أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰٓى ۞

ترجمہ:

آپ کو کیا پتہ شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔

حضرت ابن ام مکتوم سے اعراض کرنے کی وجہ سے آپ پر عتاب کرنے کی آیات

عبس : ٣ میں فرمایا : آپ کو کیا پتہ کہ شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا۔

جب اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام میں ” لعل “ (شاید) کا لفظ آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے : واجب ہے۔ اس آیت میں ” یزکی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ” یتزکی “ یعنی وہ آپ کی تعلیم پر عمل کر کے پاکیزگی حاصل کرتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 3