ذِىۡ قُوَّةٍ عِنۡدَ ذِى الۡعَرۡشِ مَكِيۡنٍ – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 20
sulemansubhani نے Saturday، 23 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ذِىۡ قُوَّةٍ عِنۡدَ ذِى الۡعَرۡشِ مَكِيۡنٍ ۞
ترجمہ:
جو قوت والا ہے عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔
التکویر : 20 میں ” ذی قوۃ ٍ “ کی صفت کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منطبق ہونا
” ذی قوۃ ٍ “ سے مراد بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، کیونکہ جس قرآن کے نزول کو پہاڑ برداشت نہ کرسکے گا اگر وہ قرآن پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو وہ خشیت ِ الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، آپ پر وہ کلام پورا نازل ہوا اور آپ کی طمانیت میں کوئی فرق نہیں آیا اور اللہ عزوجل کی جس تجلی کو پہاڑ طور سہارنہ سکا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس تجلی کو دیکھ کر بےہوش ہوگئے، آپ نے اس ذات کو بھی بلا حجاب جاگتے ہوئے اس طرح دیکھا کہ دکھانے والے نے بھی داد دی کہ ” مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی۔ “ (النجم : ١٧) نہ آپ کی نظر کج ہوئی نہ حد سے آگے بڑھی، سو آپ کی قوت کا کیا ٹھکانہ کہ سدرۃ المنتیٰ سے آگے جانے سے حضرت جبریل کے پر جلتے ہیں اور آپ بڑے اطمینان سے اس سے آگے گئے اور آپ کی طاقت کا کیا کہنا کہ آپ نے وہ کلام سنا جس کو کوئی مخلوق سن نہیں سکتی اور اس ذات کو بےحجاب دیکھا جس کو کوئی دیکھا نہیں سکتا، اس کے مقابلہ میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کا چند بستیوں کو پلٹ دینا کیا نسبت رکھتا ہے۔
التکویر : ٢٠ میں چوتھی صفت اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز اور وجیہ ہونے کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منطبق ہونا
حضرت جبریل کی چوتھی صفت یہ تھی کہ وہ عرش والے کے نزدیک مکرم اور معزز ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ عزوجل کے نزدیک مکرم اور معزز ہیں، اس کا کوئی کیا اندازہ کرسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں آیات اور احادیث حسب ذیل ہیں :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اور وجاہت کے متعلق قرآن مجید کی آیات
وَمِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی۔ (طہٰ : ١٣٠)
آپ رات اور دن کے اوقات میں اللہ کی تسبیح پڑھیے تاکہ آپ راضی ہوجائیں۔
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ (الضحیٰ : ٥)
اور عنقریب آپ کو آپ کا رب اتنا عطاء کرے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔
قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَا (البقرہ : ١٤٤ )
بے شک ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف مڑنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے پر آپ راضی ہیں۔
عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔ (بنی اسرائیل : ٧٩)
عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و وجاہت کے متعلق احادیث
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ میں یہ گمان کرتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش پوری فرمانے میں بہت جلدی کرتا ہے۔
( صحیح بخاری رقم الحدیث : ٤٧٨٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥١٣)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور یہ میں فخر یہ نہیں کہتا، اور میرے ہی ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا، اور آدم اور ہر نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ میں فخر یہ نہیں کہتا اور میں ہی سب سے پہلے زمین سے اٹھوں گا اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦١٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٠٨، مسند احمد ج ٣ ص ٢ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
سنو ! میں اللہ کا محبوب کہوں اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا، اور میں ہی قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھائے ہوں گا جس کے تحت حضرت آدم اور ان کے ماسوا سب ہوں گے اور یہ میں فخر یہ نہیں کہتا، اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور قیامت کے دن سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا، اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹائوں گا تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے لیے کھول دے گا، تو اس جنت میں میں داخل ہوں گا اور میرے ساتھ فقراء مؤمنین ہوں گے اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا، اور میں تمام اولین اور آخرین سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مکرم ہوں اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦١٦، سنن دارمی رقم الحدیث : ٤٧ )
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور یہ میں فخر یہ نہیں کہتا، اور میں خاتم النبیین ہوں اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا، اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی اور یہ میں فخریہ نہیں کہتا۔
( سنن دارمی رقم الحدیث : ٤٩ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
مجھے انبیاء (علیہم السلام) پر چھ وجوہ سے فضلیت دی گئی ہے : (١) مجھے جوامع الکلم ( جامع مانع باتیں) دی گئی ہیں (٢) رعب سے میری مدد کی گئی ہے (٣) میرے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے (٤) میرے لیے تمام روئے زمین کو پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ اور مسجد بنادیا گیا ہے (٥) مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے (٦) مجھ پر انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢٣ )
اس حدیث میں تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام مخلوق کے رسول ہیں اور بہ شمول حضرت جبریل تمام ملائکہ بھی مخلوق میں داخل ہیں، لہٰذا آپ ان کے بھی رسول ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
میرے دور وزیر آسمان کے ہیں : جبریل اور میکائل، اور میرے دو وزیر زمین کے ہیں : ابوبکر اور عمر۔
( المستدرک ج ٢ ص ٢٦٥، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٢٦٧٩)
جس نے اپنے اوپر بنائے ہوں وہ ان وزیروں سے افضل ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل اور حضرت میکائل سے افضل ہیں۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
مجھ سے جبریل (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے تمام روئے زمین کے مشارق اور مغارب کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا، مجھے کوئی شخص سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل نہیں ملا۔
( المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٢٨١، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ١٧٦، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢١٧، الخصائص الکبریٰ ج ١ ص ٦٦ )
اس حدیث میں خود حضرت جبریل نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ پوری کائنات میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے افضل ہیں۔ پوری کائنات میں بہ شمول حضرت جبریل تمام فرشتے بھی ہیں، لہٰذا ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل سے افضل ہیں۔ اگر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور باقی انبیاء (علیہم السلام) حضرت جبریل کی امت ہوتے تو حضرت جبریل سب سے افضل ہوتے، حالانکہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور بالخصوص ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل سے افضل ہیں تو آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا کہ امام رازی کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) تمام انبیاء کے رسول ہیں اور تمام انبیاء ان کی امت ہیں۔
کیا کوئی ہمیں بتاسکتا ہے کہ ان احادیث و آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو عزت و وجاہت اور قدر و منزلت بیان کی گئی ہے، اس کے مقابلہ کی کوئی عظمت، حضرت جبریل (علیہ السلام) کے لیے بھی قرآن اور حدیث میں ہے ؟
القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 20