وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 29
sulemansubhani نے Saturday، 23 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور تم صرف وہی چاہتے ہو جس کو اللہ رب العلمین چاہتا ہے ؏
التکویر : ٢٩ میں فرمایا : اور تم صرف وہی چاہتے ہو جس کو اللہ رب العلمین چاہتا ہے۔
ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ استقامت کا فعل استقامت کے ارادہ پر موقوف ہے اور یہ ارادہ اس پر موقوف ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ارادہ عطاء فرمائے، خلاصہ یہ ہے کہ بندوں کے افعال اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں، امام رازی فرماتے ہیں : یہ ہمارے اصحاب کا قول ہے، اس باب میں تحقیق یہ ہے کہ بندہ جس فعل کو اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں وہ فعل پیدا فرما دیتا ہے، بندہ کے اختیار کو کسب کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فعل کو خلق کہتے ہیں، بندہ کا سب ہے اور اللہ تعالیٰ خالق ہے، اس کی تفصیل الدھر : ٣٠ میں گزر چکی ہے۔
سورة التکویر کا اختتام
الحمد للہ رب العلمین ! آج ٢٩ رجب ١٤٢٦ ھ/٤ ستمبر ٢٠٠٥ ئ، بہ روز ہفتہ سورة التکویر کی تفسیر مکمل ہوگئی، ٢ ستمبر کو اس سورت کی تفسیر شروع کی تھی، اس طرح تین روز میں اس کی تفسیر مکمل ہوئی۔
اے میرے رب ! آپ اس تفسیر کی مکمل کرا دیں اور میری مغفرت فرما دیں۔
والحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدالمرسلین وعلیٰ آلہٖ و اصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین۔