أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا الۡكَوَاكِبُ انْتَثَرَتۡ ۞

ترجمہ:

اور جب ستارے جھڑ جائیں گے

الانفطار : ٢ میں فرمایا : اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔

ستاروں کے جھڑنے کی توجیہ

ستاروں کا جھڑنایا اس وجہ سے ہوگا کہ ستاروں کی تخلیق مخلوق کو نفع پہنچانے کے لئے کی گئی تھی، سو جب قیامت کے بعد مخلوق ہی نہیں رہے گی تو ستاروں کی بھی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ اب اندھیری راتوں میں ستاروں سے رہ نمائی حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، دوسری وجہ یہ ہے کہ ستاروں کو آسمان کی زینت کے لیے بنایا گیا ہے تو جب آسمان ہی پھٹ جائیں گے تو ان کی زینت کے لیے ستاروں کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 2