أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتۡ ۞

ترجمہ:

جب آسمان پھٹ جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔ اور جب سمندر ( اپنی جگہ سے) بہا دیئے جائیں گے۔ اور جب قبریں شق کردی جائیں گی۔ تو ہر شخص جان لے گا کہ اس نے پہلے کیا عمل کیا تھا اور بعد میں کیا کیا تھا۔ ( الانفطار : ٥۔ ١)

قیامت کے احوال اور آثار کے ذکر سے مقصود انسان کو ڈرانا ہے

الانفطار : ١ میں فرمایا : جب آسمان پھٹ جائے گا۔

آسمان کے پھٹنے کا قرآن مجید کی متعدد آیات میں ذکر ہے :

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلًا۔ (الفرقان : ٢٥ )

اور جس دن آسمان بادل سمیٹ پھٹ جائے گا اور فرشتوں کو لگا تار اتار جائے گا۔

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالْدِّہَانِ ۔ (الرحمن : ٣٧)

پس جب آسمان پھٹ کر سرخ ہوجائے گا جیسے سرخ چھڑ۔

اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ ۔ (الانشقاق : ١) اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔

امام ابو منصور محمد بن محمد بن محمو ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

سورۃ الانفطار میں آسمان کے پھٹنے کا ذکر ہے اور دوسری سورت میں آسمان کے کھولنے کا ذکر ہے :

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ اَبْوَابًا۔ (النبا : ١٩) اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے ہوجائیں گے۔

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آسمان کے پھٹنے کا معنی یہ ہے کہ اس میں دروازے بن جائیں گے اور بعض نے کہا : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ قیامت کب آئے گی تو فرمایا : جب آسمان پھٹ جائے گا اور یہ تفسیر زیادہ قریب ہے کیونکہ یہ آیت ڈرانے اور دہلانے کے لیے ہے، اور آسمان کے دروازے کھلنے سے وہ ڈرا اور خوف نہیں ہوتا جو آسمان کے پھٹنے سے ہوتا ہے۔

پھر آسمان کے پھٹنے، ستاروں کے جھڑنے، سمندروں کے بہانے، پہاڑوں کو چلانے اور زمین کو ہم وار میدان بنانے کے ذکر میں قیامت کے آثار اور احوال کا بیان ہے، اور اس میں یہ اشارہ نہیں ہے کہ ایسا کس وقت ہوگا، کیونکہ اس کے وقوع کے وقت پر مطلع ہونے سے ڈر اور خوف پیدا نہیں ہوگا اور اس کے آثار کے ذکر کرنے سے ڈر اور خوف پیدا ہوگا اور وہ ایسا شدید ہولناک دن ہوگا کہ قوی اور غالب چیزیں بھی اپنی جگہ برقرار نہیں رہیں گی، پہاڑوں، زمینوں اور آسمانوں میں تغیرات برپا ہوجائیں گے :

وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ۔ (القارعہ : ٥) اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔

سو جب پہاڑوں، زمینوں اور آسمانوں کا یہ حال ہوگا کہ تو ضعیف جسامت والے انسان کا کیا حال ہوگا !

آسمان، زمین اور پہاڑ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرتے ہیں اور سرمونافرمانی نہیں کرتے، وہ قیامت کے دن ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو انسان جو ان کے مقابلہ میں کمزور جسامت کا ہے، اس کے اعمال خبیث ہیں اور اس نے اللہ تعالیٰ کی بہت نافرمانیاں کی ہیں اس کا کیا حال ہوگا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے یہ احوال اور آثار بیان فرمائے تاکہ انسان ان ہولناک آثار پر مطلع ہو کر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کی نافرمانی کرنے اور گناہوں سے باز آجائے، اس وجہ سے ان امور کو بیان فرمایا۔

قیامت کے ان احوال کو بیان فرمایا اور یہ نہیں بتایا کہ قیامت کے وقوع کا وقت کیا ہے، اسی وجہ سے انسان کی عمر کی انتہاء نہیں بیان کی گئی تاکہ انسان ہر وقت ڈرتا رہے، کہیں اسی وقت اس کی موت نہ آجائے اور ہر وقت گناہوں سے باز رہے کہ کہیں گناہ کی حالت میں اسے موت نہ آجائے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے احوال قرآن مجید کی متعدد سورتوں میں بیان فرمائے ہیں اور اس کی دو وجہیں ہیں :

(١) انسان کے دل کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں، بعض اوقات وہ ایک مرتبہ کسی چیز کا ذکر سن کر اثر نہیں لیتا لیکن جب بار بار کسی چیز کا ذکر کیا جائے تو اس کا دل و دماغ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، بعض دفعہ وہ کسی چیز کا ذکر سرسری طور پر سنتا ہے اور بعض دفعہ وہ اس چیز کو بہت توجہ اور غور سے سنتا ہے اور اثر پذیر ہوتا ہے۔

(٢) اس زمانہ میں لوگ نئے نئے اسلام لائے تھے اور بار بار وعظ اور نصیحت کے ذکر سے ان کے دل نرم ہوتے تھے اور ان کا ایمان قوی ہوتا تھا۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٣٩٨۔ ٣٩٧، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، بیروت، ١٤٢٥ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 1