کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 13 حدیث نمبر 146
sulemansubhani نے Thursday، 21 November 2024 کو شائع کیا.
۱۳ – بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ الی الْبَرَازِ
خواتین کا کھلے میدان میں ( قضاء حاجت کے لیے) نکلنا
براز “ کا معنی وسیع میدان ہے اور یہ قضاء حاجت سے کنایہ ہے حدیث میں ہے:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لعنت کی جگہوں سے بچو، پانی کے گھاٹ پر، عام راستہ پر اور سائے کی جگہوں پر براز ( قضاء حاجت) کرنے سے (اس حدیث میں آپ نے قضاء حاجت کے لیے براز “ کا لفظ فرمایا ہے)۔ (سنن ابوداؤد : ۲۶ سنن ابن ماجہ: ۳۲۸)
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں بیت الخلاء میں قضاء حاجت کا ذکر تھا اور اس باب میں کھلے میدان میں قضاء حاجت کا ذکر ہے۔
١٤٦ – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزنَ إِلَى الْمَنَاصِحِ وَهُوَ صَعِيدٌ افْیحُ، فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبُ نِسَاءَكَ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ يَفْعَلْ فَخَرَجَتْ سَوْدَةٌ بِنْتُ زَمعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءُ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ طَوِيْلَةٌ فَنَادَاهَا عُمَرُ اَلا قَدْ عَرَفْنَاكِ یاسَوْدَةٌ ، حَرصًا عَلَى أَنْ ینْزَلَ الْحِجَابُ فَأَنْزَلَ اللہ آيَةَ الْحِجَابِ.
اطراف الحدیث: ۷ ۱۴- ۴۷۹۵- ۵۲۳۷ – ۶۲۴۰
صحیح مسلم:2170، الرقم المسلسل : ۵۵۶۷ سنن بیہقی ج ۷ ص 88، مسند احمد ج 6 ص223، طبع قدیم مسند احمد :۲۵۸۶۶- ج ۴۳ ص 54، مؤسسته الرسالة بيروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں یحیی بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عقیل نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از عروه از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا که نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رات کو قضاء حاجت کے لیے المناصع کی طرف جاتی تھیں، المناصع کا معنی ہے: وسیع میدان، حضرت عمر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو حجاب میں رکھیں اور نبی مٹی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں کرتے تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک رات کو عشاء کے وقت قضاء حاجت کے لیے نکلیں، وہ دراز قد خاتون تھیں، ان کو حضرت عمر نے آواز دے کر کہا : اے سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے حضرت عمر کو یہ حرص تھی کہ پردہ کے احکام نازل ہو جائیں، پھر اللہ نے حجاب کی آیت نازل کردی۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: رات کو ازواج قضاء حاجت کے لیے” المناصع” یعنی وسیع میدان کی طرف جاتی تھیں، امام بخاری نے اس باب سے یہ اشارہ کیا ہے کہ پہلے گھروں میں بیت الخلاء بنے ہوئے نہیں ہوتے تھے اس لیے ازواج قضاء حاجت کے لیے کھلے میدانوں میں جاتی تھیں اور یہ ان کے لیے رخصت تھی، پھر جب گھروں میں بیت الخلاء بن گئے تو ان کو ضروری کام کے سوا گھروں سے نکلنے سے منع کردیا گیا، جس کی تصریح اگلے باب میں آرہی ہے۔
اس حدیث کے تمام رجال کا اسی ترتیب کے ساتھ کتاب الوحی میں تعارف ہو چکا ہے۔
” المناصع “ اور ” افیح“ کا معنی
اس حدیث میں” المناصع “ کا لفظ ہے یہ منصع کی جمع ہے ” ناصع کا معنی ہے : خالص، الازہری نے کہا ہے : یہ وہ جگہیں ہیں، جو مدینہ سے باہر تھیں اور اس میں” افیح ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: واسع (التنقیح علی الجامع صحیح ج 1 ص ۱۳۶)
حجاب کے تین مراتب
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے : آپ اپنی ازواج کو حجاب میں رکھیں ۔
قرآن مجید میں حجاب کے متعلق تین حکم ہیں :
(1) يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ . (الاحزاب :۵۹)
اے نبی! آپ اپنی ازواج سے اور اپنی صاحب زادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادر میں لٹکالیا کریں۔
اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ وہ اپنے چہروں کو اجنبی مردوں سے حجاب میں رکھیں اور عورتوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے چہروں اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھیں ۔
(٢) إِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَسْئلوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ. ( الاحزاب: 53 )
