أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰى ۞

ترجمہ:

جس نے بےپرواہی کی۔

عبس : ٦۔ ٥ میں فرمایا : اور جس نے بےپرواہی برتی۔ تو آپ اس کے درپے ہیں۔

یعنی آپ اللہ کی طرف سے جو دین لے کر آئے ہیں وہ اس کو چھوڑ کر اس طریقہ کو اختیار کر رہا ہے جو شیطان نے اس کے لیے مزین کردیا ہے یا ” استغنی “ کا معنی ہے : مال و دولت سے غنی ہونا کیونکہ آپ جن کو تبلیغ کر کے مسلمان کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ سب اصحاب ثروت اور مال دار لوگ تھے اور آپ کو توقع تھی کہ اگر یہ لوگ اسلام لے آئے تو ان کو اتباع میں بہت لوگ اسلام قبول کرلیں گے، آپ ان کے درپے ہیں، اس کا معنی ہے : آپ ان کو مسلمان کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 5