أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَنۡ جَآءَهُ الۡاَعۡمٰىؕ‏ ۞

ترجمہ:

کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا.

 

عبس : ٢ میں فرمایا : کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠١٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام اور عباس بن عبد المطلب وغیرہم کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے اسلام لانے کے درپے تھے اور اس پر بہت حریص تھے کہ وہ ایمان لے آئیں تاکہ ان کے ایمان لانے کی وجہ سے ان کے پیرو کار بھی اسلام لے آئیں، اس وقت ایک نابنیا شخص عبد اللہ ابن ام مکتوم ( صحیح نام عمرو ابن ام مکتوم) آئے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھانے کا سوال کر رہے تھے، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اللہ نے آپ کو جو علم دیا ہے، اس میں سے مجھے تعلیم دیجیے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اعراض کیا اور آپ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات آئے، اور اب دوسروں کی طرف متوجہ رہے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیات نازل ہوئی۔

( جامع البیان جز ٠٣ ص ٥٦۔ رقم الحدیث : ٣٤١٨٢، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)

امام ابو منصور ماتریدی کی طرف سے آپ کے تیوری چڑھانے پر عتاب کی توجیہ

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو حضرت ابن ام مکتوم کی دخل اندازی سے ناگواری ہوئی تھی، اس کا اگر تمام روئے زمین کے لوگوں کی نیکیوں کے ساتھ وزن کیا جائے تو اس کا وزن زیادہ ہوگا، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت کافرسرداروں کو نصیحت کر رہے تھے اور ان کو اسلام کی طرف راغب کر رہے تھے، اس توقع پر کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور ان کے اسلام لانے سے ان کی قوم کے بہت لوگوں کے اسلام لانے کی توقع تھی اور جب وہ لوگ اسلام لے آتے تو اسلام کی بہت زیادہ تقویت ہوتی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت زیادہ اجر وثواب ہوتا، اور جب حضرت عمرو ابن ام مکتوم کے درمیان میں سوال کرنے سے آپ کی وہ نصیحت منقطع ہوگئی تو جس اجر وثواب کی آپ کو توقع تھی وہ پوری نہ ہوئی، سو اس وجہ سے اس موقع پر آپ کا منقبض اور تنگ دل ہونا کوئی بعید چیز نہیں ہے، نیز آپ کے چہرے پر جو ناگواری کے تاثرات آئے اور ماتھے پر بل ظاہر ہوئے اور آپ نے پیٹھ موڑی، یہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق مشاہدہ کرنے اور دیکھنے سے ہے، اور حضرت عمرو بن ام مکتوم نابینا تھے، انہوں نے آٰپ کے یہ تاثرات نہیں دیکھے، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ نے ان سے سرد مہری کا سلوک کیا، اور آپ کافر سرداروں کی طرف تبلیغ اسلام کے لیے متوجہ تھے اور اگر آپ ان سے بےرخی اختیار کرتے تو نہ صرف ان کے اسلام لانے کی توقع نہ رہتی بلکہ ان کی وجہ سے ان کی قوم کے اور دیگر لوگوں کے اسلام لانے کی توقع بھی ختم ہوجاتی اور ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم کفار کو اسلام کی دعوت دیں خواہ اس کوشش میں ہماری جانیں چلی جائیں اور ہمارا تمام مال خرچ ہوجائے اور اس کوشش میں اگر ہم کسی مسلمان کی طرف توجہ نہ کریں یا اس سے بےرخی برتیں تو اس عظیم مقصد کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور تبلیغ اسلام کے بلند پایہ کام کے مقابلہ میں کوئی قابل ملامت چیز نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجتہاد کا منصب عطاء فرمایا ہے، اور انبیاء (علیہم السلام) بعض اوقات اپنے ا اجتہاد سے کوئی کام اللہ تعالیٰ سے اذن لیے بغیر کرلیتے ہیں، وہ کام اپنی جگہ پر صحیح ہوتا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ سے اس کام کی اجازت نہیں لی ہوتی، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کام پر عتاب فرماتا ہے، جیسا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے اجازت لیے بغیر اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے علاقہ سے چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا، اگرچہ یہ کام حضرت یونس (علیہ السلام) کے بجائے کوئی عام شخص کرتا تو اس کی حمد وثناء کی جاتی اور اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ کافر تھے اور حضرت یونس (علیہ السلام) کے دین کی وجہ سے ان کے دشمن تھے، سو یونس (علیہ السلام) ان سے اس لیے علیحدہ ہوگئے کہ ان سے نجات پاجائیں اور اپنے دین کو سلامت رکھیں اور انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ کوئی عام شخص ایسا کام کرتا تو اس کی بہت مدح سرائی کی جاتی۔