جب تم نبی کی ازواج سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ازواج مطہرات اور مسلمانوں کے درمیان پردہ لٹکادیا جائے ۔
(۳) وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأولى. (الاحزاب : ۳۳)
اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو۔
اس آیت میں یہ حکم دیا ہے کہ ازواج مطہرات اپنے گھروں میں لازم رہیں اور اگر کسی ضرورت کی وجہ سے گھر سے باہر جانا پڑے تو بناؤ سنگھار کرکے گھر سے باہر نہ نکلیں ۔
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک رات کو عشاء کے وقت قضاء حاجت کے لیے باہر نکلیں۔
حضرت سودہ بنت زمعہ بن قیس، القرشی العامریہ، بہت پہلے اسلام لائی تھیں اور بیعت کرچکی تھیں وہ پہلے اپنے عم زاد کے نکاح میں تھیں، جن کا نام السکران بن عمرو تھا، وہ ان کے ساتھ اسلام لائے تھے اور ان دونوں نے ایک ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، پھر جب یہ مکہ میں آئیں تو ان کے خاوند فوت ہوگئے، پھر ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا یہ واقعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد ہوا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح سے پہلے ہوا پھر انہوں نے مدینہ ہجرت کی، جب ان کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ کیا، حضرت سودہ نے کہا: آپ مجھے طلاق نہ دیں اور انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ کے لیے کردی، پھر آپ نے ان کو رکھ لیا، ان سے پانچ احادیث مروی ہیں، امام بخاری نے ان سے دو احادیث روایت کی ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے آخر میں ان کی وفات ہوئی ایک قول ہے کہ حضرت معاویہ کے زمانہ میں ۵۴ ھ میں ان کی وفات ہوئی۔(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۳۱ ، دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)
علامہ عزالدین ابن الاثیر ابوالحسن علی بن محمد الجزری المتوفی 606ھ سے علامہ عینی نے یہ احوال نقل کیے ہیں ان کے علاوہ علامہ ابن الاثیر نے لکھا ہے:
حضرت سودہ کا بدن بھاری تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی عمر زیادہ ہوگئی اور ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، حتی کہ آپ فوت ہوگئے۔
محمد بن علی بن الحسین نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل پندرہ عورتوں سے نکاح کیا تھا اور حضرت خدیجہ بنت خویلد کے بعد آپ نے جس خاتون سے سب سے پہلے نکاح کیا تھا، وہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرا باپ بہت بوڑھا ہے وہ حج کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ! آپ نے فرمایا: یہ بتاؤ اگر تمہارے باپ پر قرض ہوتا، پس تم اس کی طرف سے قرض ادا کرتے تو کیا تمہاری طرف سے وہ قرض قبول کیا جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں ! آپ نے فرمایا: تو اللہ بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے، تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرو۔ ( مسند احمد ج ۶ ص ۴۲۹)
حضرت سودہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخر میں فوت ہو گئی تھیں ۔
(اسد الغابہ ج ۷ ص ۱۵۸ – ۱۵۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415ھ )
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ اور ان کی رائے کی فضیلت
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو حجاب میں رکھیں، اس سے معلوم ہوا کہ ادنی کے لیے اعلیٰ کو مشورہ دینا جائز ہے اور اس میں مشورہ دینے کی فضیلت ہے، بہ شرطیکہ مشورہ دینے سے کسی کو مشکل اور دشواری میں ڈالنا مقصود نہ ہو اور اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ ان کے مشورہ کے بعد حجاب کے احکام نازل ہوئے اور سورۃ الاحزاب کی وہ آیتیں نازل ہوئیں، جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید میں حسب ذیل آیات نازل ہوئی ہیں:
حضرت عمر کی رائے کی موافقت میں آیات حجاب کا نازل ہونا
(1) يَأْيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ . (الاحزاب : ۵۹)
اے نبی! آپ اپنی ازواج سے اور اپنی صاحب زادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکالیا کریں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو حجاب میں رکھیں، جیسا کہ اس حدیث میں ہے سو حضرت عمر کی رائے کے موافق یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت عمر کی رائے کی موافقت میں ازواج مطہرات کو تنبیہ فرمانا
