کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 9 حدیث نمبر 142
۹ – بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلَاءِ
بیت الخلاء میں دخول کے وقت کیا کہے؟
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں جماع سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا بیان تھا اور اس باب میں بیت الخلاء جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا بیان ہے سو دونوں بابوں میں قدر مشترک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ہے۔.
١٤٢ – حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْب قَالَ سَمِعْتُ اَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ اللهم إنّي اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ .
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از عبدالعزیز بن صہیب انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں خبث اور خبائث سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
تَابَعَهُ ابْنُ عَرْعَرَةَ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ وَقَالَ مُوسى عَنْ حَمَّادٍ إِذَا دَخَلَ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلُ (طرف الحديث : 6322)
شعبہ سے اس حدیث کی روایت میں محمد بن عرعرہ نے آدم کی متابعت کی ہے اور غندر نے کہا: جب آپ بیت الخلاء میں جاتے اور موسیٰ نے حماد سے روایت کیا ہے: جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور سعید بن زید نے کہا: ہمیں عبد العزیز نے حدیث بیان کی جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے ۔
(صحیح مسلم : 375، الرقم المسلسل : ۸۰۹ سنن ابوداود: ۴ سنن نسائی: ۱۹ سنن الکبری للنسائی:۱۹ سنن ابن ماجہ: 298، سنن ترمذی: ۵ المنتقی :28، مسند ابویعلی : ۳۹۱۴، صحیح ابن حبان : ۱۴۰۷، کتاب الدعاء: 359، عمل اليوم والليلة : ۱۷ شرح السنتہ :186، مسند احمد ج ۳ ص ۲۸۲ طبع قدیم، مسند احمد :13999 – ج ۲۱ ص ۴۱۰ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس دعا میں ہے: اے اللہ ! میں خبث اور خبائث سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
اس حدیث کے چار رجال ہیں:
(۱) آدم
(۲) شعبه
(۳) عبدالعزیز بن صہیب
(۴) حضرت انس رضی اللہ ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔
خبث “ اور ” خبائث کا معنی اور اٹیچ ہاتھ میں بسم اللہ پڑھنے کی ممانعت
اس حدیث میں ” خبث “ اور ” خبائث “ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے اس سے مراد شیاطین اور ان کی مؤنثات ہیں، کیونکہ شیاطین بیت الخلاء میں حاضر ہوتے ہیں یہ وہ مقامات ہیں، جہاں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا جاتا اس لیے ان سے احتراز کرنے کے لیے آپ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔
“خبث“ سے مراد کفر یا شر ہے اور ” خبائث “ سے مراد شیاطین ہیں ابن الاعرابی نے کہا کہ کلام عرب میں خبث مکروہ چیز کو کہتے ہیں اگر وہ مکروہ کلام ہوتو وہ سب وشتم ہے اگر وہ مکروہ طعام ہوتو وہ حرام ہے اور ” خبائث ‘ خبیثہ کی جمع ہے یعنی جو نیک اور محمود فعل نہ ہو یعنی افعال مذمومہ اور خصال ردیتہ ۔
آپ جب بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے، کیونکہ یہ جگہ اللہ تعالی کا پاک نام لیے جانے کے قابل نہیں ہے اور بیت الخلاء میں اللہ تعالیٰ کا دل میں ذکر کرنا چاہیے نہ کہ زبان ہے۔
آج کل گھروں میں اٹیچ باتھ روم بنے ہوئے ہوتے ہیں، جن میں ایک طرف قضاء حاجت کی جگہ ہوتی ہے اور دوسری طرف وضوء کرنے کی جگہ ہوتی ہے اور درمیان میں کوئی آڑ یا حجاب نہیں ہوتا سو اس میں بھی اللہ تعالی کا نام لینا صحیح نہیں ہے اور وضوء کرنے سے پہلے باتھ روم سے باہر آکر بسم اللہ پڑھنی چاہیے اور وضوء کی دعائیں اس جگہ نہیں مانگنی چاہئیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم شیطان کے شر سے پناہ کی دعا کی توجیہ
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں خبث اور خبائث سے تیری پناہ میں آتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شیاطین سے پناہ طلب کرنا عبودیت کے اظہار اور تعلیم امت کے لیے ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ تمام جنات اور انسانوں کے شر سے محفوظ ہیں۔
بیت الخلاء میں دعا اور اذکار کی ممانعت اور جو تعویذ غلاف میں ہو اس کو بیت الخلاء میں لے جانے کا جواز
اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں خبث اور خبائث سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ بیت الخلاء میں داخل ہونے کے بعد زبان سے یہ دعا کرتے تھے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے تھے، جس طرح قرآن مجید کی یہ آیت ہے:
فإذا قرأت القُرانَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ( النحل: ٩٨)
پس جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں 0
اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ قرآن پڑھنے کے بعد شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب آپ قرآن پڑھنے کا ارادہ کریں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں، اسی طرح اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے تھے حدیث میں ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیمم کیا،پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
( صحیح مسلم :۳۷۰ سنن ترمذی: ۹۰ سنن ابوداؤد : ۱۶ سنن نسائی: 37، سنن ابن ماجہ : ۳۵۳)
دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر سے سلام کا جواب دینے کا عذر بیان فرمایا ہے:
المباجر بن قنفذ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے انہوں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ نے وضوء کر لیا پھر آپ نے اُن کے سامنے عذر بیان کیا اور فرمایا: میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے کو ناپسند کیا۔ (سنن ابوداؤد : ۱۷ سنن نسائی : ۳۸ سنن ابن ماجہ : ۳۵۰)
بیت الخلاء میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا تو دور کی بات ہے آپ تو بیت الخلاء جانے سے پہلے اپنی انگوٹھی بھی اتار لیتے تھے کیونکہ اس میں اللہ کا نام لکھا ہوا تھا، حدیث میں ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہونے کا( ارادہ ) کرتے تو اپنی انگوٹھی اتار کر رکھا دیتے ۔ (سنن ابوداؤد : ۱۹ سنن ترمذی : ۱۷۴۶ سنن نسائی : ۵۲۲۸ سنن ابن ماجہ: ۳۰۲)
انگوٹھی پر کوئی غلاف نہیں ہوتا اس لیے آپ انگوٹھی کو اتار دیتے تھے لیکن جس ذکر پر کوئی غلاف ہو اس کو بیت الخلاء میں لے جانا جائز ہے جیسے تعویذ چمڑے یا چاندی کے غلاف میں ہو ۔ (در مختار مع رد المختار ج ا ص ۲۸۸ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ)
بعض علماء نے بیت الخلاء میں دعا کرنے اور ذکر کرنے کو جائز کہا ہے اور اس حدیث سے استدلال کیا ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ( یا تمام اوقات میں) اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
( سنن ابوداؤد : ۱۸ سنن ترمذی: 3384، سنن ابن ماجه: ۳۰۲)
اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ ہر وقت زبان سے اللہ کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ بعض اوقات زبان سے اللہ کا ذکر کرتے تھے اور بعض اوقات دل سے اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 735، ج ا ص ۱۰۵۹ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