أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور وہ (نبی) غیب کی خبر دینے پر بخیل نہیں ہیں۔

التکویر : ٢٤۔ ٢٢ میں فرمایا : اور تمہارے نبی مجنوں نہیں ہیں۔ اور بیشک انہوں نے اس روشن کنارے پر دیکھا۔ اور وہ (نبی) غیب کی خبر دینے پر بخیل نہیں ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت جبریل کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا اور ” ضنین “ کا معنی

بعض اہل مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہتے تھے، التکویر : ٢٢ میں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ تمہارے پیغمبر مجنوں تھیں۔ اور التکویر : ٢٣ میں فرمایا : انہوں نے حضرت جبریل کو آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا۔

ابو الاحوس اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٨٣١١)

عامر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں صرف ایک مرتبہ دیکھا ہے، حضرت جبریل آپ کے پاس حضرت دحیہ کی صورت میں آتے تھے، ایک دن وہ آپ کے پاس ایسی صورت میں آئے جس نے آسمان کے تمام کناروں کو بھر لیا تھا، ان پر سبز ریشم کا لباس تھا، جس پر موتی لٹک رہے تھے اور یہ اس آیت کا مصداق ہے :” ولقد راہ بالافق المبین “ (التکویر : ٢٣) ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٨٣١٢)

زر بیان کرتے ہیں کہ ” الضنین “ کا معنی بخیل ہے اور غیب سے مراد قرآن مجید ہے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٨٣١٣)

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ قرآن غیب ہے، پس اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن عطاء کیا، آپ نے اس کی تعلیم دی اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسکے ساتھ بخل نہیں کیا۔

ابن زید نے کہا : ” الغیب “ القرآن ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ساتھ بخل نہیں کیا، لوگوں تک اس کو پہنچایا اور اس کی تبلیغ کی، اللہ تعالیٰ نے الروح الامین جبریل کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور جبریل نے اس کو پہنچایا، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے امانت دی تھی اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس امانت کو اللہ کے بندوں تک پہنچایا، میں سے کسی نے بخل نہ چھپایا۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٨٣١٨)

القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 24