أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بِاَيۡدِىۡ سَفَرَةٍ ۞

ترجمہ:

ان کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے.

عبس، 16۔ 15 میں فرمایا : اور ان کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے۔ جو عزت والے نیک ہیں۔

” سفرۃ “ اور ” کرم “ کا معنی اور فرشتوں کا انسان سے اس کی بیوی کے ساتھ صحبت کے وقت اور قضاء حاجت کے وقت دور رہنا

اس آیت میں ” سفرۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : کاتبین لکھنے والے ” سفر “ کا اصل معنی ہے : کشف اور بیان، مسافر کو اس لیے مسافر کہتے ہیں کہ سفر کے ذریعہ اس پر نیا علاقہ اور نئے لوگ منکشف ہوجاتے ہیں، اسی طرح کسی چیز کو لکھ کرمنکشف اور واضح کردیا جاتا ہے، ” سفرۃ “ سے مراد یہاں پر ملائکہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان سفیر ہیں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام رسولوں تک پہنچاتے ہیں، اسی طرح ملائکہ اللہ تعالیٰ اور انسانوں کے درمیان وسائط ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کا علم بندوں تک پہنچانے کے ذرائع ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 15