع کرتا ہے جس میں کوئی شخص نہ ہو۔ ( مسند احمد ج ٦ ص ١٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ٨٣٦٠١)
حسن نے مرسلا ًروایت کیا ہے کہ دنیا کی محبت ہر گناہ کی بنیاد ہے۔ ( شعب الایمان ج ٧ ص ٨٨٣۔ رقم الحدیث : ٢٠٥٠١)
حضرت علی (رض) نے فرمایا : دنیا پیٹھ پھیر کر جا رہی ہے اور آخرت سامنے سے آرہی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں، سو تم آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے نہ بنو، آج عمل ہے اور حسب نہیں ہے اور کل حساب ہوگا اور عمل نہیں ہوگا۔ ( صحیح البخاری، کتاب الرقات، باب فی الامل وطولہ)
حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا : دنیا میں مسافر کی طرح رہو یا راستہ عبور کرنے والے کی طرح اور حضرت ابن عمر (رض) یہ کہتے تھے کہ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کو اٹھو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور تم اپنی صحت کے ایام میں بیماری کے دنوں کے لیے عمل کرو اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٤٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١١٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣١ ص ٧١٢، مسند احمد ج ٢٢ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کسی شخص میں دنیا سے بےرغبتی اور قلت کلام دیکھو تو اس کا قرب حاصل کرو کیونکہ اس کو حکمت عطاء کی گئی ہے۔
( شعب الایمان ج ٧ ص ٢٥٣۔ رقم الحدیث ٤٥٠١)
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 38