وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Friday، 22 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ ۞
ترجمہ:
اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے.
التکویر : ٥ میں فرمایا : اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے۔
” وحوش “ کا معنی اور ” وحوش “ سے قصاص لینے کے فوائد
خشکی کے جانوروں میں سے جو جانور انسان سے عام طور پر مانوس نہیں ہوتے ان کو ” وحوش “ کہا جاتا ہے، ان وحشی جانوروں کو ہر طرف سے جمع کیا جائے گا حتیٰ کہ مکھیوں کو بھی قصاص کے لیے جمع کیا جائے گا، ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کسی کا استحقاق واجب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ تمام وحشی جانوروں کو قیامت کے دن جمع فرمائے گا اور جن جانوروں نے دوسرے جانوروں کو ایذاء پہنچائی ہوگی، ان سے قصاص لیا جائے گا، پھر ان سے کہا جائے گا : مر جائو تو وہ تمام وحشی جانور مرجائیں گے اور اس قصہ کو ذکر کرنے کے حسب ذیل فوائد ہیں :
(١) جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام وحشی جانوروں کو عدل کرنے کے لیے جمع کرے گا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنات کو عدل کرنے کے لئے جمع نہ کے۔
(٢) وحشی جانور انسانوں سے بدکتے ہیں اور ان کو دیکھ کر بھاگتے ہیں، اس کے باوجود وہ سب میدان محشر میں جمع ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے وہ اپنی فطرت کو بھول چکے ہوں گے۔
(٣) ان حیوانات میں سے بعض حیوان دوسرے بعض حیوانات کی غذاء ہوتے ہیں، جیسے شیر اور بکری، لیکن اس دن یہ سب جمع ہوں گے اور کوئی ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرے گا اور یہ صرف اس وجہ سے ہوگا کہ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے وہ اپنے طبعی تقاضوں کو بھول چکے ہوں گے۔
القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 5