فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 15
sulemansubhani نے Saturday، 23 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ۞
ترجمہ:
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں قسم کھانا ہوں پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی۔ چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب جانے لگے۔ اور صبح کی جب چمکنے لگے۔ بیشک یہ معزز رسول کا قول ہے۔ جو قوت والا ہے عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔ جس کی آسمانوں میں اطاعت کی جاتی ہے وہاں امانت دار ہے۔ اور تمہارے نبی مجنون نہیں ہیں۔ اور بیشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا۔ اور وہ (نبی) غیب کی خبر دینے پر بخیل نہیں ہیں۔ اور یہ ( قرآن) شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ سو تم کہاں جا رہے ہو ؟۔ بیشک وہ تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھنا چلنا چاہے۔ اور تم صرف وہی چاہتے ہو جس کو اللہ رب العلمین چاہتا ہے۔ ( التکویر : ۲۹۔ ۱۵ )
التکویر : ۱۶۔ ۱۵ میں فرمایا : میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی۔ چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی۔
” الخنس “ اور ” الکنس “ کے معانی
اس آیت میں ” الخنس “ کا لفظ ہے، یہ ” خانس “ اسم فاعل کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : پیچھے ہٹ جانے والے، پھرجانے والے، رک جانے والے، چھپ جانے والے، بعض مفسرین کے نزدیک اس سے ستارے مراد ہیں کیونکہ وہ دن میں چھپ جاتے ہیں اور بعض کے نزدیک چاند اور سورج کے علاوہ پانچویں سیارے ہیں جن کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں یعنی مریخ، زحل، عطارد، زہرہ اور مشتری کیونکہ ان کی چال اس طرح ہے کہ کبھی یہ مشرق سے مغرب کی طرف چلتے ہیں اور کبھی اس کے برعکس چلتے ہیں اور کبھی سورج کے نزدیک آ کر غائب ہوجاتے ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے مراد نیل گائے ہے کیونکہ اس میں بھی پیچھے ہٹنے، پھرجانے، رکنے اور چھپنے کی صفت ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٥٥٨ ھ لکھتے ہیں :
فزاء نے کہا : اس سے مراد ستارے ہیں اور ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور امام عبد الرزاق نے سند صحیح کے ساتھ عمرو بن شرحبیل سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے مجھ سے پوچھا کہ الخنس کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : میرا گمان ہے کہ وہ نیل گائے ہے، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : میرا بھی یہی گمان ہے، اور حسن بصری نے کہا : اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو دن میں چھپ جاتے ہیں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 81 التكويرآیت نمبر 15