أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗؕ‏ ۞

ترجمہ:

پھر جب چاہے گا اس کو زندہ کر کے نکالے گا۔

عبس : ٢٢۔ ۲۱ میں فرمایا : پھر اس کو موت دی پس اس کو قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اس کو زندہ کر کے نکالے گا۔

انسان کی تخلیق کا پہلا مرتبہ یہ تھا کہ اس کو نطفہ سے بہ تدریج مکمل انسان بنایا اور دوسرا مرتبہ یہ تھا کہ اس کے لیے اللہ تک پہنچنا آسان کردیا اور تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ اس کی روح قبض کی اور اس کو قبر میں پہنچا دیا اور پھر قیامت کے دن اس کو میدان حشر میں لا کھڑا کیا۔ انسان کی موت بھی اس کے لیے نعمت یہ کیونکہ موت کی وجہ سے اس کی جزاء کا دروازہ کھلتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومن کے نیک اعمال پر جو نعمتیں مقدر کی ہیں ان کے حصول کا وقت آتا ہے، اور اس کے قبر میں دفن ہونے میں بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں کیونکہ اگر وہ دفن نہ ہوتا تو درندے اور پرندے اس کو کھا جاتے اور زمین پر اس کے اعضاء بکھرے ہوئے ہوتے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کو میدان حشر میں لے آئے گا، اس میں یہ اشارہ ہے کہ حشر کا وقت معین اور معلوم نہیں ہے، جس طرح انسان کو اس کی موت کا وقت معلوم نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 22