أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ ۞

ترجمہ:

مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش.

عبس : ۳۹۔ ۳۸ میں فرمایا : اس دن کئی چہرے چمکتے ہوئے ہوں گے۔ مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش۔

مؤمنوں اور کافروں کے چہروں کی آخرت میں کیفیات

اس آیت میں ’ ’ مسفرۃ “ کا لفظ ہے ” اسفار “ اس وقت کو کہتے ہیں جب صبح روشن ہوجائے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جو شخص رات کو بہت نماز پڑھتا ہے صبح اس کا چہرہ روشن اور حسین ہوجاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مومن دنیا سے منقطع ہو کر جب عالم قدس سے واصل ہوتا ہے اور اللہ کی رحمت اور رضا اس پر سایہ افگن ہوتی ہے، یعنی جس وقت میزان کے وزن اور حساب سے فارغ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عزت اور سرفرازی سے بہت خوش ہوتا ہے تو اس وقت کی اس کی خوشی کو ان آیات میں بیان فرمایا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 39