(٢) جب حضرت یونس (علیہ السلام) ان کے کفر اور ان کی گم راہی کی وجہ سے ان کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ کا چلا جانا ان کی گم راہی اور کفر کو ترک کرنے میں اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لیے انجام کار بہت موثر ہوا، سو حضرت یونس (علیہ السلام) کا یہ اقدام ان کو نصیحت کرنے میں بہت موثر ثابت ہوا۔

(٣) حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس سے اس لیے چلے گئے کہ دوسرے لوگوں سے اپنے دین کی حمایت اور نصرت حاصل کریں اور جب خود ان کی قوم دین کے معاملہ میں ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی تو دوسرے لوگوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنا بہت مناسب اور مستحسن تھا۔

ان تین وجوہات کے پیش نظر اگر کوئی عام آدمی قوم کے پاس سے چلا جاتا تو ضرور مستحسن ہوتا لیکن نبی کا معاملہ مختلف ہوتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ سے ہر وقت رابطہ رہتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی اہم فیصلہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہ کرے اور چونکہ حضرت یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے اجازت لیے بغیر قوم کے پاس سے چلے گئے تھے، اس لیے ان پر عتاب فرمایا گیا، اسی طرح ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت ابن ام مکتوم کی طرف توجہ نہ کر کے سردار ان قریش کو تبلیغ اسلام میں مشغول رہنا اپنی جگہ پر بہت عظیم عبادت اور بہت بڑی نیکی تھی اور اگر کوئی عام آدمی یہ کام کرتا تو اس کے لیے یہ تمام روئے زمین کی نیکیوں سے بڑھ کر عظیم کام تھا لیکن چونکہ آپ نبی تھے اور آپ کا ہر وقت اللہ تعالیٰ سے رابطہ تھا اور آپ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے اذن مخصوص لیے بغیر حضرت ابن مکتوم کی طرف توجہ نہ کر کے سرداران قریش کی طرف تبلیغ میں مشغول رہے، اس لیے آپ پر ان آیات میں عتاب فرمایا۔

ثوری نے بیان کیا ہے کہ اس کے بعد جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو ان کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے اور فرماتے مرحبا ہو جس شخص کے لیے میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا اور فرماتے : کیا تم کو کوئی کام ہے ؟ اور آپ نے ان کو دو مرتبہ مدینہ میں اپنا خلیفہ بنایا۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٣٨١، الکشف والبیان ج ٠١ ص ١٣١، الکشاف ج ٤ ص ١٠٧، معالم التنزیل ج ٥ ص ٠١٢، روح المعانی، جز ٠٣ ص ٩٦)

ان آیات کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں تمام جہان والوں کے لیے شفقت اور رحمت رکھی تھی اور آپ کی شفت یہاں تک تھی کہ جو کفار اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی توحید پر ایمان نہیں لاتے تھے، آپ کو ان کا اس قدر غم ہوتا تھا کہ لگتا تھا کہ آپ اس غم میں اپنی جان دے دیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرائ : ٣) شاید آپ اس غم میں اپنی جان دے دیں گے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔

ولا تحزن علیھم ولا تکن فی ضیق مما یمکرون (النمل : ٠٧) آپ ان کے متعلق غم نہ کریں اور نہ ان کی سازشوں سے تنگ دل ہوں۔

فَـلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرٰتٍ ط (فاطر : ٨) سو آپ ان کے غم میں اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔

