أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰٮهَاؕ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کے رب کی طرف ہی اس کی انتہاء ہے.

النزعت : ۴۴ میں فرمایا : آپ کے رب کی طرف ہی اس کی انتہاء ہے۔

یعنی قیامت کے وقوع کے علم کی انتہاء اللہ تعالیٰ پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کسی کو اس کے وقوع کا علم نہیں دیا، واضح رے کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے وقوع کی خبر نہیں دی تھی، پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے واضح رہے کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے وقوع کی خبر نہیں دی تھی، پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے وقوع کا علم عطاء فرما دیا اور اس آیت کا معنی ہے کہ قیامت کے وقوع کے علم ذاتی کی انتہاء اللہ تعالیٰ پر ہے، اس کی پوری تفصیل اور تحقیق ہم سورة الجن میں بیان کرچکے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 44