(۲) عَسَى رَبِّةٌ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا منكن. (التحريم : ۵)
اگر وہ (نبی) تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب عنقریب ان کو تمہارے بدلہ میں تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے گا۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ۳۱۰ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج غیرت میں جمع ہوگئیں تو میں نے ان سے کہا : اگر وہ ( نبی ) تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب عنقریب ان کو تمہارے بدلہ میں تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے گا’ تب التحریم: ۵ نازل ہوگئی۔ (جامع البیان جز ۲۹ ص ۱۸۳ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ)
حضرت عمر کی رائے کی موافقت میں مقام ابراہیم کو مصلی بنانا
(۳) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! کاش! آپ مقام ابراہیم کو مصلی بنالیں، تو یہ آیت نازل ہوئی:
وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَهِمَ مُصَلَّى (البقره:۱۲۵)
اور تم مقام ابراہیم کو مصلی بنالو۔
( جامع البیان ج ا ص ۶۱۷ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ )
ان آیات کا ذکر اس حدیث میں بھی ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا: میں نے اپنے رب کی موافقت تین آیات میں کی ہے: میں نے کہا:یارسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنالیں، تو یہ آیت نازل ہوگئی: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَهِم مُصَلَّى . ( البقرہ: 125) اور آیت حجاب میں، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اگر آپ اپنی ازواج کو یہ حکم دیں کہ وہ حجاب میں رہیں، کیونکہ ان سے نیک اور بد ہر قسم کے آدمی بات کرتے ہیں تو آیت حجاب نازل ہوگئی ( الاحزاب : ۵۹) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ کے خلاف غیرت میں جمع ہوئیں تو میں نے ان سے کہا : اگر وہ (نبی) تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب عنقریب ان کو تمہارے بدلہ میں تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے گا تو التحریم: ۵ نازل ہوگئی ۔ (صحیح البخاری : ۵۰۲ سنن ترمذی: 2960، سنن ابن ماجه : ۱۰۰۹ سنن دارمی: ۱۸۴۹ مسند البزار :۲۲۱ – 220، صحیح ابن حبان :6896، المعجم الصغير: 868 سنن بیہقی ج ۷ ص ۸۸ شرح السنتہ : ۳۸۸۷ مسند ابوداؤد الطیالسی : ۴۱، مسند احمد ج۱ ص ۲۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۵۷۔ج ا ص ۲۹۷ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث میں صرف تین آیات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت کا ذکر ہے حالانکہ حضرت عمر کی موافقت کی آیات کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تین آیات زیادہ مشہور تھیں، باقی آیات حسب ذیل ہیں :
حضرت عمر کی رائے کی موافقت میں ان مسلمانوں پر عتاب جنہوں نے غزوہ بدر میں ۔۔۔ قیدیوں سے فدیہ لینے کو اختیار کیا تھا
ما كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثخنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال : 67)
نبی کے پاس اس وقت تک قیدی نہیں ہونے چاہئیں جب تک کہ ( کافروں کا) خون نہ بہایا جائے، تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ فرماتا ہے اور اللہ بہت غالب بے حد حکمت والا ہے
حضرت عمر بن الخطاب کی روایت کے آخر میں ہے:
ابوزمیل نے کہا: غزوہ بدر کے دن تیسرے آسمان سے مدد آئی، پس ستر کفار قتل کردیئے گئے اور ستر کفار قید کر لیے گئے’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : جب قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا تو رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے کہا: ان قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر نے کہا: اے نبی اللہ ! یہ چچا اور رشتہ داروں کی اولاد ہیں، میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، اس سے ہمیں کفار کے خلاف قوت حاصل ہوجائے گی پھر ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کو اسلام کے لیے ہدایت دے دے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے ابن الخطاب ! تمہاری کیا رائے ہے؟ (حضرت عمر نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میری وہ رائے نہیں ہے جو ابوبکر کی رائے ہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ ہم ان پر قدرت پاچکے ہیں، سو ہم ان کی گردنیں اڑادیں’ آپ حضرت علی کو موقع دیں وہ عقیل کی گردن اڑادیں اور مجھے فلاں پر موقع دیں میں اس کی گردن اڑا دوں یہ لوگ کفر کے ائمہ اور صنادید ہیں پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کے قول کی طرف مائل ہوئے اور میرے قول کی طرف مائل نہیں ہوئے دوسرے دن صبح کو جب میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر دونوں بیٹھے ہوئے رو ر ہے تھے میں نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے آپ اور آپ کے یہ صاحب کسی وجہ سے رو ر ہے ہیں؟ پس اگر مجھے بھی از خود رونا آیا تو میں روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے زبردستی روؤں گا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ تمہارے اصحاب کے فدیہ لینے کی وجہ سے میرے اوپر ان کا عذاب پیش کیا گیا، جو اس درخت کے قریب آچکا تھا وہ درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا اور اللہ عزوجل نے یہ آیتیں نازل فرمائیں:
ما كَانَ لِنَبِي أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَض الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهِ عَزِيزٌ حَكِيم 0 لولا کتب من اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُم فِيمَا أَخَذَتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ0 فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حللا طيِّبًا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 0(الانفال : 69-67)
نبی کے پاس اس وقت تک قیدی نہیں ہونے چاہئیں’ جب تک کہ کافروں کا خون نہ بہایا جائے، تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ فرماتا ہے اور اللہ بہت غالب بے حد حکمت والا ہے0 اگر اللہ کی طرف سے پہلے ہی یہ حکم لکھا ہوا نہ ہوتا تو جو کچھ تم نے فدیہ لیا ہے اس پر تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا0 پس تم نے جو حلال اور پاکیزہ غنیمت حاصل کی ہے اس کو خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے0 پھر اللہ نے مسلمانوں کے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا۔ (صحیح مسلم : ۱۷۶۳ الرقم السلسل : 4507، سنن ابوداؤد : 2690، سنن ترمذی :3081، مصنف ابن ابی شیبه ج 10 ص۳۵۰- ج 14 ص 366. 365 مسند البزار: ۱۹۶ صحیح ابن حبان : 4793،، سنن بیہقی ج 6 ص 321، دلائل النبوہ للبیہقی ج ۳ ص ۵۲ ۵۱ دلائل النبوہ لابی نعیم : 408، مسند احمد ج 1 ص ۳۰ طبع قدیم ، مسند احمد ج ا ص ۳۳۴ مؤسسة الرسالة بیروت )
فدیہ لینے پر عتاب کی توجیہ
الانفال : ۶۹ میں ہے : ” اگر اللہ کی طرف سے یہ حکم پہلے ہی لکھا ہوا نہ ہوتا ۔ اس کی تفسیر میں امام محمد بن جریرطبری متوفی ۳۱۰ھ لکھتے ہیں:
اللہ تعالٰی اس امت کو مال غنیمت کھلانے والا ہے اور انہوں نے اللہ کے حکم سے پہلے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا تھا، اس وجہ سے ان پر عتاب کیا گیا۔ (جامع البیان جز ۱۰ ص ۵۳ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ)
امام الحسین بن مسعود البغوی متوفی ۶۱۵ھ نے لکھا ہے کہ فدیہ کی رقم چالیس اوقیہ تھی اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا تھا۔
معالم التنزیل ج ۲ ص ۳۱۰ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۰ھ )
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ۶۶۸ ھ نے الانفال: ۶۸ کی تفسیر میں اس آیت کی چار وجوہ بیان کی ہیں:
(1) اس امت سے پہلے مالِ غنیمت کو کھانا حرام تھا اور اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ میں یہ لکھ دیا تھا کہ اس امت کے لیے مالِ غنیمت حلال ہے، اگر پہلے سے یہ حکم لکھا ہوا نہ ہوتا تو ان کے فدیہ لینے کی وجہ سے ان پر عذاب آتا۔
(۲) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پہلے فدیہ لینے سے منع نہیں کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ لکھ دیا تھا کہ جس کام کو مسلمان کریں، جس سے ان کو پہلے منع نہ کیا ہو تو اس پر ان کو عذاب نہیں ہوگا اگر یہ پہلے لکھا ہوا نہ ہوتا تو ان پر عذاب آتا۔
(۳) اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ دیا تھا کہ اہل بدر کو عذاب نہیں ہوگا، اگر یہ لکھا ہوا نہ ہوتا تو ان پر عذاب آتا۔
