أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيۡنٍؕ ۞

ترجمہ:

جس کی آسمانوں میں اطاعت کی جاتی ہے وہاں امانت دار ہے.

 

التکویر : ٢١ میں ” مطاع “ کی صفت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منطبق ہونا

ان آیتوں میں پانچویں صفت ” مطاع “ ہے، جس کا معنی ہے : وہ شخص جس کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ” مطاع “ ہونے کا ذکر درج ذیل آیات میں ہے :

قُلْ اَطِیْعُوا اللہ وَالرَّسُوْلَ ج (آل عمران : ٣٢) آپ کہہ دیجئے : اللہ کی اور ( اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ ج (النسائ : ٨٠) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے بیشک اللہ کی اطاعت کی۔

کیا حضرت جبریل کے لیے بھی کہا گیا ہے کہ جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللہ عزوجل کی اطاعت کرلی ؟ تو معلوم ہوا کہ اصل مطالع تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

التکویر : ٢١ میں ” امین “ کی صفت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منطبق ہونا

ان آیتوں میں چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ امانت دار ہیں اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ وحی پہنچانے میں امانت دار ہیں اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بندوں تک وحی پہنچانے میں بھی امانت دار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اسرار اور اس کی حکمتوں کے رکھنے میں بھی امانت دار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے غیوب پر بھی امانت دار ہیں اور مخلوق کی امانتیں رکھنے میں بھی امانت دار ہیں، حتیٰ کہ جان کے دشمن بھی آپ ہی کے پاس امانتیں رکھواتے تھے، تو کیوں نہ کہا جائے کہ اس آیت میں ” امین “ سے مراد بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کی پہلی صفت ” رسول “ ہے، سو آپ رسول ہیں۔ دوسری صفت ” کریم “ ہے، سو آپ اللہ عزوجل کے نزدیک مکرم ہیں۔ تیسری صفت ” ذی قوۃ ٍ “ ہے اور آپ کائنات میں سب سے بڑھ کر قوی ہیں۔ چوتھی صفت عرش والے کے نزدیک معزز ہوتا ہے، سو آپ اللہ عزوجل کے نزدیک عزت اور وجاہت والے ہیں، پانچویں صفت ” مطاع “ ہے تو آپ کی سب سے زیادہ اطاعت کی گئی، اور چھٹی صفت امانت دار ہونا ہے، سو آپ سب سے بڑھ کر امانت دار ہیں، لہٰذا ان چھ صفات کے اعلیٰ مصداق عزت جبریل (علیہ السلام) کی بہ نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

جن مفسرین نے التکویر : ١٩ میں ” رسول کریم “ سے حضرت جبریل کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی مراد لیا ہے

اب ہم یہ بتائیں گے کہ کن مفسرین نے حضرت جبریل کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان آیات کا مصداق قرار دیا ہے :

علامہ ابو المظفر منصور بن محمد السمعانی الشافی المتوفی ٤٨٩ ھ لکھتے ہیں :

” انہ لقول رسول کریم “ کی تفسیر میں یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ یہ جبریل کا قول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ” رسول کریم “ سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، اور قول اول مشہور ہے۔ ( تفسیر القرآن ج ٦ ص ٦٩، دارالوطن، ریاض، ١٤١٨ ھ)

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

” رسول کریم “ کی تفسیر میں دو قول ہیں : حسن بصری، قتادہ اور ضحاک نے کہا کہ اس سے مراد جبریل ہیں، ابن عیسیٰ نے کہا کہ اس سے مراد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ ( النکت والعیون ج ٦ ص ٢١٨، دارالکتب العلمیہ، بیروت )

ابو جعفر محمد بن الحسن الطوی المتوفی ٤٦٠ ھ لکھتے ہیں :

قتادہ اور حسن بصری نے کہا کہ ’ ’ رسول کریم “ سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں اور انہوں نے کہا کہ یہ بھی صحیح ہے کہ اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (التبیان فی تفسیر القرآن ج ١٠ ص ٢٨٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

قاضی عبد الحق بن غالب بن عطیہ اندلسی متوفی ٥٤٦ ھ لکھتے ہیں :

جمہور متأولین کے نزدیک ” رسول کریم “ سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں اور دیگر مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (المحررالوجیزج ١٦ ص ٢٤٢، المکتبۃ التجاریہ، ١٤١١ ھ)

علامہ محمد بن یوسف ابو الحیان اندلسی الغرناطی المتوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

جمہور کے نزدیک ” رسول کریم “ سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ دوسروں نے کہا ہے کہ کل آیات میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں اور قاضی عیاض نے شفاء میں فرمایا کہ ” مطاع ثم امین “ (التکویر : ٢١) کی تفسیر میں اکثر مفسرین کا مختاریہ ہے کہ اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ ( تفسیر الثعالبی ج ٥ ص ٥٥٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٨ ھ

قاضی محمد ثناء اللہ مظہری پانی پتی حنفی متوفی ١١٢٥ ھ لکھتے ہیں :

” رسول کریم “ سے مراد جبریل ہیں یا پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

(تفسیر مظہری ج ١٠ ص ١٧٩، مکتبہ عثمانیہ، کوئٹہ، ١٤٢٥ ھ)

نواب صدیق بن حسن بھوپالی القنوحی المتوفی ١٣٠٧ ھ لکھتے ہیں :

” رسول کریم “ سے مراد جبریل ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں۔

( فتح البیان ج ٧ ص ٣٧٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس سے دو واسطے ہیں، ایک وحی لانے والا فرشتہ جبریل (علیہ السلام) اور دوسرا پیغمبر عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں :

خیال رہے کہ جبریل (علیہ السلام) بھی اللہ کے رسول ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی، لیکن ان کی رسالتوں میں کئی فرق ہیں، ایک یہ کہ حضرت جبریل صرف نبیوں کے لیے رسول ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری مخلوق کے لیے، دوسرا یہ کہ حضرت جبریل کی رسالت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے ختم ہوگئی مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ابدالآباد تک قائم رہے گی، تیسرا یہ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) با اختیار رسول ہیں، حضرت جبریل بےاختیار جیسے ڈاکیہ اور سفیر، اس لیے حضرت جبریل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہیں، نہ کہ اس کے برعکس ( نور العرفان ص ٩٣٧۔ ٩٣٦، ادارہ کتب اسلامیہ، گجرات)

مفتی محمد شیخ دیو بندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ ” رسول کریم “ سے مراد ( سیدنا) محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرار دیا ہے اور صفات مذکورہ کو کسی قدر تکلف سے آپ کی ذات پر منطبق کیا ہے۔ واللہ اعلم ( معارف القرآن ج ٨ ص ٦٨٤، ادارۃ المعارف، کراچی، ١٤١٤ ھ)

اس طویل ترین بحث سے قارئین پر جہاں یہ واضح ہوا کہ التکویر میں ذکر کردہ صفات کے مصداق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوسکتے ہیں، وہاں یہ بھی واضح ہوگیا کہ امام رازی کا تمام رسولوں کو حضرت جبریل کی امت قرار دیناصحیح نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ بہ شمول حضرت جبریل تمام فرشتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں شامل ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 21