أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَاَخَّرَتۡؕ‏ ۞

ترجمہ:

تو ہر شخص جان لے گا کہ اس نے پہلے کیا عمل کیا تھا اور بعد میں کیا کیا تھا.

الانفطار : ٥ میں فرمایا : تو ہر شخص جان لے گا کہ اس نے پہلے کیا عمل کیا تھا اور بعد میں کیا کیا تھا۔

انسان کے مقدم اور مؤخر اعمال کے محامل

یعنی تمام لوگ جان لیں گے کہ انہوں نے دنیا میں اول سے لے کر آخرت تک کیا عمل کیے تھے اور ان کے اوپر اپنا کوئی عمل مخفی نہیں رہے گا اور بعض مفسرین نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے دنیا میں جو بھی نیک کام کیے تھے یا برے کام کیے تھے، قیامت کے دن وہ ان سب کاموں کو جان لے گا اور بعض مفسرین نے کہا کہ اس کے پہلے مقدم کاموں سے وہ کام مراد ہیں جو اس نے خود کیے اور مؤخرکاموں سے وہ کام مراد ہیں جو اس کے نکالے ہوئے طریقہ کے مطابق لوگوں نے اس کے مرنے کے بعد کیے، خواہ وہ نیک کامو ہوں یا برے کام ہوں۔

ضحاک نے کہا : جن کاموں کو اس نے مقدم کیا، اس سے مراد فرائض ہیں اور جن کو اس نے مؤخر کیا اس سے مراد ہے : جن فرائض کو اس نے ضائع کردیا۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ انسان کو اس کے ان کاموں کا کب علم ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کو ان کاموں کا علم اجمالی تو حشر کے شروع میں ہوجائے گا کیونکہ نیکو کار سعادت کے آثار اور بدکار شقاوت کے آثار اول امر میں ہی دیکھ لے گا اور اس کو علم تفصیلی اس وقت ہوگا جب اس کے سامنے اس کا اعمال نامہ پیش کیا جائے گا اور جب اس سے حساب لیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 5