اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 19
sulemansubhani نے Saturday، 23 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ ۞
ترجمہ:
بیشک یہ معزز رسول کا قول ہے.
التکویر : ١٩ میں ” رسول کریم “ کی صفت کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منطبق ہونا
التکویر : ٢١۔ ١٩ میں جو چھ صفات ذکر کی گئی ہیں اور ان کے متعلق امام رازی نے یہ لکھا ہے کہ یہ حضرت جبریل کی چھ صفات ہیں، اس کے متعلق مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چھ صفات ہیں۔
ان آیات کی چھ یہ تفسیر کی گئی ہے کہ حضرت جبریل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل ہیں، یہ ایسی تفسیر ہے جس سے حضرت جبریل (علیہ السلام) بھی راضی نہیں ہوں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کی تائید سے یہ کہتے ہیں اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے، مفسرین کا جم غفیر اس طرف گیا ہے کہ اس آیت میں ” رسول کریم “ سے لے کر باقی صفات تک سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ” انہ لقول رسول کریم “ سے مراد حضرت جبریل ہیں تو اس کے خلاف یہ آیات ہیں :
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍط قَلِیْـلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ ۔ وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍط قَلِیْـلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الحاقہ : ٤٠۔ ٤٢ )
بے شک یہ ضرور رسول کریم کا قول ہے۔ اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔
ان آیات سے یہ متعین ہوگیا کہ سورة الحاقہ میں ” رسول کریم “ سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، سو اسی طرح التکویر : ١٩ میں بھی ” رسول کریم “ سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 19