اور ان آیات کی نظیر یہ آیت ہے :

یٰٓـاَ یُّہَاالنَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَکَج تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط (التحریم : ١)

اے نبی ! جو چیزیں اللہ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہیں آپ ان کے نفع سے اپنے آپ کو کیوں روک رہے ہیں، آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے ہیں۔

اس آیت میں آپ کو اپنی بیویوں کی رضا جوئی سے منع نہیں فرمایا کیونکہ دوسری آیت میں فرمایا ہے :

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ وَتُئْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُط وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْکَط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّاَعْیُنُہُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَہُنَّ کُلُّہُنّ ط (الاحزاب : ١٥)

آپ ان ارواج میں سے جن کو چاہیں دور رکھیں اور جن کو چاہیں اپنے پاس رکھ لیں، اور آپ جن کو الگ کرچکے ہیں ان میں سے کسی کو اپنے پاس بلا لیں تو آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، اس ( حکم) میں اس کی زیادہ توقع ہے کہ ان ازواج کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم گین نہ ہوں اور آپ جو کچھ بھی ان کو دیں اس پر وہ سب راضی رہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ سورة التحریم میں آپ کو ازواج کی رضا جوئی سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کا محمل یہ ہے کہ آپ اس قدرمشقت نہ اٹھائیں کہ ازواج کی رضا کی خاطر اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کے نفع سے اپنے آپ کو روک لیں۔

اس لیے سورة عبس کی ان آیات کا محمل یہ ہے کہ سرداران قریش کا ایمان سے اعراض کرنا اور آپ پر اس قدر گراں گزرتا تھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور اس پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی ” عَبَسَ وَتَوَلّٰی۔ “ ( عبس : ١) (آپ نے تیوری چڑھائی اور پیٹھ پھیری) اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کے چہرے پر کس قدر شدید ناگواری ہوتی تھی، نہ یہ کہ اس آیت میں آپ کو ملامت کی گئی ہے یا آپ پر عتاب کیا گیا ہے۔

( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٢٨٣۔ ١٨٣، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشروان، ٥٢١٣ ھ)

یہ توجیہ اس لیے محل اعتراض ہے کہ بعد کی آیات اس کے موافق نہیں ہیں۔

امام رازی کی طرف سے آپ کے تیوری چڑھانے پر عتاب کی توجیہ

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

ان آیات پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم تادیب اور ملامت کے مستحق تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن ام مکتوم کو ملامت کرنے کے بجائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں عتاب فرمایا، رہا یہ کہ حضرت ابن ام مکتوم ملامت کے مستحق تھے، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) حضرت ابن ام مکتوم نابینا ہونے کی وجہ سے اگرچہ یہ دیکھ نہیں رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرداران قریش سے گفتگو فرما رہے ہیں، لیکن ان کی سماعت تو صحیح تھی، وہ کفار سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطاب کی آواز سن رہے تھے۔ پس ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کو منقطع کرنا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غرض پوری ہونے سے پہلے اپنی غرض پوری کرنے کی کوشش کرنا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچانا ہے اور یہ عظیم معصیت ہے۔

(٢) اہم کام کو مقدم کیا جاتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم اسلام لا چکے تھے اور دین کی تعلیم حاصل کرچکے تھے اور سرداران قریش ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور ان کا اسلام لانا ایک عظیم جماعت کے اسلام لانے کا سبب تھا اور حضرت ابن ام مکتوم کا اس اہم کام میں مداخلت کرنا ایک معمولی کام کی خاطر ایک عظیم خیر کو منقطع کرنے کا سبب تھا، اس لیے ان کا یہ اقدام حرام تھا۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۔ (الحجرات : ٤)

