أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ‌ۚ ۞

ترجمہ:

وہ کس گناہ میں قتل کی گئی ؟.

التکویر : ٩۔ ٨ میں فرمایا : اور جب زندہ درگور ( لڑکی) سے سوال کیا جائے گا۔ وہ کس گناہ میں قتل کی گئی ؟۔

زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٧٢٤ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

” مو ئودۃ “ اس لڑکی کو کہتے ہیں جس کو زندہ قبر میں دبا دیا جاتا ہے، عربوں کے ہاں جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی اور وہ اس کو زندہ رکھنا چاہتا تو وہ اس کو اون کا حسبہ پہنا کر جنگل میں بکریوں اور اونٹوں کو چرانے کے لیے چھوڑ دیتا اور اگر وہ اس کو قتل کرنا چاہتا تو اس کو چھوڑ دیتا حتیٰ کہ جب اس کا قد چھ بالشت کا ہوجاتا تو اس کا باپ اس کی ماں سے کہتا : اس کو خوب صورت کپڑے پہنائو حتی ٰکہ اس کو اس کے رشتہ داروں سے ملانے کے لیے لے جائوں اور اس نے صحرا میں ایک کنواں کھودا ہوا ہوتا تھا، وہ اس لڑکی کو وہاں لے جا کر اس سے کہنا : اس کنویں میں جھانک کر دیکھو، پھر اس کو پیچھے سے دھکا دے کر کنویں میں گرا دیتا اور اس کے اوپر مٹی ڈال کر اس کو زمین کی تہہ کے ساتھ ملا دیتا۔ ( الکشف والبیان ج ٠١ ص ٩٣١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٢٢٤١ ھ)

زندہ درگور کرنے کا سبب اور اس لڑکی سے سوال کرنے کی توجیہ

امام رازی نے فرمایا ہے کہ عرب اپنی بیٹیوں کو اس لیے زندہ درگور کرتے تھے کہ ان کو بیٹی کا باپ کہلانے سے عار آتا تھا یا وہ تنگی رزق کے خطرے سے بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو وہ بیٹیوں کو بیٹیوں کے ساتھ ملا دیتے تھے۔

ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ جس کو زندہ درگور کیا گیا ہے، اس سے سوال کیا جائے گا، بہ ظاہر یہ چاہیے تھا کہ قاتل سے سوال کیا جاتا کہ تم نے اس لڑکی کو کس گناہ کی وجہ سے زندہ درگور کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال اور جواب اس کے قاتل کی تذلیل کے لیے کیا جائے گا، جیسے عیسائیوں کی تذلیل کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا جائے گا :

ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰـھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہ ِط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ ط (المائدہ : ٦١١)

کیا آپ نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو ؟ عیسیٰ کہیں گے : اے اللہ ! تو پاک ہے، میرے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ میں وہ بات کہتا جس کا مجھے حق نہیں ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ مقتولہ سے اس لیے سوال کیا جائے گا کہ وہ قاتل کے خلاف کیا دعویٰ کرتی ہے۔

(تفسیر کبیر ج ١١ ص ٦٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

زندہ درگور کرنے کی ممانعت میں احادیث

زندہ درگور کرنے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

سلمہ بن زید الجعفی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (زمانہ ـ ٔ جاہلیت میں) زندہ درگور کرنے والا اور جس کو زندہ درگور کیا گیا، دونوں دوزخ میں ہیں ماسوا اس کے کہ زندہ درگور کرنے والا اسلام کا زمانہ پالے اور پھر اللہ اس سے درگز فرمائے ( زمانہ جاہلیت میں مرنے والی نابالغ لڑکی کا دوزخ میں ہونا محل اشکال ہے)

( مسند احمد ج ٣ ص ٨٧٤۔ رقم الحدیث : ٣٩٤٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

حضرت قیس بن حازم (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی آٹھ بیٹیوں کو زندہ درگور کیا تھا، آپ نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اونٹوں والا ہوں، آپ نے فرمایا : اگر تم چاہوتو ان میں سے ہر ایک کے بدلہ میں ایک اونٹ کی قربانی دو ۔ ( مسند البزار رقم الحدیث : ٠٨٢٢١، المعجم الکبیر ج ٨١ ص ٧٣٣، مجمع الزواید ج ٧ ص ٤٣١)

القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 9