أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۞

ترجمہ:

اور صبح کی جب چمکنے لگے۔

التکویر : 18 میں فرمایا : اور صبح کی جب چمکنے لگے۔

اس سے مراد ہے : جب صبح کی روشنی طور سے پھیل جائے۔

حضرت جبر یل (علیہ السلام) کی چھ صفات کا تذکرہ اور امام رازی کا تمام رسولوں کو حضرت جبریل کی امت قرار دینا

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں حضرت جبریل کی چھ صفات ذکر کی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ رسول ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تمام انبیاء کی طرف اللہ کے رسول ہیں، سورة رسول ہیں اور تمام انبیاء ان کی امت ہیں۔ درج ذیل آیتوں سے بھی یہی مراد ہے :

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ (النحل : ٢)

وہی جبریل کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے نازل فرماتا ہے۔

عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ۔ (الشعرا : ٤٩١۔ ٥٩١)

جس کو الروح الامین ( جبریل) لے کر نازل ہوئے ہیں۔ آپ کے قلب کے اوپر تاکہ آپ ( اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں۔

اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کریم ہیں اور ان کا کرم یہ ہے کہ وہ افضل چیز عطاء کرتے ہیں اور وہ معرفت اور ہدایت ہے۔ تیسری اور چوتھی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ قوی ہیں اور عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں۔ ( التکویر : ٠٢) ان کی قوت یہ ہے کہ ایک روایت کے مطابق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوت کا ذکر فرمایا ہے، تو آپ کی قوت کا کیا اندازہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو چار بستیوں کو اپنے ایک پر کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھا لیا تھا، حتیٰ کہ آسمان والوں نے کتوں اور مرغیوں کی آوازیں سنیں اور مقاتل نے ذکر کیا ہے کہ ابلیس نامی شیطان نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت جبریل نے اس کو معمولی سی ضرب لگائی، جس کے نتیجہ میں وہ مکہ سے ہند کے پر لے سرے میں جا پڑا اور بعض مفسرین نے کہا : اس قوت سے مراد ہے : اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور اس میں خلل نہ آنے دینا، ان کی تخلیق کی ابتداء سے لے کر آخرت تک اور ان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے جلال ذات کے مشاہدہ کی جو قدرت ہے وہ یہاں مراد ہے۔

چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت معزز اور بہت مکرم ہیں۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کی ( آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے ( عرش والے کے نزدیک) امانت دار ہیں) (التکویر : ١٢)

اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرشتوں میں واجب الاطاعت ہیں، وہ ان ہی کے حکم سے آتے ہیں اور جاتے ہیں۔

چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو خیانت کرنے سے اور لغزش کرنے سے محفوظ اور مامون رکھا ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ٠٧۔ ٩٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

امام رازی نے یہی تقریر البقرہ 30 کی تفسیریں بھی کی ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١ ص ٦٨٣)

فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ پوری تفسیر کبیر امام رازی ہی کی لکھی ہوئی ہے اور علامہ ابن خلکان متوفی ١٨٦ ھ علامہ شمس الدین ذہبی متوفی ٨٤٧ ھ، حاجی خلیفہ اور حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٢٥٨ ھ نے جو یہ لکھا ہے کہ امام رازی تفسیر کبیر کو مکمل نہیں کرسکے، یہ خلاف تحقیق ہے۔ دراصل ان علماء کرام نے پوری تفسیر کبیر کا مطالعہ نہیں فرمایا، ورنہ یہ حضرات یہ بات کہتے کہ امام رازی کی وفات کے بعد تفسیر کو علامہ احمد قمولی متوفی ٧٢٧ ھ نے مکمل کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرمائے، انہوں نے انجانے میں امام رازی کے کمالات علامہ قمولی سے منسوب کردیئے۔

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بہ شمول جبریل امین تمام فرشتوں سے افضل ہوتا۔۔۔۔۔ اور امام رازی کا رد

