وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ – سورۃ نمبر 81 التكويرآیت نمبر 4
sulemansubhani نے Friday، 22 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ ۞
ترجمہ:
اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بےکار چھوڑ دی جائیں گی۔
التکویر : ٤ میں فرمایا : اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بےکار چھوڑ دی جائیں گی۔
” العشار “ کا معنی اور ان کے معطل کیے جانے کی توجیہ
عربوں کے نزدیک حاملہ اونٹنیاں سب سے زیادہ محبو ہوتی ہیں اور جب ان کو معطل کر کے چھوڑ دیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کسی غیر معمولی چیز کا مشاہدہ کرلیا ہے، جس کی وجہ سے ان اونٹنیوں کی طرف ان کی توجہ نہیں رہی۔
(تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٥٥٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ٤٤٢١ ھ)
اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور اچانک قیامت آجائے گی اور ان کے اموال اور املاک ضائع ہوجائیں گے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ” العشار “ سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں، جب اچانک قیامت آجائے گی تو بادل اس پانی کو برسا نہیں سکیں گے۔
القرآن – سورۃ نمبر 81 التكويرآیت نمبر 4