أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الۡجَوَارِ الۡكُنَّسِ ۞

ترجمہ:

چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی۔

التکویر : 16 میں ” الکنس “ کا لفظ ہے، یہ ” کا نس “ اسم فاعل کی جمع ہے، ” کناس “ ہرن کے رہنے کی جھاڑی کو کہتے ہیں اور جھاڑی میں ہرن کے چھپنے کو بھی کہتے ہیں۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

” الکنس “ وہ ستارے ہیں جو چھپ کر غائب ہوجاتے ہیں اور بعض نے کہا : ” الکنس “ سے مراد ہرن ہیں، امام سعید بن منصور نے سند حسن کے ساتھ حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” الکنس “ سے مراد وہ ستارے ہیں جو رات میں نظر آتے ہیں اور دن میں چھپ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے، مجاہد سے ” الکنس “ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : مجھے پتا نہیں، ابراہیم نے کہا : آپ کو کیوں پتا نہیں تو انہوں نے کہا : ہم نے سنا ہے کہ اس سے مراد نیل گائے ہے اور یہ لوگ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں، ابراہیم نے کہا : یہ لوگ حضرت علی (رض) کے اوپر جھوٹ باندھتے ہیں۔

( فتح الباری ج ٩ ص ٦٠٧۔ ٥٠٧، دارالفکر، بیروت، ٠٢٤١ ھ)

امام بخاری نے کہا : ” الخنس “ کا معنی ہے : وہ ستارے جو اپنے مدار میں لوٹ جاتے ہیں اور ” الکنس “ کا معنی ہے : وہ ستارے جو ہرن کی طرح چھپ جاتے ہیں۔ ( صحیح البخاری تفسیر ” اذا الشمس کورت “ )

امام رازی نے کہا ہے کہ ” الخنس “ اور ” الکنس “ سے ستاروں کا مراد لینا زیادہ لائق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ستاروں کی قسم کھانا ہرن کی قسم کھانے سے زیادہ اولیٰ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 16