کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 6 حدیث نمبر 139
٦ – بَابُ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
مکمل وضوء کرنا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں وضوء کی تخفیف کا ذکر تھا اور اس باب میں وضوء کی تکمیل کا ذکر ہے۔
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ الْإِنْقاءُ
حضرت ابن عمر نے کہا: وضوء کا اسباغ اور تکمیل یہ ہے کہ اعضاء وضوء کو صاف کیا جائے۔
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھے اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس تعلیق کو امام عبدالرزاق نے اپنی ” مصنف” میں سند صحیح کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے اور یہ کسی چیز کی اس کے لازم کے ساتھ تفسیر کرتا ہے، کیونکہ جب مکمل اور تام وضوء کیا جائے تو اس سے عادتا اعضاء وضوء صاف ہوجاتے ہیں اور امام ابن منذر نے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر وضوء میں اپنے پیروں کو سات بار دھوتے تھے اور وہ پیروں کو دھونے میں اس لیے مبالغہ کرتے تھے کہ عموماً وہ لوگ ننگے پیر چلتے تھے اور اس سے پیروں پر دھول اور مٹی لگ جاتی تھی۔
(فتح الباری ج ا ص ۶۸۴ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار سے زیادہ دھونے کو ظلم اور برائی فرمایا ہے تو حضرت ابن عمر سات بار کیوں دھوتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ظلم اور بُرائی اس وقت ہے جب طہارت کے لیے تین بار دھونے کو ناکافی قرار دے کر تین بار سے زیادہ دھویا جائے لیکن اگر جسم سے میل کچیل اتارنے اور اعضاء وضوء کو صاف کرنے کے لیے تین بار سے زیادہ دھویا جائے تو پھر یہ جائز ہے اور جو شخص تین بار دھونے کو وضوء کے لیے کافی سمجھتا ہو تو پھر اس کا تین بار سے زیادہ دھونا نور علی نور ہے۔
۱۳۹ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ،حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشَّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّاَ وَلَمْ یسبغ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ الصَّلوةَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ الصَّلُوةُ اَمَامَكَ فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَاسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَقِيِّمَتِ الصَّلوةُ ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنزِلِهِ، ثُمَّ أقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا . اطراف الحدیث : ۱۸۱ – 1667-1669-۱۶۷۲]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک از موسی بن عقبه از کریب مولی حضرت ابن عباس از حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم انہوں نے حضرت اسامہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے، حتی کہ جب آپ ایک گھاٹی پر پہنچے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا اور کامل وضوء نہیں کیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! نماز ؟ آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے (پڑھنی ) ہے پھر آپ سوار ہوئے، پس جب آپ مزدلفہ پہنچ گئے تو آپ نے اتر کر وضوء کیا، سو کامل وضو کیا، پھر نماز کی اقامت کہی گئی، پس آپ نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر انسان نے اپنے اونٹ کو اپنے ٹھکانے پر بٹھادیا، پھر عشاء کی نماز کی اقامت کہی گئی، پس آپ نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان آپ نے کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔
(صحیح مسلم :۱۲۸۰ الرقم المسلسل : 3034، سنن ابوداؤد : ۱۹۲۱، سنن نسائی : ۳۰۳۱، سنن کبری للنسائی: 4061، سنن ابن ماجہ : 3019، سنن دارمی:1881، مسند ابوعوانہ : 3480، شرح السنتہ : ۲۶ ، سنن بیہقی ج ۵ ص ۱۲۲ مسند احمد ج ۵ ص ۲۰۰ طبع قدیم مسند احمد : ۲۱۸۳۲ – ۲۱۸۳۱ – ۲۱۸۱۴ – ۲۱۷۶۱ – ۲۱۷۴۲ – ج ۳۶ ص ۶۸ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: آپ نے وضوء کیا اور کامل وضو نہیں کیا، یعنی اعضاء وضو کو تین تین بار نہیں دھویا صرف ایک ایک بار دھویا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبد اللہ بن مسلمہ
(۲) امام مالک رحمہ اللہ ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۳) موسیٰ بن عقبہ بن ابی عیاش المدنی انہوں نے کریب اور ام خالد صحابیہ رضی اللہ عنہا وغیرہ ہما سے روایت کی ہے اور ان سے امام مالک سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے یہ مفتی اور ثقہ تھے یہ ۱۴۱ھ میں فوت ہو گئے تھے ان کے مغازی تمام مغازی سے زیادہ صحیح ہیں