(۴) اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ دیا تھا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے عذاب نہیں آئے گا، اگر یہ حکم پہلے سے لکھا ہوا نہ ہوتا تو ان پر عذاب آتا ۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7 ص ۴۰۷-۴۰۶ دار الفکر بیروت، 1415ھ )
ان آیات کی مزید تفصیل اور تحقیق کے لیے تبیان القرآن ج ۲ ص ۷۰۰ – 699 کا مطالعہ فرمائیں۔
حضرت عمر کی رائے کی موافقت میں منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت
(٥) وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا . ( التوبة : ۸۴)
ان ( منافقین ) میں سے کوئی مرجائے تو آپ اس کی نماز جنازہ کبھی بھی نہ پڑھیں ۔
یہ آیت بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوئی ہے، حدیث میں ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی فوت ہو گیا تو اس کا بیٹا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یارسول اللہ ! مجھے اپنی قمیص عطا کیجئے، میں اس میں اس کو کفن دوں گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے استغفار کریں، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی قمیص عطا کردی اور فرمایا : مجھے مطلع کرنا میں اس کی نماز پڑھوں گا، جب آپ نے اس کی نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہا نے آپبکو کھینچا اور کہا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو چیزوں کا اختیار ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اسْتَغْفِرُ لَهُمْ أَوْلا تَسْتَغْفِرْلَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُم . (التوبة : ٨٠)
آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ ( بھی ) استغفار کریں تو اللہ ن کی ہرگز مغفرت نہیں کرے گا۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی تو یہ آیت نازل ہو گئی: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا . ( التوبة : ۸۴)
ان منافقین میں سے کوئی مرجائے تو آپ (آئندہ ) اس کی نماز جنازہ کبھی بھی نہ پڑھیں ۔
(صحیح البخاری : ۱۲۶۹ صحیح مسلم : ۲۷۷۴ سنن ترمذی: 3098، سنن نسائی: ۱۸۹۶ سنن ابن ماجه: 1523 مسند احمد ج ۲ ص ۱۸)
حضرت عمر کے قول کے موافق “فتبارك الله احسن الخالقین“ کا نازل ہونا
(6) فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المومنون : ۱۴)
پس اللہ برکت والا ہے جو سب سے حسین پیدا کرنے والاہے 0
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے چار آیتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے اور تیسری آیت یہ بیان کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ 0
بے شک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا
(المؤمنون :12
جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے کہا : ” تبارك الله احسن الخالقین تو یہ آیت نازل ہوئی : ” فتبارك الله احسن الخالقین “ (المؤمنون : ۱۴) ۔ ( مسند ابوداؤد الطیالسی : ۴۱ المعجم الكبير : ۱۲۲۴۴، الدرالمنثور ج ۶ ص ۸۸ دار احیاء التراث العربی بیروت )
حضرت عمر کی رائے کی موافقت میں شراب کی تحریم کا نازل ہونا
(7) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ 0 إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْط ان يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْر وَالْمَيْسِر ويَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلوةِ فَهَلْ أَنْتُم منتَهُونَ 0(المائده : ۹۱-۹۰
اے ایمان والو! شراب اور جوا، اور بت اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں، شیطانی کاموں سے ہیں، پس تم ان سے بچو تا کہ کامیاب ہوجاؤ0 شیطان یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعہ عداوت اور بغض پیدا کر دے اور تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو 0
شراب کی تحریم کی یہ آیتیں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوئی ہیں’ حدیث میں ہے:
ابو میسرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی : اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کے متعلق شافی بیان کر دے تو یہ آیت نازل یسْئلونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ کبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا اكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا .
)البقرہ:219)
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں
آپ کہیے: ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے اس میں دنیاوی فائدہ ہے اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بہت زیادہ ہے۔
حضرت عمر نے پھر دعا کی: اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کے متعلق شافی بیان کر دے تو یہ آیت نازل ہوئی:
يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنْتُمْ سکری ، (النساء: 43)
اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ ۔
حضرت عمر نے پھر دعا کی: اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کے متعلق شافی بیان کر دے تو پھر المائدہ : ۹۱ – ۹۰ نازل ہوئی، جس کے آخر میں ہے: کیا تم باز آنے والے ہو؟ حضرت عمر نے کہا: ہم باز آ گئے’ ہم باز آ گئے ۔
(سنن ترمذی: ۳۰۴۹، سنن ابوداؤد : ۳۶۷۰ سنن نسائی: ۵۵۵۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۱۱۲ المستدرک ج 4 ص 143 ، سنن بیہقی ج ۸ ص ۲۸۵، مسند احمد ج ۱ ص ۵۳ طبع قدیم مسند احمد : ۳۷۸- ج ۱ ص ۴۴۳ – ۴۴۲ مؤسسة الرسالة بیروت)
.حضرت عمر کا حضرت جبریل کی حمایت کرنا اور اس پر البقرۃ: ۹۷ کا نازل ہونا
(۸) قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللهِ. (البقره: ۹۷)
آپ کیسے کہ جو شخص جبریل کا دشمن ہو ( تو ہوا کرے) بے شک اس نے تو آپ کے دل پر اللہ کے اذن سے قرآن نازل کیا ہے۔
یہ آیت بھی حضرت عمر کی رائے کے موافق نازل ہوئی ہے حدیث میں ہے:
عامر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر یہود کی طرف گئے اور ان سے کہا: میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں، جس نے تورات کو حضرت موسیٰ پر نازل کیا! کیا تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہوسلم) کو اپنی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں! حضرت عمر نے کہا: پھر ان کی پیروی کرنے سے تمہیں کیا چیز مانع ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے جس رسول کو بھی بھیجا اس کا فرشتوں سے کوئی کفیل ہوتا ہے اور بے شک جبریل (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا کفضیل ہے اور وہ فرشتوں میں سے ہمارا دشمن ہے اور میکائل ہمارا دوست ہے وہ ہم پر سلامتی لاتا ہے اگر ان کے پاس میکائل آتا ہوتا تو ہم ان پر ایمان لے آتے حضرت عمر نے کہا: میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ پر تورات کو نازل کیا ہے! ان دونوں فرشتوں کا اللہ کی جناب میں کیا مرتبہ ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل اللہ کی دائیں جانب ہے اور میکائل اللہ کی بائیں جانب ہے حضرت عمر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ دونوں اللہ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں، میکائل جبریل کے دشمن پر سلامتی نہیں لاتے اور نہ جبریل میکائل کے دشمن پر سلامتی لاتے ہیں ابھی ان میں یہ بات ہو رہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، یہودیوں نے کہا: اے ابن الخطاب ! یہ تمہارے پیغمبر ہیں، حضرت عمر آپ کی طرف کھڑے ہوگئے اور اس وقت آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : ” قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوا لِجِبْرِيلَ (البقره: ۹۷) آپ کیسے جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے ( تو ہوا
کرے ) ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۳ ص 285 ادارۃ القرآن کراچی ۱۴۰۶ھ )
حضرت عمر کی رائے کے موافق قرآن مجید کی آیات کے نازل ہونے کا سبب
حضرت عمر رضی اللہ کی رائے کے موافق یہ آیات اس لیے نازل ہوئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کی زبان کو اظہار حق کا ذریعہ بنا دیا تھا’ حدیث میں ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور اس کے دل میں رکھ دیا ہے اور حضرت ابن عمر نے کہا: جب بھی لوگوں کو کوئی امر پیش آیا اور لوگوں نے اس کے متعلق کوئی بات کہی اور حضرت عمر نے اس کے متعلق کوئی اور بات کہی تو قرآن حضرت عمر کے قول کے موافق نازل ہوجاتا ۔ (سنن ترمذی: ۳۶۸۲)
راستہ میں خواتین سے باتیں کرنے کا اور اپنی ماں کو نیکی کی نصیحت کرنے کا جواز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمر کے مشورہ پر عمل نہ کرنے کی وجہ
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عمر نے آواز دے کر کہا : اے سودہ ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مرد راستے میں عورتوں سے بات کرسکتے ہیں، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنی ماں کو نیکی کی نصیحت کرسکتا ہے، کیونکہ اس کلام سے حضرت عمر کی غرض یہ تھی کہ حضرت سودہ حجاب میں رہا کریں اسی طرح حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ مشورہ دیا تھا کہ آپ اپنی ازواج کو حجاب میں رکھیں، وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی کی وجہ سے کہا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی علم تھا کہ آپ کی ازواج کا پردہ میں رہنا بہتر ہے لیکن آپ اس معاملہ میں وحی کا انتظار کررہے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا تو پھر آپ اس پر عمل کرائیں گئے اور ظاہر ہے کہ حضرت عمر کے مشورہ پر عمل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں زیادہ فضیلت تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر کے مشورہ پر عمل نہیں کر رہے تھے ۔
ٹیگز:-
شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب الوضو , کتاب الطہارہ , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری