أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ ۞

ترجمہ:

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پر غور کرے۔

عبس : 24 میں فرمایا : انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پر غور کرے۔

اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت پر دلائل خارجیہ

اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں یہ اسلوب ہے کہ وہ دو قسم کے دلائل ذکر فرماتا ہے، ایک وہ دلائل جو انسان کے اپنے نفس میں ہیں اور دوسرے وہ دلائل جو انسان کے نفس سے باہر آفاق میں ہیں تاکہ انسان اپنے اندر غور کرے تو اللہ کی اطاعت کی طرف رجوع کرلے اور اپنے باہر غور کرے تو اللہ کی فرماں برداری کی طرف پلٹ آئے، سو اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے طعام کی طرف متوجہ کیا، اس کا طعام زمین کی پیداوار سے حاصل ہوتا ہے اور زمین کی پیداوار اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی تخلیق سے حاصل ہوتی ہے، پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خود اس کی اپنی تخلیق کی طرف متوجہ فرمایا، یہ دلائل نفسیہ تھے، اب اس کو طعام کی طرف متوجہ فرمایا ہے، یہ دلائل آفاق ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 24