امام رازی نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کی جو چھ صفات ذکر فرمائی ہیں، ہم کو صرف پہلی صفت کی تفسیر میں ان سے اختلاف ہے، کیونکہ اس پہلی صفت کی تفسیر میں انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) تمام انبیاء کی طرف رسول ہیں اور تمام انبیاء (علیہم السلام) ان کی امت ہیں اور چونکہ رسول اپنی امت سے افضل ہوتا ہے، اس سے یہ لازم آیا ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) تمام رسولوں سے افضل ہوں، جب کہ اس کے بر خلاف دلائل سے یہ ثابت ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) حضرت جبریل سے افضل ہیں اور جبریل (علیہ السلام) ان سے مفضول ہیں، اور ان کی خدمت کرنے پر مامور ہیں۔ اس سلسلہ میں دلائل حسب ذیل ہیں :

اِنَّ اللہ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (آل عمران : ٣٣)

بے شک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو ( ان کے زمانہ میں) تمام جہانوں پر بزرگی دی۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح کو اور آل ابراہیم ( حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل اور تمام انبیاء بنی اسرائیل) اور آل عمران ( یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو تمام جہانوں پر فضلیت دی ہے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر آل ابراہیم میں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک تمام انبیاء (علیہم السلام) کو تمام جہانوں پر فضلیت عطاء فرمائی اور تمام جہانوں میں بہ شمول حضرت جبریل (علیہ السلام) تمام ملائکہ مقربین اور دیگر تمام ملائکہ شامل ہیں۔

(٢) فسجدا الملئکۃ کلھم اجمعون۔ (الحجر : ٠٣، ص : ٣٧) تو سب کے سب فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا۔

اس آیت میں تمام فرشتوں کے معنی کو مؤکد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین الفاظ ذکر فرمائے ہیں : (١) ” الملائکۃ “ یہ جمع معرف بلام الاستغراق ہے (٢) ” کلھم “ ( ٣) ” اجمعون “۔

امام رازی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ خلیل اور سیبویہ نے کہا ہے کہ ” کلھم اجمعون “ میں ایک تاکید کے بعد دوسری تاکید ہے۔ مبرد سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف یہ فرماتا کہ فرشتوں نے سجدہ کیا تو یہ احتمال ہوتا کہ بعض فرشتوں نے سجدہ کیا، جب ” کلھم “ فرمایا تو یہ احتمال زائل ہوگیا اور ظاہر ہوگیا کہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، پھر یہ احتمال رہا کہ انہوں نے مختلف اوقات میں سجدہ کیا، سو جب ” اجمعون “ فرمایا تو یہ احتمال بھی زائل ہوگیا اور واضح ہوگیا کہ سب فرشتوں نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا تھا۔ ( تفسیر کبیر ج ٧ ص ٠٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

امام رازی سورة ص میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

رہا یہ کہ زمین کے تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا یا اس میں آسمانوں کے فرشتے بھی داخل ہیں، جیسے حضرت جبریل اور حضرت میکائیل اور الروح الاعظم، جس کا ذکر اس آیت میں ہے :

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ط (النبا : ٨٣) جس دن حضرت جبریل اور تمام فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔

سو اس میں بہت دقیق مباحث ہیں۔ ( تفسیر کبیر ج ٩ ص ٠١٤)

امام رازی کچھ بھی نہیں، بہ ہرحال قرآن مجید کی اس نص قطعی سے یہ ثابت ہوگیا کہ بلا استثناء تمام فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا اور اس میں واضح طور پر حضرت جبریل بھی شامل ہیں اور اس سجدہ کا حکم جبھی دیا گیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضلیت علمی تمام فرشتوں پر ثابت کردی اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان تمام چیزوں کے نام بتا دیئے جن کے نام فرشتے نہ بتاسکے تھے اور اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ کریں اور یہ بات معروف اور ثابت ہے کہ جس کو سجدہ کیا جائے، وہ اس سے افضل ہوتا ہے جو اس کو سجدہ کرے، لہٰذا حضرت آدم (علیہ السلام) بہ شمول حضرت جبریل تمام فرشتوں سے افضل قرار پائے۔

وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط (البقرہ : ٠٣)

اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا : بیشک میں زمین میں ایک خلیفہ ( نائب) بنانے والا ہوں۔

یدائود انا جعلنک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق (ص : ٦٢ )

اے دائود ! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنادیا ہے، تو آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیجئے۔

ان دونوں آیتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت دائود ( علیہما السلام) کو اپنا خلیفہ بنایا ہے اور خلیفہ کا معنی ہے : نائب اور قائم مقام، سو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علہیم السلام کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا ہے، جب کہ کسی فرشتے کو اپنا نائب اور خلیفہ نہیں بنایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) بہ شمول جبریل امین تمام فرشتوں سے افضل ہیں۔

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ (الفرقان : ١)

وہ ذات بہت بابرکت ہے جس نے ( حق اور باطل کے درمیان) فیصلہ کرنے والی کتاب کو اپنے مقرب بندہ پر بہ تدریج نازل فرمایا، تاکہ وہ ( بندہ خاص) تمام جہان والوں کے لیے ( اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے ہوجائیں۔

تمام جہانوں میں حضرت جبریل بھی شامل ہیں، سو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت جبریل بھی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں ہیں۔

(٥) وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین۔ (الانبیا : ٧٠١) اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

اس آیت سے واضح ہوا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہ شمول حضرت جبریل تمام فرشتوں کے لیے رحمت ہیں، کیونکہ وہ بھی تمام جہانوں کے عموم میں داخل ہیں اور جو رحمت ہو وہ اس سے افضل ہوتا ہے جس کے لیے وہ رحمت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل سے افضل ہیں۔

(٦) فرشتوں کے افضل ہونے کی معتزلہ یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت بہت کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور اس پر درج ذیل آیات سے استدلال کرتے ہیں :

وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ۔ (النحل : ٠٥) اور وہ (فرشتے) وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

لاَّ یَعْصُوْنَ اللہ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ۔ (التحریم : ٦)

وہ ( فرشتے) اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرنے سے کوئی مانع اور مزاحم نہیں ہے۔ ان میں نہ بھوک اور پیاس ہے نہ شہوت اور غضب، جب کہ انسان میں اللہ تعالیٰ نے بھوک و پیاس بھی رکھی، شہوت، غضب اور نیند بھی رکھی ہے، تو انسان کی عبادت کے لیے یہ چیزیں موانع اور رکاوٹیں ہیں۔ ان موانع اور رکاوٹوں کے باوجود انسان کا اللہ عزوجل کی عبادت کرنا فرشتوں کی عبادت سے کہیں افضل ہے، لہٰذا عام فرشتوں کی عبادتوں سے عام مؤمنین کی اطاعت اور عبادت افضل ہے اور خاص فرشتوں ( مثلاً حضرت جبریل، حضرت میکائیکل (علیہما السلام) وغیرہما) کی عبادت اور اطاعت سے انبیاء (علیہم السلام) کی اطاعت اور عبادت افضل ہے، لہٰذا واضح ہوا کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) بہ شمول جبریل امین تمام فرشتوں سے افضل ہیں۔

(٧) وَ اِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ۔ (الانفطار : ٠١۔ ١١)

بے شک تمہارے اوپر محافظ فرشتے مقرر ہیں۔ (جو) معزز لکھنے والے (ہیں) ۔

سو مؤمنین محفوظ ہیں اور فرشتے ان کے محافظ، اسی طرح فرشتے انبیاء (علیہم السلام) کی بھی حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ درج ذیل آیت میں ہے :

فَاِنَّہٗ یَسْلُـکُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ (الجن : ٧٢)

پس بیشک اس رسول کے آگے اور پیچھے ( ہر طرف) نگہبان مقرر فرما دیتا ہے۔

یہ قاعدہ ہے کہ جس کی حفاظت کی جائے وہ اپنے محافظ سے افضل ہوتا ہے۔ عام مؤمنین کے محافظ عام ملائکہ ہیں اور خواص انبیاء کرام کے محافظ رسل ملائکہ ہیں، لہٰذا عام مؤمنین عام ملائکہ سے افضل ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) رسل ملائکہ سے افضل ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 18