(۴) کریب ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۵) حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ابن محبوب ہیں، یہ آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور آپ کی باندی ام ایمن کے بیٹے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اٹھارہ سال کی عمر میں عامل بنا دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر بیس سال تھی، انہوں نے ۱۲۸ احادیث روایت کی ہیں پندرہ احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور دو دو حدیثوں کے ساتھ امام بخاری اور امام مسلم منفرد ہیں ، یہ ۵۵ سال کی عمر میں ۴۵ھ میں وادی القریٰ میں فوت ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۹۲)
عَرَفَات شِعْب “ اور ”مُزْدَلْفَة“ کے معانی
اس حدیث میں عرفہ کا لفظ ہے، یہ اسم زمان ہے اور اس سے مراد 9 ذو الحجہ کا دن ہے ایک قول یہ ہے کہ عرفہ اور عرفات یہ دونوں لفظ ایک مخصوص جگہ کے اسم ہیں، عرفات اس جگہ کو کہتے ہیں : جہاں حاجی نو ذوالحج کو وقوف کرتے ہیں، قرآن مجید میں ہے:
فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَةٍ (البقرة : ١٩٨)
پس جب تم عرفات سے واپس روانہ ہو ۔
اس جگہ کو عرفات اس لیے کہتے ہیں کہ اس جگہ حضرت آدم نے حضرت حواء کو پہچان لیا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ہند میں اتارا تھا اور حضرت حواء کو جدہ میں اتارا تھا اور ان دونوں نے اس جگہ (موقف ) میں ایک دوسرے کو پہچان لیا تھا’ اس جگہ کو عرفات کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت جبریل علی السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس جگہ حج کی تمام عبادات کی تعلیم دی تھی یا اس وجہ سے کہ اس جگہ کے پہاڑوں کا نام اعراف ہے یا اس لیے کہ یہاں آ کر تمام لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے سن گناہوں کی مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔
شعب : دو پہاڑوں کے درمیان جو راستہ ہوتا ہے اس کو “شعب “اور گھاٹی کہتے ہیں۔
المزدلفة: یہ عرفات اور منی کے درمیان ایک مخصوص جگہ ہے اس جگہ کو مزدلفہ اس لیے کہتے ہیں کہ حجاج اس جگہ وقوف کر کے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں، وقوف کا معنی ہے: کھڑے ہو کر دعا کرنا اس جگہ کو جمع بھی کہتے ہیں کیونکہ حضرت آدم اور حضرت حواء اس جگہ جمع ہوئے تھے’ از دلاف“ کا معنی ہے: قریب ہونا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: “وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ، (ھود: ۱۱۴) رات کے قریب اور اس جگہ حضرت آدم اور حضرت حواء ایک دوسرے کے قریب ہوئے تھے اس وجہ سے اس جگہ کو مزدلفہ کہتے ہیں، قتادہ نے کہا: اس جگہ کو مزدلفہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس جگہ دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھا جاتا ہے اور از دلاف“ کا معنی تقریب اور اجتماع ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
وَازْ لِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ (الشعراء:۹۰ ق : ۳۱)
اور جنت متقین کے قریب کر دی گئی
عرفات اور مزدلفہ کے درمیان آپ کے کامل وضوء نہ کرنے کی توجیہ اور ان شارحین کا رد۔۔۔۔جنہوں نے اس وضوء کو استنجاء پر محمول کیا
اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے ایک گھاٹی میں اترے آپ نے پیشاب کیا اور کامل وضوء نہیں کیا، یعنی صرف ایک ایک بار اعضاء وضوء کو دھویا۔
واللہ اعلم! آپ نے یہ اس وجہ سے کیا کہ حجاج کو مزدلفہ کی طرف جلدی روانہ ہونا چاہیے، پس آپ نے اتنی مقدار وضوء کیا، جس سے حدث (بے وضوئی ) مرتفع ہوجائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر وضوء کے نہیں رہتے تھے، بعض شارحین نے کہا ہے کہ کامل وضوء نہ کرنے سے ہو سکتا ہے یہ مراد ہو کہ آپ نے صرف استنجاء کیا ہوا میں کہتا ہوں : یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت اسامہ نے آپ کو وضوء کرایا تھا:
حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو آپ نے گھاٹی میں قضاء حاجت کی حضرت اسامہ بن زید نے کہا: پھر میں آپ پر پانی ڈال رہا تھا اور آپ وضوء کر رہے تھے۔ (صحیح البخاری :۱۸۱)
اور ظاہر ہے کہ یہاں پانی ڈالنے سے مراد نماز کے وضوء کے لیے پانی ڈالنا ہے نہ کہ استنجاء مراد ہے کیونکہ یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی آپ کو استنجاء کرائے اور اس حال میں آپ کے قریب جائے اور اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے وضوء کرانے کے بعد کہا: یارسول اللہ! نماز ؟ تو آپ نے بتایا: نماز آگے پڑھنی ہے اور یہ محال ہے کہ آپ نے نماز کا وضوء نہ کیا ہو اور حضرت اسامہ آپ سے نماز پڑھنے کے لیے کہیں۔