بے شک جو لوگ آپ کے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف نداء کرنے سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابن مکتوم کی نداء کفار کے ایمان قبول کرنے سے قطع کرنے کے حکم میں تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مہم کے بہ ظاہر خلاف تھی، لہٰذا اس کا ذنب اور معصیت ہونا زیادہ اولیٰ ہے، سو حضرت ابن ام مکتوم کا فعل گناہ تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل واجب تھا، پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں عتاب فرمایا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بہ ظاہر ایسا ہی تھا، لیکن اغنیاء کو فقراء پر اور سرداروں کو کمزوروں پر مقدم کرنے سے فقراء کے دل ٹوٹ جاتے، اس وجہ سے آپ پر عتاب کیا گیا جب کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ فقراء کو نہ دھتکاریں، قرآن مجید میں ہے :

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ (الانعام : ٢٥ )

اور ان لوگوں کو نہ دھتکاریں جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں۔

امام رازی کا دوسرا جواب

دوسراجواب یہ ہے کہ شاید یہ عتاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظاہری فعل پر نہیں کیا گیا بلکہ جو چیز آپ کے دل میں تھی اس پر عتاب کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سرداران قریش سے قرابت، ان کے شرف اور ان کے بڑے مرتبہ کی وجہ سے آپ کے دل میں ان کی طرف میلان تھا اور آپ طبعی طور پر نابینا شخص سے اس کے نابینا ہونے کی وجہ سے اور اس سے قرابت نہ ہونے کی وجہ سے اور اس کے معزز نہ ہونے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے اور جب اس وجہ سے آپ نے اس کے آنے پر تیوری چڑھائی اور پیٹھ پھیری تو آپ پر عتاب کیا گیا نہ اس کے بےموقع سوال کرنے کی وجہ سے۔

(تفسیر کبیر ج ١١ ص ٣٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

امام رازی کے دوسرے جواب پر مصنف کا تبصرہ

امام رازی کا یہ دوسرا جواب بالکل صحیح نہیں ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ امام رازی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کے حال پر کیسے مطلع ہوگئے کہ آپ کے دل میں سرداران قریش کی قرابت، ان کے شرف اور مرتبہ کی وجہ سے ان کی طرف میلان تھا اور نابینا شخص کے نابینا ہونے، اس سے عدم قرابت اور اس کے غیر معزز ہونے کی وجہ سے آپ اس سے متنفر تھے، یہ قول آپ کی سیرت ِ طیبہ کے سراسر خلاف ہے، مزید یہ کہ دلوں کے حالات جاننا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ابو جہل اور ابو لہب کا تعلق سر زمین مکہ سے تھا اور وہ آپ کے قرابت دار تھے لیکن آپ ان سے متنفر تھے، حضرت بلال حبش کے تھے، حضرت صہیب کے روم تھے اور حضرت سلیمان فارسی فارس کے تھے اور یہ سب فقراء اور مساکین تھے اور آپ کے قرابت دار نہ تھے اور آپ ان سے بےحد محبت کرتے تھے اور ان کی تکریم کرتے تھے، حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے مسکینی میں زندہ رکھنا اور مجھے مسکینی میں موت عطاء کرنا اور مسکینوں کی جماعت میں میرا حشر کرنا، حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے، اے عائشہ ! تم کسی مسکین کو نہ مسترد کرنا خواہ ایک کھجور کا ٹکڑا دو ، اے عائشہ ! مسکینوں سے محبت اور ان کو قریب رکھو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم کو قریب رکھے گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٣٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٢١٤، الستدرک ج ٤ ص ٢٢٣، سنن کبری، للبیہقی ج ٧ ص ٢١، کنز العمال رقم الحدیث ٢٩٥٦١، مجمع الزوائد ج ٠١ ص ٢٦٢، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٥٤١٥)

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مساکین کی عیادت کرتے تھے اور ان کے متعلق سوال کرتے تھے۔ ( سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٠٩١)

ان احادیث سے یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہوگئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں امیر کافروں کی محبت تھی نہ غریب مسلمانوں سے نفرت تھی، اللہ تعالیٰ امام رازی کی مغفرت فرمائے، وہ اس دوسرے جواب کو ذکر نہ کرتے تو بہتر تھا۔

امام رازی نے ان آیات پر دوسرا سوال یہ وارد کیا ہے :

جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف تیوری چڑھانے پر عتاب کیا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابن ام مکتوم کی بہت تعظیم ظاہر ہوتی ہے اور جب ایسا ہے تو پھر حضرت ابن مکتوم کو نابینا کے وصف سے کیوں ذکر فرمایا ہے کیونکہ نابیناکا وصف تو تحقیر کے لیے ذکر کیا جاتا ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نابینا کا وصف حضرت ابن ام مکتوم کی تحقیر شان کے لیے نہیں ذکر کیا گیا بلکہ اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نابینا ہونے کی وجہ سے مزید شفقت اور رعایت کے مستحق تھے، تو اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے یہ کیسے مناسب تھا کہ آپ ان پر سختی کرتے۔

اور ان آیات پر تیسرا سوال یہ ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اجازت تھی کہ آپ حسب مصلحت اپنے اصحاب کے ساتھ سلوک کریں اور کئی مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی تادیب کرتے تھے اور بعض کاموں پر ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے اور ایسا کیوں نہ ہوتا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو محاسن آداب کی تعلیم دینے کے لیے معبوث ہوئے تھے اور کسی نا مناسب کام پر تیوری چڑھانا بھی ان کی تادیب میں داخل ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ میں مداخلت کرنا بھی نا مناسب کام ہے تو اس پر تیوری چڑھانے پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیوں عتاب فرمایا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی تادیب میں ماذون تھے لیکن اس موقع پر اغنیاء کو فقراء پر ترجیح دینے سے یہ وہم ہوتا تھا کہ آپ دنیا کو دین پر ترجیح دیتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا۔

( تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٥، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

علامہ قرطبی کی طرف سے آپ کے تیوری چڑھانے پر عتاب کی توجیہ

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

اگر حضرت ابن ام مکتوم کو یہ علم ہوتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرداران قریش کو تبلیغ فرما رہے ہیں اور آپ کو ان کے اسلام کی توقع ہے اور پھر وہ آپ کی گفتگو میں مداخلت کرتے تو ان کا یہ فعل بےادبی ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر بھی آپ پر عتاب فرمایا تاکہ اہل صفہ (فقراء صحابہ) کے دل نہٹوٹ جائیں، یا اس لیے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ مومن فقیر، کافر غنی سے بہتر ہے اور یہ کہ مومن کی رعایت کرنا کافر غنی سے زیادہ لائق ہے، ، خواہ کافر کے ایمان لانے کی توقع ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت ابن ام مکتوم پر اعتماد ہو کہ اگر آپ ان کی طرف توجہ نہ بھی کریں تو ان کو ملال نہیں ہوگا اور دوسری جانب کفار کے مجلس سے اٹھ کر چلے جانے کا خطرہ ہو جیسا کہ ایک موقع پر آپ کچھ صحابہ کو عطاء فرما رہے تھے اور جس کی حضرت سعد بن وقاص نے سفارش کی تھی اس کو عطاء نہیں فرمایا اور آخر میں بہ طور عذر فرمایا : میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ وہ دوسرا شخص مجھ کو اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس خوف سے کہ اللہ اس کو دوزخ میں منہ کے بل گرا دے گا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠٥١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٦٤، مسند احمد ج ١ ص ٦٧١)

ابن زید نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن ام مکتوم کے سوال پر اس لیے تیوری چڑھائی تھی اور ان سے اعراض کیا تھا کہ جو شخص حضر تابن ام مکتوم کو لے کر آ رہا تھا، آپ نے اس کو اشارہ کیا تھا کہ وہ حضرت ابن ام مکتوم کو روکے، لیکن حضرت ابن ام مکتوم نے اس کو دھکا دیا اور انکار کیا اور کہا کہ وہ ضرور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ معلوم کریں گے اور یہ ان کی طرف سے ایک قسم کا سخت رویہ تھا، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :” عَبَسَ وَتَوَلّٰی۔ “ (عبس : ١) انہوں نے تیوری چڑھائی، اور منہ پھیرا اور غائب کے صیغہ سے کلام فرمایا اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے یہ نہیں فرمایا : آپ نے تیوری چڑھائی اور آپ نے منہ پھیرا، پھر آپ سے انس فرمانے کے لیے بالمشافہ فرمایا :

وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی۔ (عبس : ٣) آپ کو کیا پتہ شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا۔

یعنی حضرت ابن ام مکتوم جو آپ سے قرآن اور دین کی تعلیم کا سوال کر رہے تھے، وہ اس تعلیم پر عمل کرتے اور دین میں زیادہ تقویٰ اور پاکیزگی حاصل کرتے اور ان سے نا واقفیت کی ظلمت زائل ہوجاتی، اور ایک قول یہ ہے کہ ” لعلہ “ کی ضمیر کافر کی لوف لوٹ رہی ہے، یعنی آپ جن کافروں کے اسلام قبول کرنے کی خواہش کر رہے ہیں، آپ کو کیا پتہ کہ آپ کی تبلیغ کا ان پر اثر ہوگا اور وہ پاکیزگی حاصل کرلیں گے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٤٨١۔ ٣٨١، دارالفکر بیروت، ٥١٤١ ھ)

علامہ اسماعیل حقی کی طرف سے آپ کے تیوری چڑھانے کی توجیہ

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ٧٣١١ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن ام مکتوم کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ کے دوران مداخلت کرنا بہ ظاہر ذنب اور معصیت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا تیوری چڑھانا برحق تھا لیکن آپ کے اس فعل سے یہ وہم ہوتا تھا کہ آپ اغنیاء کو فقراء پر مدقم کرتے ہیں اور فقراء کی دل آ زاری کی کوئی پرواہ نہیں کرتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا اور اس پر متنبہ کیا کہ آپ کا یہ فعل منصب نبوت کے شایان شان نہیں ہے اور آپ کا یہ فعل ترک اولیٰ اور ترک افضل کے قبیل سے ہے۔ (روح البیان ج ٠١ ص ٢٩٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٢٤١ ھ)

” عتاب “ کے معنی کی تحقیق

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منطور افریقی متوفی ١١٧ ھ لکھتے ہیں :

العتب والعتبان الذھمک الرجل علی اسائۃ کا نت لہ الیک

عتاب کا معنی یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ساتھ برا سلوک کرو تو وہ تم کو اس برے سلوک پر ملامت کرے۔

نیز لکھتے ہیں : کسی شخص کو نیک کام کی طرف لوٹانے کی رہنمائی کرنے کو عتاب کہتے ہیں : اور لکھتے ہیں :

الرجل الذی یعاتب صاحبہ او صدیقہ فی کل شیء اشفاقا علیہ ونصیحۃ لہ۔

کسی شخص کا اپنے شاگرد یا اپنے دوست پر شفقت کرتے ہوئے ہر چیز میں نصیحت کرنا۔

” عتاب “ کا معنی ہر شخص کے لیے اس کے مرتبہ اور منصب کے اعتبار سے کیا جائے گا، عام لوگوں کے حق میں عتاب کا معنی ہوگا : ان کے کسی غلط یا برے کام پر ان کو ملامت کرنا اور انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں عتاب کا معنی ہوگا : ان کے کسی خلاف اولیٰ کام پر لطف و محبت سے ان کو متنبہ فرانا گویا یوں کہنا : آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے، یہ کام آپ کے شایان شان نہیں ہے، جیسا اس آیت میں ہے :

عَفَا اللہ ُ عَنْک َج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ (التوبہ : ٣٤)

اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ( منافقین کو ان کے صدقے ظہور سے پہلے) کیوں اجازت دے دی ؟

کسی صحیح یا مسند حدیث میں مذکور نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب کیا گیا، البتہ علامہ قرطبی نے ثوری کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابن ام مکتوم کو دیکھ کر چادر بچھا دیتے اور فرماتے : مرحبا ہو جس شخص کے لیے میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کا یہی محمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے تیوری چڑھانے پر لطف و محبت کے ساتھ تنبیہ فرمائی تاکہ مخالفین اسلام کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ پیغمبر اسلام امیر کافروں کو غریب مسلمانوں پر ترجیح دیتے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 2