قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗؕ سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 17
sulemansubhani نے Wednesday، 20 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗؕ ۞
ترجمہ:
(کافر) انسان ہلاک ہوجائے وہ کیسا ناشکرا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( کافر) انسان ہلاک ہوجائے وہ کیسا نا شکرا ہے۔ اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے ؟۔ اس کو نطفہ سے پیدا کیا، پھر اس کو مناسب اندازہ پر رکھا۔ پھر اس کے لیے راستہ آسان کیا۔ پھر اس کو موت دی پس اس کو قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اس کو زندہ کر کے نکالے گا۔ بیشک اس نے اللہ کے حکم پر ابھی تک عمل نہیں کیا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پر غور کرے۔ ہم نے خوب پانی بہایا۔ پھر ہم نے زمین کو شق کیا۔ سو اس میں غلہ اگایا۔ اور نگور اور سبزی۔ اور زیتون اور کھجور۔ اور گھنے باغات۔ اور میوے اور ( مویشوں کا) چارا۔ تمہیں اور تمہارے مویشوں کو فائدہ پہنانے کے لیے۔ ( عبس : ٢٣۔ ٧١)
اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت پر دلائل نفسیہ
عبس : ٧١ میں فرمایا : ( کافر) انسان ہلاک ہوجائے وہ کیسا نا شکرا ہے۔
اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ قریش کے کافر سردار اپنے آپ کو فقراء مسلمین سے بلند اور برتر سمجھتے تھے، ان آیات میں ان کے تکبر کا رد فرمایا ہے کہ انسان کس چیز پر تکبر کر رہا ہے، یہ ابتداء میں نطفہ تھا، نا پاک پانی کا قطرہ اور آخر میں یہ بدبو مردار ہوجائے گا۔
اس آیت میں ” قتل “ کا لفظ ہے، اس کا منی ہے : کافر انسان مار دیا جائے، یا اس کو عذاب دیا جائے یا اس کو ہلاک کردیا جائے، ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عتبہ بن ابی لہب کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ ایمان لا چکا تھا اور جب سورة النجم نازل ہوئی تو مرتد ہوگیا اور کہنے لگا : میں النجم کے سوا پورے قرآن پر ایمان لاتا ہوں تو اللہ عزوجل نے عتبہ بن ابی لہب کی مذمت میں یہ آیت نازل فرمائی اور ” قتل الانسان “ سے مراد ہے : عتبہ پر لعنت کی جائے کہ اس نے قرآن کا انکار کیا ہے اور رسول اللہ نے اس کے خلاف یہ دعا کی :
اللھم سلط علیہ کلبک اسد الغاضرۃ
اے اللہ ! اس کے اوپر زرخیززمین میں اپنے کتے کو مسلط کر دے جو پڑھانے والے شیر کی طرح ہو۔
وہ فوراً شام کی طرف نکل گیا، جب زرخیز زمین میں پہنچا تو اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا یاد آئی، پھر ایک رات کو شیر آیا، اس نے عتبہ بن ابی لہب کا منہ سونگھا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، اس کا باپ اس پر رونے لگا اور کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو بھی کہا وہ ہو کر رہا۔ ( یہ روایت علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٧٨١ میں درج کی ہے، مگر اس پر اعتراض کیا گیا کہ اس کی سند صحیح نہیں ہے اور علامہ قرطبی نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا، البتہ اس سے ملتی جلتی ایک حدیث حاکم نے روایت کی ہے، وہ یہ ہے :)
نوفل بن ابی عقرب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ لہب بن ابی لہب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برائی کیا کرتا تھا، ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے خلاف دعا کی : اے اللہ ! اس کے اوپر اپنے کتے کو مسلط کر دے، وہ شام جانے کے ارادہ سے ایک قافلہ کے ساتھ گیا، پھر ایک جگہ کیا، وہ کہنے لگا : مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا سے ڈر لگ رہا ہے، قافلہ والوں نے کہا : ہرگز نہیں ! انہوں نے اس کا سامان اپنے پاس رکھ لیا اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے بیٹھ گئے، پھر شیر آیا اور اس کو جھبپٹ کرلے گیا۔ ( المستدرک ج ٢ ص ٩٣ ٥ قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٤٨٩٣، علامہ ذہبی نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 17