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنا اور حضرت اسامہ کے نماز یاد دلانے کی توجیہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے اس ارشاد میں آپ نے یہ بتایا کہ جو شخص عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہو تو وہ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھے اور مغرب کی نماز کو اس کے معروف وقت میں نہ پڑھے اور حضرت اسامہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مغرب کی نماز مزدلفہ میں پڑھی جائے گی کیونکہ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے اور یہ پہلی نماز تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھا اور جب آپ مزدلفہ پہنچے تو پھر آپ نے کامل وضوء کیا یعنی تمام اعضاء وضوء پر تین تین بار پانی ڈالا ۔
آپ نے گھاٹی میں جو کامل وضو نہیں کیا تھا، اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ مزدلفہ کی طرف جاتے ہوئے بہ کثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور آپ بغیر وضوء کے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
حضرت اسامہ نے جو آپ سے کہا تھا: یارسول اللہ ! نماز؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ادنی اعلیٰ کو نماز یاد دلاسکتا ہے، حضرت اسامہ کو یہ اندیشہ تھا کہ افعال حج کی کثرت اور ذکر اللہ میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ نماز کو بھول نہ جائیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچ کر عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھنی ہے اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے مغرب اور عشاء میں نفل نہیں پڑھے اس میں یہ دلیل ہے کہ سفر میں نفل نہ پڑھے جائیں
حضرت ابن عمر رضی اللہ نے فرمایا: اگر میں سفر میں نفل نماز پڑھوں تو فرض پورے نہ پڑھ لوں اور قصر نہ کروں۔
حضرت ابن عمر کے اس قول کی کسی نے موافقت نہیں کی اور سفر میں نفل نماز پڑھنا اور اس کو ترک کرنا دونوں جائز ہیں، البتہ مزدلفہ میں یہ خصوصیت ہے کہ وہاں جب مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھا جائے گا تو ان کے درمیان نفل نماز نہیں پڑھی جائے گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں پیادہ اور سواری پر نفل پڑھے ہیں۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۲۷-226 دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۴ھ )
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کے درمیان نفل نہ پڑھنے میں مذاہب ائمہ
علامہ قرطبی اور ابن وہب نے کہا ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کے درمیان نفل پڑھنا جائز ہے میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ نے ان نمازوں کے درمیان نفل نہیں پڑھے ہو سکتا ہے کہ علامہ قرطبی نے مغرب کی نماز کے بعد نفل پڑھنے کو اس لیے جائز کہا ہو کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے ٹھکانے پر بٹھا دیا اور جب مغرب کی نماز کے بعد اونٹوں کو بٹھا سکتے ہیں تو نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جمع تاخیر جیسا کہ مزدلفہ میں ہے اس میں دو نمازوں کے درمیان نفل پڑھ سکتے ہیں اور جمع تقدیم جیسا کہ عرفات میں ہے اس میں دو نمازوں کے درمیان نفل نہیں پڑھ سکتے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان نمازوں کے درمیان نفل پڑھنا منع ہے کیونکہ ان نمازوں کے درمیان نفل پڑھنا ان کو جمع کرنے کے منافی ہے۔
نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کا وقت مشترک ہے اور یہ صرف مزدلفہ میں ہے اسی طرح عرفات میں ظہر اور عصر کا وقت مشترک ہے اور یہ صرف عرفات میں ہے اور کسی جگہ نہیں ہے۔
امام شافعی نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ قضاء نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی کیونکہ مزدلفہ میں مغرب کی نماز عشاء کے وقت میں پڑھی گئی اور اس کے لیے اذان نہیں دی گئی لیکن ان کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ مزدلفہ میں جو مغرب کی نماز عشاء کے وقت میں پڑھی گئی تھی، وہ قضاء نہیں تھی بلکہ مغرب کی نماز کا وقت مزدلفہ میں عشاء کے وقت میں منتقل ہوگیا تھا۔
اس حدیث میں ہے کہ مغرب کی نماز کے بعد ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے ٹھکانے پر بٹھا دیا اس سے معلوم ہوا کہ ان دو نمازوں کے درمیان کوئی کام کرلیا جائے یا کوئی بات کرلی جائے تو وہ ان دو نمازوں کے جمع کرنے کے منافی نہیں ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۹۷ ۳۹۶ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۹۸۳ – ج ۳ ص ۵۱۰ پر ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
مزدلفہ میں نماز مغرب پڑھنے کا طریقہ
احناف کے نزدیک مزدلفہ میں جمع بین الصلوتین کا طریقہ
تلبیہ کہنے کی مدت میں مذاہب ائمہ ۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۱۳۹ میں مطالعہ […]