تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 41
sulemansubhani نے Thursday، 21 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ ۞
ترجمہ:
ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی.
عبس : ۴۲۔ ۴۰ میں فرمایا : اور اس دن کئی چہرے غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔ وہی لوگ کافر بدکار ہیں۔
ان آیات میں ” ترھق “ کا لفظ ہے، ” وھق “ کا معنی ہے : کسی چیز کا جلدی سے عارض ہونا، کسی چیز کا دوسری چیز پر زبردستی چھا جانا، ” قترۃ “ کا معنی ہے : دھوئیں کی سیاہی، اللہ تعالیٰ کفا رکے چہروں میں سیاہی اور غبار کو جمع فرماے دے گا جیسا کہ انہوں نے اپنے اندر دنیا میں کفر اور برے اعمال کو جمع کرلیا تھا۔
ان آیات سے خوراج نے یہ استدلال کیا ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کاملین اور کفار کا ذکر فرمایا ہے اور مومن مرتکب کبیرہ کا ذکر نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ وہ کفار میں داخل ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا ذکر دوسری آیات میں ان کا ذکر آچکا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 41